ایٹم بم کی کہانی

0
1158

ایٹم بم کی کہانی

تحریر. حجاب رندھاوا

‏نواز شریف نے اج پٹواریوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا امریکی صدر کلنٹن نے مجھے دھماکے روکنے کے عوض پانچ ارب ڈالر کی آفر کی۔

جناب میاں نوازشریف انھوں نے اپ کو نہیں پاکستان کو امداد دینے کی بات کی تھی اپ ہمہ وقت یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی امداد بھی اپ کے لیے ہی اعلان کی جاتی ہے
عوام کو سب یاد ہے
جب گیارہ مئی1998 ء کی سہ پہر، ساری دنیا اس وقت حیران رہ گئی جب اُس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تین نیوکلیائی ٹیسٹ کرنے کا اعلان کیا۔ مزید حیرانی تب ہوئی جب اگلے دن دو اور ٹیسٹ کرنے کا اعلان کیا گیا
اُس وقت کے پاکستانی وزیراعظم، میاں محمد نواز شریف پر ایٹمی دھماکے کرنے کیلئے قوم کی طرف سے بے پناہ دباؤ تھا۔ پورے ملک میں یہ نعرہ گونج رہا تھا: ’’میاں صاحب! دھماکہ کردیجئے ورنہ قوم آپ کا دھماکہ کردے گی۔‘‘لیکن میاں صاحب تھے کہ ٹس سے مس نہیں ہوتے تھے
ایوان وزیر اعظم میں صحافیوں کی اس بارے میں رائے لینے کے لیے میاں نواز شریف نے طلب کیا توتمام گفتگو کے بعد مجید نظامی نے انھیں کہا کہ ہمارا خیال تھا کہ آپ ہمیں ایٹمی دھماکے کرنے کی خوشخبری سنائیں گے ایک بات یاد رکھیں اگر آپ نے ایٹمی دھماکے نہ کیئے تو پھر آپ کا دھماکہ ہوجائے گا۔
افواج پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرنے کے لئے تمام تیاریاں مکمل کر لی تھیں ایوان اقتدار میں سازشوں کے جال بنے جارہے تھے یورینیم کو افزودہ کرنے والے سائنسدانوں کو الگ کر دیا گیا اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے معاملات سنبھال لئے۔فوج کا اس حوالے سے یہ موقف تھا کہ کہوٹہ کے سائنسدان دھماکوں کی کمان کریں یا اٹامک انرجی کمیشن والے یہ دھماکے ہر صورت میں کیے جانے ہیں۔ ایئر مارشل اصغر خان اٹامک انرجی کمیشن کے ریٹائرڈ اعلیٰ افسران مشاہد حسین سید اور بعض دیگر لوگ ان دھماکوں کے شدید مخالف تھے۔ ( 1982ءمیں ہی ان دھماکوں کی جگہ کا تعین ضیاءالحق نے اپنے دور میں کر لیا تھا پاکستان نے ایٹمی ملک بننے کی طرف قدم اسی دن رکھ دیا تھا جب
۔ 18 مئی1974ء کو پاکستانی سرحد سے 93میل کے فاصلے پر راجستھان میں پوکھران کے مقام پر دھماکے کیے اس کا مقصد پاکستان کو خوفزدہ کرنا تھا اس کے بعد ہی وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو ایٹمی طاقت بنانے کا فیصلہ کیا انھیں اس کام کےلئے لوگوں کی تلاش تھی کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسا محسن پاکستان انھیں دستیاب ہوا جس نے اٹامک انرجی کمیشن سے ہٹ کر ایک ادارہ بنایا جس میں لوگوں کو منتخب کیا اور انھیں کئی ممالک میں تربیت کے لئے بھیجا پھر یہ کام بیرکوں میں تجرباتی طورپر مکمل کیا گیا اور جب اس منصوبے پر حقیقی عملی مرحلہ شروع ہوا تو کہوٹہ کی پہاڑیوں کو اس کام کے لئے منتخب کیا گیا جہاں یورینیم کو افزودہ کرنے کا منصوبہ بنا پھر وہاں وقت کے ساتھ ساتھ سرنگیں اور افزودگی کے لئے الگ انتظامات ہوئے جو سٹیٹ آف آرٹ ہیں)
پندرہ مئی 1998ء کے روز کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا ایک اجلاس بلایا گیا۔
فوج کا نوازشریف پہ شدید دباؤ تھا کہ بھارت کو اس کا جواب ہر حال میں دینا ہے
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کے آر ایل کی طرف سے بتایا کہ اگر انہیں یہ ذمہ داری دی جائے تو وہ تین مہینے کے اندراندر دھماکہ کرسکتے ہیں۔ کے آر ایل اور پی اے ای سی، دونوں تیار تھے لیکن پی اے ای سی کو دو وجوہ سے برتری حاصل تھی: ایک تو یہ کہ پی اے ای سی کے پاس کولڈ ٹیسٹ کا وسیع تجربہ موجود تھا؛ اور دوسری یہ کہ چاغی کی ‘
انیس مئی کو پی اے ای سی کے 4100 سائنسدانوں کی ایک ٹیم چاغی پہنچ چکی تھی۔ وہاں پہلے ہی سے ڈی ٹی ڈی، تھیوریٹیکل گروپ اور واہ گروپ کے لوگ موجود تھے۔ 24 مئی تک نیوکلیئر ڈیوائس کی تنصیب کرکے تاریں بچھائی جاچکی تھیں۔ 26 مئی تک جگہ کو مکمل طور پر سربند (sealed) کردیا گیا۔
