ایک جیسے لکھاریوں کی ایک جیسے الفاظ میں ایک جیسی شخصیات کی ایک جیسی تعریف ملاحظہ کیجیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

رعایت اللہ فاروقی 31 اکتوبر ( لفافہ فیس بکی رائٹر )

0
676

” خوشگوار ” حسن اتفاق ۔۔۔۔۔۔؟؟

ایک جیسے لکھاریوں کی ایک جیسے الفاظ میں ایک جیسی شخصیات کی ایک جیسی تعریف ملاحظہ کیجیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 


“” ۔۔۔۔ کل’’جیو‘‘ آن کیا تو مریم نواز کو انٹرویو دیتے پایا۔ ان کا تفصیلی انٹرویو پہلی بار دیکھ رہا تھا، ،،،،،ان کا سامنا ایک’’گھاگ‘‘ صحافی سے تھا، میرے اس دوست نے خاصے مشکل سوال کئے، جن کے جواب دیتے ہوئے کوئی ایسی بات بھی زبان سے نکل سکتی تھی، مگر مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ انہوں نے سب سوالوں کے جواب ایک منجھے ہوئے سیاستدان کی طرح دئیے۔ مجھے اس کی جو بنیادی وجہ سمجھ میں آئی وہ یہ تھی کہ ان کے دل و دماغ اور زبان میں کوئی کشمکش نہیں تھی۔ سیاستدانوں کو اکثر یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ وہ جو کہنا چاہتے ہیں، وہ کہتے نہیں اور جو کہہ رہے ہوتے ہیں ضروری نہیں کہ وہ ان کے دل کی آواز بھی ہو۔ مگر مریم نے اس انٹرویو میں جو کچھ بھی کہا، لگی لپٹی رکھے بغیر کہا۔۔۔ “”

عطاءالحق قاسمی 3 نومبر ( لفافہ کالم نویس)

“” ۔۔۔ کل رات بلاول زرداری نے اپنے سیاسی کیریئر کا پہلا ٹی وی انٹرویو دیا ہے۔ یہ انٹرویو کسی “لونڈے اینکر” نے نہیں کیا بلکہ نصرت جاوید جیسے تجربہ کار صحافی نے اپنی کو اینکر گل منئی سیٹھی کے ساتھ مل کر کیا ہے۔ یہ دیکھ کر بہت خوشگوار حیرت ہوئی کہ بلاول زرداری کو ہم جتنا ایزی لے رہے تھے وہ اتنا ایزی ہے نہیں۔ اس نے سیاستدانوں والے روایتی گھسے پٹے جوابات نہیں دیئے۔ اس کی پر اعتماد اور ٹو دی پوائنٹ گفتگو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔۔۔۔ “”

رعایت اللہ فاروقی 31 اکتوبر ( لفافہ فیس بکی رائٹر )

ھمممم تو پھر کیا سمجھے ؟؟؟

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here