اہل یہود کا کنٹرول ویسے تو تقریباً سارے یورپ و امریکہ پر ہے لیکن انکا اپنا وطن اسرائیل ہے

0
538

عالم کفر کو یہود، نصاری، مشرکین اور ملحدین ( دہرئیے یا لادین ) میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

انہی چاروں کو اسلام کا اصل دشمن مانا جاتا ہے کیونکہ اسلام ان چاروں عقائد کے لیے حقیقی اور سب سے بڑا خطرہ ہے ۔

دنیا میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً ایک ارب چالیس کروڑ ہے اور یہ 57 ملکوں میں بٹی ہوئی ہے ۔ لیکن کفر کی ان چاروں بڑی طاقتوں کی اصل اور سب سے بڑی جنگ پاکستان کے خلاف ہو رہی ہے اور پاکستان بیک وقت ان سب سے چومکھی لڑائی لڑ رہا ہے۔

ملاحظہ کیجیے ۔۔۔۔۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

یہودی اور پاکستان

اہل یہود کا کنٹرول ویسے تو تقریباً سارے یورپ و امریکہ پر ہے لیکن انکا اپنا وطن اسرائیل ہے ۔

پاکستان نامی خطرے کو یہودیوں کو ابتداء میں ہی بھانپ لیا تھا۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں کہ میں تم کو ایسے لوگوں کا نہ بتاؤں جن پر شیاطین اترتے ہیں۔ کفر کے بڑوں پر یقیناً اترتے ہیں۔ اس لیے وہ کبھی کبھی حیرت انگیز باتیں کر جاتے ہیں۔ پیشن گوئیاں بھی کر جاتے ہیں۔

ڈیوڈ بن گوریان بانیان اسرائیل میں سے تھا ۔ اس نے اسرائیل بنتے ہی پیشن گوئی کی تھی کہ اسرائیل کے لیے سب سے بڑا اور اصل خطرہ پاکستان ہوگا ۔ پھر اسی گوریان نے 1967 میں ساربون یونیورسٹی میں یہودیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اہل یہود کو ایک بار پھر پاکستان کے بارے میں خبردار کیا تھا کہ یہی تمھارا حقیقی اور سب سے بڑا دشمن ہے ۔ یہودیوں کے عالمی شہرت یافتہ مصنف پروفیسر سی جی پروئینز نے بھی اپنی کتاب ” مشرق وسطی سیاست اور عسکری وسعت” میں پاکستان اور پاک فوج کو اہل یہود اور اسرائیل کی بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے ۔ تب سے لے کر آج تک اسرائیل پاکستان کے خلاف مسلسل برسرپیکار ہے ۔

اسرائیل بنتے ہی انکی حکومت نے پاکستان کو سفارتی تعلقات کے لیے ٹیلی گرام کیا تھا جس پر قائداعظم نے نہ صرف سخت ترین الفاظ میں انکار کر دیا تھا بلکہ یہ بھی فرمایا تھا کہ اس ناجائز ریاست کو امریکن اور یورپی سپورٹ حاصل نہ ہو تو یہ زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہے گی اور پاکستان اسکو کبھی تسلیم نہیں کرے گا ۔ پاکستان نے آج تک نہیں کیا بلکہ پاکستان دنیا کا اکلوتا ملک ہے جو نہ صرف اسرائیلی پاسپورٹ کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ اپنا پاسپورٹ بھی اسرائیل کے لیے کارآمد قرار نہیں دیتا ۔

جیسے ہی پہلی عرب اسرائیل جنگ ہوئی جبکہ پاکستان کو بنے ابھی ایک سال ہی ہوا تھا پاکستان نے چیکوسلاواکیہ میں ڈھائی لاکھ رائفلیں خرید کر عربوں کو دیں اور تین جنگی جہاز اٹلی سے خرید کر مصر کے حوالے کیے اور اس جنگ کا باقاعدہ حصہ بن گیا ۔

