ایک بار جنرل نیازی کی بھی سن لیں ۔۔۔۔۔ !

0
537

ایک بار جنرل نیازی کی بھی سن لیں ۔۔۔۔۔ !

Image may contain: 2 people

 

 
  
 

 

صدیق سالک نے اپنی کتاب “میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا” کی اختتامی سطور مین جنرل نیازی سے ایک مکالمے کی روداد لکھی ہے۔ یہ مکالمہ جنگ ختم ہونے کے فورا ً بعد کیا گیا—-!
صدیق سالک: ”جو تھوڑے بہت وسائل آپ کے پاس ڈھاکہ میں موجود تھے، اگر آپ ان کو بھی صحیح طور پر استعمال کرتے، تو جنگ کچھ دن اور جاری رہ سکتی تھی“۔
جنرل نیازی: ”مگر اس کا کیا فائدہ ہوتا؟ ڈھاکہ کی اینٹ سے اینٹ بج جاتی، گلیوں میں لاشوں کے انبار لگ جاتے، نالیاں اٹ جاتیں، شہری زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی۔ لاشوں کے گلنے سڑنے سے طاعون اور دوسری بیماریاں پھوٹ پڑتیں۔۔۔ اس کے باوجود بالآخر انجام وہی ہوتا! میں نوے ہزار بیواؤں اور لاکھوں یتیموں کا سامنا کرنے کی بجائے نوے ہزار قیدی واپس لے جانا بہتر سمجھتا ھوں“-

جنرل نیازی کا سب سے بڑا گناہ یہی مانا جاتا ہے کہ اس نے 90 ہزار پاکستانی مروائے کیوں نہیں جب فتح کی امید ختم ہوگئی تھی تو ۔۔۔۔۔۔
خیال رہے کہ ان 90 ہزار پاکستانیوں میں 50 ہزار کے قریب ہی فوجی تھے باقی سیولینز۔

جنگ موتہ میں جب حضرت خالد بن ولید ایک لاکھ کفار کا گھیرا توڑ کر اپنی تین ہزار فوج بچا لائے تو حضور ﷺ نے مدینے سے باہر نکل کر انکا استقبال کیا تھا۔ آپ نے یہ نہیں کہا کہ ” خالد بھاگ کر کیوں آگئے ؟” ۔۔۔۔

مسلمان احمق نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

میری ذاتی رائے میں جنرل نیازی نے درست فیصلہ کیا تھا۔

اویس صابر صاحب کی پوسٹ سے مستعار

 
 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here