برطانیہ، پاکستان کے لیے انڈیا اور افغانستان سے زیادہ خطرناک ملک ۔۔۔۔۔

0
1642

برطانیہ، پاکستان کے لیے انڈیا اور افغانستان سے زیادہ خطرناک ملک ۔۔۔۔۔ ؟

تصویر میں ٹویٹ کرنے والا بندہ برطانیہ کا معروف سیاسی اور سماجی کارکن ہے۔ 
اس شخص کی وجہ شہرت اسلام سے نفرت ہے۔ یہ برطانیہ میں اسلام مخالف تنظیم ای ڈی ایل کا سرگرم رکن رہا ہے اور آجکل یہ پیگڈا نامی اینٹی اسلام تنظیم کا سربراہ اور چیرمین ہے۔ 
یہ اسلام اور قرآن کے خلاف ایک گستاخانہ ویب سائیٹ بھی چلا رہا ہے۔ 

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس نے ٹویٹ میں بلوچستان کو پاکستان کا مقبوضہ علاقہ قرار دیا ہے۔

آزاد بلوچستان کی تحریک چلانے والے بہت سے لوگ اس کے فالورز ہیں اور انہیں اسکی اسلام دشمنی سے قطعاً کوئی شکایت نہیں۔

اسکا پسندیدہ ترین “مسلمان” الطاف حسین ہے جس کے اقوال ذریں یہ کبھی کبھی شیر کر لیتا ہے ۔۔۔ 

یہ ایسا ہی ہے جیسے پاکستان میں بیٹھ کر کوئی شخص انگلینڈ سے سکاٹ لینڈ الگ کرنے کی تحریک چلائے۔

لیکن برطانوی حکومت اس پر خاموش ہے۔

الطاف حسین کو برطانیہ نے پناہ دے رکھی ہے جو پاکستان میں بلا مبالغہ ہزاروں لوگوں کو مروا چکا ہے۔
برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف اعلان جنگ کرچکا ہے اور پاکستان میں دہشت گردانہ کاوائیوں کے لیے را اور موساد سے اعلانیہ ہتھیار مانگتا ہے۔
بظاہر کوئی آمدن نہ ہونے کےباؤجود انگلینڈ میں شاہانہ زندگی گزار رہا ہے۔

وہ برطانیہ جہاں غلط پارکنگ کر لیں تو پولیس گھر تک آجاتی ہے الطاف حسین کے معاملے میں بلکل خاموش ہے۔

برطانیہ نے ہربیار مری اور براہمداغ بگٹی کو بھی پناہ دے رکھی ہے جو بلوچستان میں دہشت گردی کرنے والی کئی تنظمیوں کی سربراہی کر رہے ہیں۔
اس وقت بی ایل اے کی کمانڈ بھی عملاً انہی کے پاس ہے جس کو برطانیہ نے خود بھی دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے ۔۔۔ 
ان دو شخصیات کی بدولت پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں آگ لگی ہوئی ہے۔

لیکن برطانیہ چپ ہے۔

برطانیہ داعش کو جنگجو فراہم کرنے والا ایک بڑا ملک رہا ہے۔ جہاں الماجرون کے نام سے کام کرنے والی تنظیم اس کے لیے کھلے عام بھرتیاں کرتی رہی ہے۔ اس تنظیم کو چلانے والے عمر بکری اور انجم چودھری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایم ائی 6 کے ایجنٹ ہیں۔
داعش اس وقت پاکستان میں اپنے حملوں کا آغاز کر چکی ہے۔
کراچی میں چند دن پہلے نمودار ہونے والی تنظیم انصار شریعہ کے حوالے سے خبریں ہیں کو اس کو خواجہ اظہار الحسن کے قتل کا ٹاسک ایم کیو ایم لندن کی طرف سے ملا تھا۔

یہ سب برطانیہ کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے۔

پاکستان کو مجموعی طور پر تقریبا 100 ارب ڈالر کا نقصان پہنچانے والے آصف زرداری، نواز شریف حتی کہ ڈاکٹر عاصم کی بھی آخری پناہ گاہ برطانیہ ہی ہے۔
وہ برطانیہ جہاں چند سو پاؤنڈ اکاؤنٹ میں زائد آجائیں تو مختلف ادارے پوچھ گچھ کے لیے آجاتے ہیں وہاں ان کرپٹ خاندانوں نے اربو پاؤنڈز کی جائیدایں خرید لیں لیکن ان سے کوئی سوال نہیں ہوا ۔۔۔۔۔۔ کیوں؟؟

پاکستان کو بدترین ملک ثابت کرکے ” ملک کا نام روشن” کرنے والی ملالہ یوسف زئی اور شرمین عبید چنائے بھی اس وقت وہیں مقیم ہیں۔

ایسا کیوں ہے؟ ۔۔۔۔۔۔؟

قرآن میں پڑھا ہے کہ یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور کبھی ہمارے دوست نہیں ہوسکتے۔

جن لوگوں کو برطانیہ نے ” محفوظ ٹھکانے ” فراہم کر رکھے ہیں کبھی ان کے پاکستان کو پہنچائے گئے نقصانات کا حساب کتاب کیجیے شائد آپ انڈیا، امریکہ اور افغانستان کو بھول جائیں!

تحریر شاہدخان

 
 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here