ایک ‘مولوی’ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر جگہ اور موقع شیخ الاسلام بننے کا نہیں ہوتا ،

0
726

خدارا “ملا” اپنے اندر کچھ معقولیت پیدا کریں!

دورِ موجود کے تقاضوں کو سمجھیں، خود کو اس عہد کی پکار سے ہم آہنگ کریں اور اپنے اندر کچھ ‘معقولیت’ بھی پیدا کریں۔۔
اپنی جگہ پر بھلے ہی شیخ القرآن ہوں یا مفتی اعظم،
انہیں چاہیے کہ وہ باہر کی دنیا کے مزاج و نفسیات اور طرزِ فکر کو سمجھنے کے لیے باقاعدہ کسی کے شاگرد بنیں، وہ ٹیکنالوجی کی مبادیات کو سمجھیں اور ایک ‘زندہ انسان’ کی طرح جینا سیکھیں۔

یونہی وہ علّامۃ الدہر فی البرّ والبحر بننے کے ساتھ ساتھ “معقول انسان” بھی بنیں جو سٹیجوں اور جی حضوری کرنے والے مداحوں کے جھرمٹ کے علاوہ، عام انسانوں والے ماحول میں بھی برابری کی سطح پر ڈھنگ سے جی سکے اور عام انسانوں جیسا برتاؤ بھی کر سکے۔۔۔۔

المیہ کسی ایک مسلک یا کسی مخصوص تنظیم تک محدود نہیں۔۔۔ جو ایسا سمجھتے ہیں وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔۔۔ کیونکہ ہر مسلک میں آپ کو اس قسم کے واقعات کی چھوٹی بڑی درجنوں مثالیں مل جائیں گی ۔۔ فرق صرف وقت اور معاملے یا اس کے پس منظر وغیرہ کا ہوگا، وگرنہ اصل علت پیچھے ایک ہی کارفرما ہوتی ہے کیونکہ دراصل یہ مسئلہ ‘مولویت’ کے مزاج کا ہے خواہ وہ کسی بھی مسلک کے ہوں۔۔
بخدا اُس وقت جبکہ جلالی صاحب پریس کانفرنس میں خادم صاحب کے الفاظ “بیسیوں شہداء” کی مولویانہ ترکیب کرتے ہوئے نکتہ آفرینی کر رہے تھے کہ ” بیسیوں جمع کا صیغہ ہے جو کم از کم تین گنا پر بولا جائے گا لہذا بقول خادم صاحب تقریباً 60 افراد شہید ہوئے” ، جیسی موشگافی کر رہے تھے تو مجھے وہ کنزالعلما کی بجائے کوئی بالکل سطحی کیلیبر کے آدمی لگے جنہوں نے پی ایچ ڈی تو کر لی لیکن افسوس کہ آداب معاشرت نہ سیکھ پائے۔۔۔۔

ایک ‘مولوی’ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر جگہ اور موقع شیخ الاسلام بننے کا نہیں ہوتا ، بلکہ اکثر مواقع پر اگر آپ صرف بطور ‘عام اور معقول انسان’ رویہ اپنائیں تو یقین جانیے بہت سے مسائل پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں۔

میں اس پوسٹ کو پڑھنے والے ہر مولوی سے گزارش کروں گا کہ خدارا اگر اس دنیا میں مولوی رہتے ہوئے عزت کے ساتھ بھی جینا چاہتے ہیں تو مدرسے سے نکلنے کے بعد تھوڑا عام انسانوں میں وقت گزار کر ہم انسانوں کا رہن سہن بھی سیکھ لیا کریں تاکہ آپ کو اندازہ ہو کہ نارمل انسان کیسے سوچتا ہے 😖

نوٹ: کیپٹن صفدر کے ایک جاننے والے ضیاء قادری ہیں جنہوں نے NA120 کے حالیہ ضمنی الیکشن سے فوراً پہلے کیپٹن کے کہنے پر کوئی “تحریک لبیک فاؤنڈیشن” بنا کر انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا، پھر اچانک ہی خبر آئی کہ “تحریک لبیک فاؤنڈیشن”نے ن لیگ کے ساتھ انتخابی اتحاد کر لیا ہے۔ پھر اس خبر کو “تحریک لبیک نے ن لیگ سے اتحاد کر لیا” کہہ کر اخباروں اور سوشل میڈیا پر ن لیگ نے خوب اچھالا اور ظاہر ہے بدنامی ” تحریکِ لبیک پاکستان” یعنی خادم حسین صاحب کے حصے میں آئی۔۔۔ چنانچہ اب وہی جعلی ن لیگی تحریک لبیک فاؤنڈیشن کے راہنما ضیاء قادری پھر سے سامنے آئے ہیں جن کے بیان کو سیکولر میڈیا خوب اچھال رہا ہے کہ فیض آباد دھرنا ختم کرنےکے لیے اکیس کروڑ لیے گئے اور یہ کہ یہی تحریک کے اصل بانی وغیرہ وغیرہ بھی ہیں۔۔ سو میرا نہیں خیال کوئی بھی صاحب بصیرت شخص سیکولر میڈیا کی ڈرٹی گیم کو نا سمجھتے ہوئے ایسے لایعنی بیان کو اہمیت دے گا۔
عجیب بات یہ ہے کہ جو میڈیا دھرنے کی کوریج کو نواز شریف کے کہنے پر حرام سمجھ رہا تھا وہ اب اس قضیے کو سلجھانے کے لیے بیدار ہو گیا ہے کہ اصل بانی کون ہے اور ضیاء قادری کا یہ بیان ہے فلاں کا یہ بیان ہے 😏

“زوہیب زیبی ” صاحب کے مضمون میں سے لیا ہے!

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here