ستائیس مئی کو امریکی صدر بل کلنٹن نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو کی گئی، 255 منٹ تک جاری رہنے والی فون کال میں ان سے ایٹمی دھماکہ نہ کرنے کی گزارش کرتے ہوئے اس کہ بدلے میں پاکستان کو بیش بہا امداد دینے کا وعدہ کیا۔ لیکن اس سے بہت پہلے کہ نواز شریف کچھ کر پاتے
۔ 28 مئی 1998ء کی سہ پہر تین بجے ایٹمی دھماکہ کرنے کا وقت طے کیا جاچکا تھا۔
یہ سارا منصوبہ پاکستانی قوم کے پیسوں اور پاکستانی سائنسدانوں نے ایک بہترین منتظم محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نگرانی میں مکمل کیا اس میں ذوالفقار علی بھٹو،ضیاءالحق،غلام اسحاق خان،محبوب الحق اور وزارت خزانہ کے دوسرے افسران کا بھی بڑا حصہ ہے۔انھوں نے یہ قومی خدمت انجام دی جن کے نام آج لوگ نہیں جانتے۔چین واحد ملک تھا جس نے پاکستان کی یورینیم کے بارے میں مبارکباد کا خط دیتے ہوئے تصدیق کی کہ پاکستان نے مطلوبہ ہدف حاصل کر لیا ہے۔ بلوچستان کے علاقے چاغی کی پہاڑیوں کے گرد خار دار تاریں لگا کر فوجی جوانوں کو تعینات کیا گیا تھاوہاں پر فوجی ادارے نے پہاڑوں کے اندر سرنگیں بنائیں تاکہ پہاڑ کے اندر ایٹمی دھماکے کیئے جاسکیں اور دیگر دھماکوں کے لئے اسی علاقے میں گہرائی میں کنویں بھی کھودے گئے 27اور 28مئی کی درمیانی رات کو جب ایٹم بموں کے سامان کو چاغی کی جانب لے جایا گیا تو پاکستان کی فضا میں ایف16طیارے گردش کر رہے تھے اور پھر چاغی کے علاقے پر پاکستان کے طیاروں کی گشت مسلسل جاری رہی۔دھماکوں کی جگہ پر حساس کیمرے اور سنسر کہوٹہ لیبارٹری والوں نے لگائے جو کئی سال پہلے اسی کام کے لئے منگوا لئے گئے تھے۔اس موقع پر اٹامک انرجی کمیشن کے افسران تو تھے مگر یورینیم کو افزودہ کرنے والا ڈاکٹر فاروق وہاں ایٹم بم کے اصلی پنجروں کی تنصیب کے لئے موجود تھا۔
چاغی میں اس روز موسم صاف اور خوشگوار تھا۔ گراؤنڈ زیرو (ایٹمی دھماکے والے علاقے) سے متعلقہ لوگوں کے سوا تمام افراد کو ہٹالیا گیا تھا۔ 2 بج کر 30 منٹ پر پی اے ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر اشفاق احمد، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جاوید ارشد مرزا اور فرخ نسیم بھی وہاں موجود تھے۔ تین بجے تک ساری کلیئرنس دی جاچکی تھی۔ پوسٹ پر موجود بیس افراد میں سے محمد ارشد کو، جنہوں نے ’’ٹرگرنگ مشین‘‘ ڈیزائن کی تھی، بٹن دبانے کی ذمہ داری دی گئی۔ تین بج کر سولہ منٹ پر محمد ارشد نے جب ’’اﷲ اکبر‘‘ کی صدا بلند کرتے ہوئے بٹن دبایا تو وہ گمنامی سے نکل کر ہمیشہ کیلئے تاریخ میں امر ہوگئے
پاکستان کا ایٹمی پروگرام ایک انتہائی خفیہ قومی راز ہے جس کی کئی پرتیں ہیں اس پروگرام میں کئی فوجی افسران نے امریکہ میں سزائیں بھگتی ہیں دفتر خارجہ نے کئی سفارتخانوں میں اس کام کے لئے افسران کو تعینات کیئے رکھا مگر بھارت اور امریکہ کو اس کی کانوں و کان خبر نہ ہوئی۔ افریقہ سے جس طرح یورینیم طیاروں میں بھر کر لایا گیا یہ بھی ایک راز ہے اور اس راز کو کہانی باز اس طرح موڑتے ہیں کہ جیسے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ٹمبک ٹو میں کوئی ہوٹل بنا رکھا ہے اور پاکستان سے C-130طیارے وہاں فرنیچر اور سامان لے جاتے تھے جبکہ یہ صرف گھڑی ہوئی کہانی ہے
درحقیقت وہاں پر اس کام میں معاونت کرنے کے لئے ایک شخص عبدالرحمٰن کو چھ کمروں پر مشتمل12بستروں کا لوگوں کے چندے سے ایک گیسٹ ہاﺅس بنانے کے لئے معاونت کی گئی اور اس گیسٹ ہاﺅس کے صحن میں ایک کنواں کھدوایا گیا جس کی مٹی باہر پھینکی جاتی تھی یہ بھی ایک راز
بہر حال یہ لمبی داستان ہے مگر پاکستان کے ایٹمی قوت بننے پر جن جن لوگوں نے قربانیاں دیں لائق تحسین ہیں اور یہ قوم ان کا قرض تاقیامت نہیں اتار سکے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here