امید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

پاکستان کو بیک وقت اندروںی اور بیرونی محاذ پر جس قسم کے خطرات کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کے لیے ایک طاقتور فوج ہی نہیں بلکہ اس فوج کو کمانڈ کرنے والا ایک نہایت پرسکون اور کمپیوٹر سے زیادہ برق رفتاری سے کام کرنے والا دماغ بھی چاہئے۔۔۔۔ 

کہا جاتا ہے کہ یہ ساری منصوبہ بندی 2009 کے آس پاس شروع کی گئی۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کا دورہ روس اس معاملے کا آغاز تھا۔ 

2011 میں اس کے خدوخال واضح ہونا شروع ہوئے۔ 

Image may contain: 1 person, hat and close-up

 

چند سال کے عرصے میں نہایت تیزی سے دہشت گردوں کے زیر کنٹرول سارے علاقے خالی کرا لیے گئے اور انکی قوت کا بہت بڑا حصہ تباہ کر دیا گیا۔ کراچی، بلوچستان اور فاٹا جیسے علاقے پہلی بار آزاد ہوئے۔

نظریاتی محاذ پر دہشت گردوں کو بدترین شکست کا سامنا ہے۔ فاٹا کے نواجوان پاکستان میں باقاعدہ ضم ہونے کی مہم چلا رہے ہیں۔

پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دہشت گردوں کی بہت بڑی سہولت کار کے طور پر سامنے آئیں۔
نہ صرف بری طرح بے نقاب ہوگئیں بلکہ بتدریج انکا شیرازہ بھی بکھرنے لگا۔

انکے بطن سے کٹر محب وطن جماعتیں جنم لینے لگیں۔

بہت بڑے بڑے ناموں کے اجلے کپڑوں تلے غلیظ، سڑے ہوئے اور بدبودار وجود برآمد ہونے لگے۔ یوں لگ رہا ہے جیسے کوئی غیبی ہاتھ کسی خاص وقت کے لیے حق اور باطل کو ایک دوسرے سے الگ کر رہا ہے۔

پاکستان بتدریج امریکی اتحاد سے نکل کر روسی اور چینی اتحاد کا حصہ بن گیا۔ جس نے پاکستان میں موجود بہت سوں کے لیے امریکہ حمایت کو بے اثر کر دیا۔

امریکن کھل کر کہہ رہے ہیں کہ درحقیقت پاک فوج افغانستان میں امریکہ کے خلاف لڑ رہی ہے اور انکا سپاہ سالار ہماری شکایت پر کان بھی نہیں دھر رہا۔

پاکستان میں یکایک ایک ایسا بھنور جنم لے چکا ہے جس نے بہت بڑے بڑوں کو لپیٹنا شروع کر دیا ہے اور بظاہر وہ صرف بے بسی سے ہاتھ پاؤں مارتے نظر آرہے ہیں۔

سی پیک کی شکل میں عنقریب کم از کم درجن بھر ممالک پاکستان پر انحصار کرینگے۔

دنیا کے تین بڑے ممالک پاکستان کو اربوں ڈالر واپس کرنے کی یقین دہانی کروا رہے ہیں۔

اس طوفان کی زد میں آنے والے اس کو نہایت ذہانت سے تیار کیا گیا انتہائی پیچیدہ منصوبہ قرار دے ہیں۔ واللہ اعلم ۔۔۔۔۔

کچھ اراکین پارلیمنٹ کے الفاظ ہیں کہ ” ہمیں قطعاً نہیں اندازہ کہ وہ کیا سوچتے ہیں اور کیا کرنا چاہتے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ان کے کندوں پر سر نہیں پتھر رکھے ہیں۔ میز کی دوسری طرف ساکت بیٹھے وہ سرد نگاہوں سے ہمیں گھورتے رہتے ہیں۔ اور یس سر جی سر کے علاوہ ان کی زبانوں سے کچھ نہیں نکلتا” ۔۔۔۔

مجھے نہیں پتہ کہ ان کے شکوک و شبہات کس حد تک درست ہیں۔

مجھے یہ پتہ ہے کہ اللہ نے ظالموں کی رسی کھینچ لی ہے۔ اللہ ہی پاکستان کو اس وقت کے لیے تیار کر رہا ہے جس کے لیے اسے وجود بخشا تھا۔

تحریر شاہدخان

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here