پھر 67 اور 73 کی جنگوں میں پاکستان نے اسرائیل کو شدید زک پہنچائی ۔ پاکستان نے کم و بیش اسرائیل کے دو درجن جہاز مار گرائے ۔ جبکہ وہ ایک بھی پاکستانی جہاز نہ گرا سکے ۔ انہی جنگوں میں اسرائیل کے خلاف پاکستانی توپ خانہ بھیجا گیا تھا جس نے اسرائیل کی پیش قدمی روک دی تھی اور “کتیبہ ۃ لمجاہد” کا لقب پایا تھا یعنی “مجاہدین کی توپیں” ۔ پاکستان نے فسلیطن کی جہادی تحریک کے جوانوں کو پاکستان بلوا کر انکی ٹریننگ شروع کر دی ۔ اسی دور میں اسرائیل نے پاکستان کے خلاف انڈیا کی خفیہ ایجنسی راء کو منظم کیا اور اسکی تربیت کی ۔

اسرائیل نے جارج حباش کی مدد سے مجاہدین کی کچھ جماعتوں پر کنٹرول حاصل کر لیا اور وہ اسرائیل کے بجائے اردن کے خلاف لڑنے لگے تو پاکستان نے بریگیڈئر ضیاء الحق کو بھیجا جس نے انکو کنٹرول کر لیا ۔ 1980 کی دہائی میں عراق کے نیوکلیئر پروگرام کو تباہ کرنے کے بعد اسرائیل نے انڈیا کے ساتھ مل کر پاکستان کے نیوکلئر پروگرام پر حملہ کرنے کا پلان بنایا جسکو جنرل ضیاء الحق نے بڑی جراءت سے ناکام بنا دیا ۔ 82 میں لبنان اسرائیل جنگ میں پاکستان سے جنگجو رضا کار اسرائیل کے خلاف لڑنے گئے جن میں سے پچاس گرفتار ہوئے ۔ 9/11 کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پر حملے کا فیصلہ کیا تو اسرائیل نے امریکہ کو باور کرانے کی بھرپور کوشش کی کہ یہ حملہ پاکستان پر کیا جائے تب افغانستان کو بھی ہڑپ کرنا آسان ہوگا ۔

اسرائیل نے ہی کشمیر کی جنگ آزادی کا ناکام بنانے کے لیے وہاں جعلی مجاہدین تنظمیں بنائیں اور جنگ آزادی کو سخت نقصان پہنچایا ۔

حماس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسکو سپورٹ کرنے والا سب سے بڑا ملک پاکستان ہے ۔ غالباً اسی لیے پاکستان مخالف جہادی تنظیمیں حماس کے خلاف ہیں ۔

اہل یہود کے لیے پاکستان درد سر ہے دشمن نمبر ایک ہے اور انکے گریٹر اسرائیل نامی نظرئے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مشرکین اور پاکستان

مشرکین کی اس وقت دنیا میں سب سے بڑی نمائندہ مملکت انڈیا ہے جہاں مشرکین کی کم از کم 90 کروڑ آبادی ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ کروڑوں خداوؤں پر ایمان رکھتے ہیں اور اسلام اور پاکستان کے لیے اپنے دلوں میں شدید کینہ اور بغض رکھتے ہیں ۔

ہندو اپنا ہر عمل کرنے سے پہلے فال نکالنے کے عادی ہیں جیسے شادیوں کے لیے مہورت نکالنا ۔ جب انڈیا بنا تو گاندھی نے فال نکلوائی اور اعلان کیا کہ انڈیا کے ساتھ پاکستان کی چار جنگیں ہونگی اور چوتھی جنگ فیصلہ کن ہوگی ۔ گاندھی نے یہ نہیں بتایا کہ اس جنگ کا فاتح کون ہوگا اور خاموشی اختیار کر لی ۔

اگر چھوٹی موٹی جھڑپوں کو نظر انداز کر دیں تو اس وقت انڈیا کے ساتھ پاکستان کی تین جنگیں ہو چکی ہیں ۔ تینوں بار حملہ مشرکین ( انڈیا) نے ہی کیا تھا ۔

