ایم کے ایم کے تنظیمی انچارج حماد صدیقی اور سلیم فارق نے بلدیہ ٹاؤن میں واقع علی انٹر پرائزز سے 20 کروڑ روپے بھتہ طلب کیا۔

0
801

ساںحہ بلدیہ کی کہانی اور خونی محل ۔۔۔۔۔ !

چھ فروری 2015 کو رینجرز نے کلفٹن ناجائز اسلحہ کیس میں ایم کیو ایم کے گرفتار کارکن رضوان قریشی کے حوالے سے ایک خوفناک رپورٹ جمع کروائی۔ 

اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ 2012ء میں بلدیہ فیکٹری آگ ایم کیو ایم نے بھتہ نہ ملنے پر لگائی۔ جس کے بعد اس رخ پر ہونے والی تفتیش کے نتیجے میں مندرجہ ذیل کہانی سامنے آئی۔ 

ایم کے ایم کے تنظیمی انچارج حماد صدیقی اور سلیم فارق نے بلدیہ ٹاؤن میں واقع علی انٹر پرائزز سے 20
کروڑ روپے بھتہ طلب کیا۔

فیکٹری مالکان نے سیکٹر انچارج اصغر بیگ کے ذریعے نائن زیرو سے رابطہ کیا کہ ” وہ جماعت کی حامی پارٹی ہے اور ان سے بھتہ نہ مانگا جائے” ۔۔ جواباً ایم کیو ایم کی اعلی قیادت کی طرف سے بھتہ نہ دینے والوں کو نشان عبرت بنانے کا حکم جاری ہوا۔


حماد صدیقی نے رحمان بھولا کو مزدوروں سمیت فیکٹری جلانے کا ٹاسک دیا۔

رحمان بھولا کی مدد کے لیے کالو ڈاڈا کے حکم پر غلام علی عرف گولی ایم کیو ایم بلدیہ سیکٹر آفس پہنچے جہاں اس وردات کی منصوبہ بندی کی گئی۔
11 ستمبر 2012 کو رحمان بھولا، غلام علی عرف گولی اپنے چند ساتھیوں بشمول کچھ خواتین کے ایک سفید گاڑی اور موٹر سائیکل پر فیکٹری پہنچے۔

پہلے خواتین فیکٹری کے اندر گئیں جنہوں نے فیکٹری میں کیمیکل پھینکا۔ بچ جانے والے فیکٹری مزدوروں کے مطابق جب ہم نے سوال کیا کہ یہ کیا ہے تو ان خواتین نے بتایا کہ یہ فیکٹری کی صفائی ہو رہی ہے۔

اس کے بعد فیکٹری میں آگ لگا کر فیکٹری کے دروازے بند کر دئیے گئے تاکہ مزدور بچ کر نہ نکل سکیں۔

اس کے بعد رحمان بھولا کھڑا ہوکر تب تک تماشا دیکھتا رہا جب تک فیکٹری کے اندر 260 انسان زندہ جل کر مر نہیں گئے۔ اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ آگ بجھانے والا عملہ دیر سے پہنچے۔ اس کے باؤجود جو افراد باہر نکلنے میں کامیاب رہے ان میں سے بھی 30 لوگ بعد میں زخموں کی تاب نہ لاکر فوت ہوگئے۔

ایم کیوایم نے فوری طور پر سانحے کہ ذمہ داری فیکٹری مالکان ارشد بھیلہ اور شاہد بھیلہ پر ڈالتے ہوئے انہیں گرفتار کروا دیا۔ ان پر الزام لگایا گیا کہ یہ آگ انہوں نے انشورنس حاصل کرنے کے لیے خود لگائی۔

انکی رہائی کے لیے شرط عائد کی گئی کہ وہ لواحقین کے لیے پیسے دیں جنکا اعلان اور تقسیم ایم کیو ایم خود کریگی۔

مر جانے والے کے لیے ڈھائی لاکھ اور زخمی کے لیے ایک لاکھ روپے کے حساب سے رقم کی پہلی قسط 5 کروڑ 98 لاکھ 80 ہزار روپے وصول کی گئی جو صدیق حسن قادری نامی شخص کے اکاؤنٹ میں جمع کروائی گئی۔

جس کے بعد فیکٹری مالکان کی رہائی عمل میں آئی۔ حیران کن طور پر رہائی کی اجازت اس وقت کے وزیراعظم پاکستان نے دی۔ جس کے بعد دونوں پاکستان سے باہر چلے گئے اور تب واپس آئے جب کراچی میں رینجرز نے آپریشن کر کے ایم کیو ایم کی طاقت توڑ دی۔

وصول ہونے والی رقم سے قادری اور عبدلستار نامی شخص نے ایک بہت بڑی زمین خریدی اور اس پر ایک خاتون کے نام سے ایک محل تعمیر کیا جو آجکل سیل ہے۔ یہی وہ خون آشام محل ہے جسکا اس مضمون کے عنوان میں تذکرہ کیا گیا ہے۔

جل کر مرجانے والوں کے لواحقین کو نہ انصاف ملا اور نہ ہی پیسے ۔۔۔ !

غلام علی عرف گولی اور حمان بھولا کے بعد اب حماد صدیقی کو بھی دبئی سے گرفتار کیا جا چکا ہے جس کو آج یا کل میں پاکستان لایا جائیگا۔

گرفتاری کے بعد اب جاکر فاروق ستار نے حماد صدیقی سے اپنی لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔

اس معاملے کا ایک پہلو اور بھی ہے جس کا تعلق ہماری عدلیہ سے ہے۔

رحمان بھولا نے انکشاف کیا ہے کہ وہ ٹارگٹ کلنگ کی کم از کم 15 وارداتوں میں ملوث ہے۔ قتل، ڈکیتی اور اغواء کی وارداتیں اس کے علاوہ ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کا آغاز اس نے 1995 میں ایک پولیس آفیسر کو قتل کر کے کیا۔

تقریباً تمام وارداتوں کے بعد وہ گرفتار بھی ہوا اور عدالت سے ضمانت لے کر دوبارہ رہا بھی ہوا جس کے بعد بلاآخر اس نے 260 لوگوں کو زندہ جلا دیا۔

یہ ہماری عدالتی نظام پر بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

تحریر شاہدخان

نوٹ ۔۔۔۔۔۔ حسب معمول کمنٹ میں موجود لنک پر کلک کر کے ایپ انسٹال کیجیے !

 
 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here