باقر نجفی رپورٹ اور سانحہ ماڈل ٹاؤن ۔۔۔۔ !

0
646

باقر نجفی رپورٹ اور سانحہ ماڈل ٹاؤن ۔۔۔۔ !

“وقوعہ کے وقت پولیس والے یہ کہتے تھے کہ بلاؤ اپنے علی(ر) اور حسین(ر) کو وہ تمہیں بچائیں۔ پھر جب مظاہرین نعرہ حیدری لگا رہے تھے تو پولیس نے انہیں گولیاں ماریں” ۔۔۔۔۔۔ باقر نجفی رپورٹ سے اقتباس

مقدس ہستیوں کی شان میں اسی گستاخی کا تذکرہ شاہد مسعود اپنے مختلف پروگراموں میں تسلسل سے کرتے رہے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھلا پولیس والوں کو کیا ضرورت تھی کہ وہ آپریشن کے دوران مقدس شخصیات کی توہین کریں اور عوام پر کیمروں کے سامنے سیدھی گولیاں چلائیں؟

اس کا جواب وہ رپورٹیں ہیں جن کے مطابق درحقیقت یہ آپریشن کرنے والے لشکر جھنگوی کے دہشت گرد تھے رانا ثناءاللہ جن کے نہایت قریبی ہیں۔ یہ تکفیری گروہ بریلوی اور شیعہ کو ایک ہی ترازو میں تولتے ہیں۔

درحقیقت اس آپریشن سے دو مقاصد حاصل کیے گئے۔

پہلا یہ حکومت وقت کی طرف سے ضرب عضب کا جواب تھا جو بلا اجازت آپریشن شروع کرنے پر تلملا رہی تھی۔ اس آپریشن کے ذریعے ن لیگ نے اپنے حامی گروپ کے غصے کو کسی حد تک کم کرنے کی کوشش کی۔

دوسرا ڈاکٹر طاہرالقادری کو اسلام آباد لانگ مارچ اور دہشت گردی سے متاثرہ طبقات کا سیاسی اتحاد بنانے سے روکنا تھا۔

رانا ثناءاللہ کی سربراہی میں اجلاس ہوا۔ اور کچھ نہ سوجھا تو کمشنر لاہور نے منہاج القرآن کے سامنے لگے ” غیر قانونی ” بیرئر ہٹانے کی تجویز پیش کی جس پر فوری ایکشن کا حکم ہوا (یہ بیرئر عدالت کی اجازت سے لگائے گئے تھے) اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ دنیا بھر نے ٹی وی پر لائیو دیکھا۔

خواتین کے منہ پہ گولیاں ماری گئیں۔

رانا ثناءاللہ کا دعویٰ ہے کہ منہاج القرآن کے کارکنوں کی فائرنگ سے پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے لیکن کئی سال گزر جانے کے بعد بھی وہ ان جانبحق ہونے والے پولیس اہلکاروں کے کوائف سامنے نہیں لا سکے۔

باقر نجفی رپورٹ نے رانا ثناءاللہ اور وزیراعلی شہباز شریف کے ان دعووؤں کو مسترد کیا ہے کہ انہیں علم نہیں تھا یا انہوں نے آپریشن روکنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رپورٹ کو ” کرپٹ ” کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن ن لیگ کی خون آشامی کا ایک شاہکار ہے۔

ن لیگ کے خلاف دوسری ایف آئی ار بھی لمبی ہوتی جا رہی ہے۔ اسلام پر پابندی، ختم نبوت پر حملہ، گستاخان رسول کی مدد اور اب صحابہ کی توہین کا معاملہ۔ یہ لوگ کہاں تک جائنگے۔۔۔۔۔۔۔ !

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here