اب حالت یہ ہے کہ انڈیا کی کل نو ڈوژن فوج میں سے آٹھ پاکستان کے لیے ڈپلوئیڈ ہے ۔ انڈیا کا ایٹمی پروگرام صرف پاکستان کے لیے ہے۔ انڈین آرمی کی سب سے بڑی جنگی ڈاکٹرائن جس کو کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کہا جاتا ہے وہ پاکستان کے خلاف ہے ۔ 65 کی جنگ میں پاکستان نے انڈیا کی فضائی اور ٹینکوں کی طاقت کو تباہ کر کے رکھ دیا تھا اور انڈیا کو شکست دی۔ 71 میں انڈیا نے ڈھائی لاکھ مکتی باہنی گوریلے پاکستان کے خلاف تیار کیے اور بنگلہ دیش میں بغاوت کروائی اور شیخ مجیب کی مدد سے بنگلہ دیش کو الگ کر دیا ۔

ضیاء نے اپنے دور میں انڈیا سے بدلہ لینے کے لیے کشمیری مجاہدین اور سکھوں کی خالصتان تحریک شروع کروائی جس پر انڈیا کی چیخیں نکل گئیں ۔ بعد میں بے نظیر اور نواز شریف نے ان دونوں تحریکوں کو تباہ و برباد کر دیا ۔ 1988 میں اور سن 2002 میں انڈیا نے دو بار اپنی تمام فوجی طاقت کو سرحد پر لاکر کھڑا کر دیا پاکستان پر حملے کے لیے لیکن پھر ایٹمی جنگ کے خوف سے حملہ نہ کر سکا ۔

پاکستان نے سری لنکا کے ساتھ مل کر انڈیا کی سری لنکا میں جاری تامل لبریشن تحریک کو اڑا کر رکھ دیا اور انڈیا کی تیس سالہ محنت پر پانی پھیر دیا ۔ پاکستان کی وجہ سے انڈیا کشمیر میں سات لاکھ فوج رکھنے پر مجبور ہے۔

انڈیا پاکستان میں بلوچستان اور صوبہ خیبر میں جاری بغاوتوں کو نہ صرف سپورٹ کرتا ہے بلکہ مکمل طور پر کنٹرول بھی کرتا ہے ۔ وزیرستان ایجسنی کے بارڈر میں افغانستا میں درجنوں انڈین کونسل خانے یہی کام کر رہے ہیں۔

انڈیا کی موجودہ برسراقتدار پارٹی بی جے پی نے اس ہندو کی راکھ کو محفوظ رکھا ہوا ہے جس نے گاندھی کو اس بات پر قتل کردیا تھا کہ اس نے یہ کیوں کہا کہ “پاکستان کو اسکا حق دو” ۔ بی جے پی نے اعلان کر رکھا ہے کہ اسکی راکھ کو پاکستان فتح کرنے کے بعد دریائے سندھ میں بہایا جائیگا۔

آج نریندر مودی کہتا ہے کہ اب پاکستان روائتی جنگ کرنے کے قابل نہیں رہا اور اسکے پارٹی اراکین پارلیمنٹ میں پاکستان پر ایٹمی حملہ کرنے کے باقاعدہ مطالبے کرتے ہیں ۔

بہت سے علماء اور ماہرین کے مطابق غزوہ ہند درحقیقت پاکستان کی انڈیا کے خلاف جنگ ہی ہے جو قریب ہے۔

پاکستان کو انڈیا اپنے اکھنڈ بھارت کے لیے سب سے بڑی رکاؤٹ سمجھتا ہے جس کے مطابق مشرکین ( ہندو) اس سارے علاقے پر غلبہ حاصل کرینگے !

