باجوڑ ایجنسی میں پاک افغان سرحد کے قریب دہشت گردوں کے حملے میں ایک کیپٹن سمیت پاک فوج کے دو جوان شہید

0
738

باجوڑ ایجنسی میں پاک افغان سرحد کے قریب دہشت گردوں کے حملے میں ایک کیپٹن سمیت پاک فوج کے دو جوان شہید ۔۔۔۔۔۔۔ !

ایک نے بے رحمانہ تبصرہ کیا ۔۔ ” یہی انکا کام ہے۔ یہ باقی معاملات سے دور رہیں ” ۔۔۔۔۔ 

سیاست دان ملک توڑ دیں تو قابل ستائش۔ 
صحافی ریاست کی نظریاتی بنیادیں ہلا دیں تو قابل تعریف۔
وکلاء ڈنڈے لے کر حکومت کو سبق سکھانے پہنچیں تو انکا حق۔
جج حکومتی اقدامات کے خلاف سوموٹو لے لیں تو لائق تحسین۔
اساتذہ مظاہرہ کریں تو سیاسی حق۔
ینگ ڈاکٹرز ہڑتال کریں تو جمہوری حق۔
بھانڈ، میراثی اور کنجر ٹی وی پر آکر ملکی معاملات پر گفتگو کریں تو قابل داد۔
ملا کسی چوک میں کھڑے ہوکر لوگوں کو ماں بہن کی ننگی گالیاں دیں تو واہ واہ۔
عاصمہ جہانگیر جیسے نام نہاد سماجی کارکن میڈیا پر آکر جو منہ میں آئے بک دیں تو آزادی اظہار کا حق ۔۔۔۔۔

پاکستان میں کسی بھی شخص کو کسی بھی معاملے میں کچھ بھی کہنے کی اجازت ہے۔ اگر نہیں ہے تو جانیں دینے والی پاک فوج کو نہیں ہے۔۔۔ !
یہ اعلی پائے کے دانشور ان کے ایک ایک لفظ کو کسی سخت گیر ممتحن کی چھانٹتے ہیں جہاں ذرا سا شائبہ نظر آئے تو پاگل کتوں کی طرح اپنی ہی فوج پر پل پڑتے ہیں۔
اپنی افواج کا تذکرہ یوں کرتے ہیں گویا دشمن فوج کا ذکر کر رہے ہوں۔
یہ لوگوں کو یہاں تک لے آئے ہیں کہ اپنی فوج کی قربانیوں کا اعتراف تک قابل مذمت اور حمایت کو ناقابل معافی جرم بنا دیا گیا ہے ۔۔۔۔۔
میں ان داشوروں سے سخت نفرت کرتا ہوں ۔۔۔۔۔ یہ جو مرضی کر لیں۔ میں اپنی پاک فوج کے ساتھ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ !
واللہ یہ جمہوریت اندھیر نگری ہے۔ یہاں ہر چیز نرالی ہے۔ اس میں موجود تضادات غیر فطری اور انکی تاویلات ظلم پر مبنی ہیں ۔

تحریر شاہدخان

 
 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here