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ملحدین اور پاکستان

دہرئیے یا ملحدین کسی بھی خدا کو نہ ماننے والوں کی اس وقت پوری دنیا میں دو سب سے بڑی قومیں ہیں ۔ ایک چین میں آباد ہیں اور دوسری روس میں۔ لیکن ان دونوں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ چین اپنے مذہب یا عقائد کی تبلیغ نہیں کرتا نہ ہی دوسرے مذاہب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے۔ جبکہ روس نے نہ صرف کارل مارکس کے نظریات کو خود تسلیم کیا بلکہ ان نظریات کی بنیاد پر سوشلزم نامی ایک شیطانی معاشی نظام دنیا کو دینے کی کوشش کی۔ ( گوکہ اب روس دوبارہ مذہب کی طرف پلٹ رہا ہے اور وہاں لوگ تیزی سے عیسائت اور اسلام کی طرف راغب ہو رہے ہیں)

قیام پاکستان کے بعد لیاقت علی خان نے روس سے دوستی قائم کرنے کے لیے اپنا ایک سفیر روس بھیجا ۔ لیکن روس کے اس وقت کے سربراہ نے اپنی فری میسن بیوی کے کہنے پر لیاقت علی خان کے نمائندے سے ملاقات تک نہ کی ۔ مجبوراً لیاقت علی خان نے امریکہ سے تعلقات کا آغاز کیا۔
(اب پر الگ سے آرٹیکل لکھنے کی کوشش کرونگا ان شاءاللہ)

پاکستان کے نامور ادیب اور سفیر قدرت اللہ شہاب کے مطابق روس اور امریکہ میں سرد جنگ اپنی جگہ لیکن ایک معاملے میں دنوں اتفاق پایا جاتا ہے کہ پاکستان کو دنوں اپنا دشمن سمجھتے ہیں ۔ 65ء کی جنگ میں روس نے انڈیا کو سپورٹ کیا ۔ 71ء کی جنگ میں روس نے انڈیا سے 20 سال کا معاہدہ کیا جس کے تحت انڈیا پر حملہ روس پر حملہ تصور ہوتا ۔ اس معاہدے کی وجہ سے اس جنگ میں چین پاکستان کی کوئی مدد نہ کر سکا اور بنگلہ دیش ہم سے الگ ہوگیا ۔ پھر گوادر پر قبضہ کرنے کے لیے روس اپنی پانچ لاکھ فوج کے ساتھ افغانستان پر چڑھ دوڑا۔ جنرل ضیاء نے اس خطرے کو پیشگی محسوس کرتے ہوئے روس کو افغانستان میں ہی روکنے کا فیصلہ کر لیا۔

روس کو پاکستان نے افغانستان میں شکست دی ۔

لیکن ساتھ ہی پاکستان نے اپنا ہاتھ روس کے زیر تسلط وسطی ایشیائی ریاستوں اور بوسنیا اور چیچنیا تک دراز کر لیا۔ ان ریاستوں کو پاکستان کی بدولت آزادی ملی ۔

وسطی ایشیائی ریاستوں میں قرآن پاک کے بے شمار نسخے پکڑے گئے جو انڈیا سے آئے تھے اور جو لاہور کے چھپے ہوئے تھے۔ روس کی خفیہ ایجنسی کے جی بی نے جلدہی سراغ لگا لیا کہ یہ بھی جنرل ضیاءالحق کا ہی پھیلایا ہوا جال ہے۔ جسکے دو مقاصد ہیں پہلی کارل مارکس اور سوشلزم کے شیطانی نظریات کو لگام ڈالی جا سکے جو بڑی تیزی سے ان مسلمان خطوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے۔ دوسری روس کے انڈیا کے ساتھ تعلقات میں دراڑ ڈالی جا سکے ۔

پاکستان نے ان ریاستوں میں اقبال کے اس شعر کو ایک نعرے کی شکل دے دی تھی کہ ۔۔۔۔۔۔

معمار حرم باز بہ تعمیر جہاں خیز
از خواب گراں خواب گراں خواب گراں خیز!

یہ شعر وہاں زبان رد عام ہوگیا اور آزادی کا نغمہ بن گیا ۔

پاکستان نے بالاآخر روس اور اسکے ملحدانہ شیطانی سوشلزم کے نظرئیے کو برباد کر کے رکھ دیا ۔ وہ نظریہ جس کو عیسائت بھی اپنے لیے خطرہ محسوس کر رہی تھی پاکستان کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا۔

سوشل میڈیا پر ملحدین کی پاکستان سے نفرت اور پاکستان کے خلاف جنگ ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ جس میں ان کو نہایت کم پڑھے لاابالی لڑکوں کے ہاتھوں دانتوں پسینے آچکے ہیں۔ 🙂

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نصاری اور پاکستان

نصاری کی نمائندگی اس وقت امریکہ اور اسکے اتحادی کر رہے ہیں جنکو نیٹو کہا جاتا ہے ۔ جنہوں نے اسلام کے خلاف پھر سے صلیبی جنگوں کا آغاز کیا ہے ۔

ان کے ساتھ پاکستان کے معاملات ایسے ہیں کہ بظاہر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ دوستی اور اچھے تعلقات کا ڈھول پیٹتے نظر آتے ہیں لیکن درحقیقت انکی آپس میں خونریز جنگ چل رہی ہے جو اب کھل کر سامنے آرہی ہے۔

امریکہ نے پاکستان کی پشت میں کئی بار خنجر گھونپا جسکی وجہ سے ایوب خان کو کہنا پڑا تھا کہ “امریکہ سے دوستی خودکشی ہے” ۔ امریکہ کی اصل دشمنی پاکستان سے تب شروع ہوئی جب پاکستان نے عراق ایران جنگ کو بزور طاقت روک دیا تھا جس میں امریکی مفادات کو بے پناہ نقصان پہنچا ۔ صدام نے جب جنرل ضیاء کی اپیل پر کان نہیں دھرے کہ “یہ جنگ عالم اسلام کے خلاف سازش ہے رک جاؤ ” ۔ تب ضیاء نے ایران کو کچھ سٹنگرز فراہم کیے جن سے عراقی جہاز گرائے گئے صدام نے مجبوراً جنگ روک دی ۔

پاکستان امریکی کی خفیہ جنگ کی بہت لمبی تاریخ ہے مضمون بہت زیادہ لمبا ہو جائیگا ۔ ہم صرف حال کی بات کرتے ہیں جہاں پاکستان اور امریکہ بظاہر دنیا کے سامنے اتحادی بنے ہوئے ہیں۔

اصلیت یہ ہے کہ امریکہ اپنی کل جنگی بجٹ کا 60 فیصد سے زیادہ صرف دو جنگی ڈاکٹرائنز پر خرچ کر رہا ہے ۔ ایف پاک ڈاکٹرائن اور فورتھ یا ففتھ جنریشن وار اور یہ دونوں جنگی ڈاکٹرائنز پاکستان کے خلاف ہیں۔

ان ڈکٹرائنز کے تحت ڈرون حملے ، پاکستان میں بغاوتیں اور شورشیں برپا کروانا اور پاکستانی میڈیا اور دیگر ذرائع سے پاکستان اور پاکستان کے دو وقومی نظریہ یا آسان لفظوں میں مسلم قومیت کے نظریے پر حملے اور انکے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ہے۔

ففتھ جنریشن وار کے تحت امریکہ نہایت جارحانہ انداز پاکستان میں قوم پرستی ( عصبیت ) کو پروان چڑھانے کی کوشش کر رہا ہے اور بیک وقت بلوچوں، گلگت بلتتسان کے رہنے والوں اور پشتونوں تک اپنے ریڈیو چینلز ( ڈیوا اور مشال وغیرہ ) کے ذریعے پاکستان کے خلاف نفرت انگیز پیغامات پہنچا رہا ہے۔

امریکہ کے مفرور سی ائی اے ایجنٹ ایڈورڈ سنوڈن کے مطابق امریکہ دنیا بھر میں نیوکلیرز ہتھیاروں کی جاسوسی کے لیے سالانہ 46 بلین ڈالر کی رقم خرچ کرتا ہے جس میں سے 23 بلین ڈالر صرف پاکستان کے نیوکلیر پروگرام کے خلاف خرچ کرتا ہے۔ اس کے مطابق اتنی بڑی سرمایہ کاری کے بعد پاک فوج کا اب تک اس کا دفاع کر جانا حیران کن ہے۔

امریکہ کے مشہور دانشور رابرٹ تھارپلے کے مطابق امریکہ کا افغانستان پر حملہ اور یہ سارا ڈرما ہی صرف اور صرف پاکستان کے لیے ہے ۔ اصل نشانہ پاکستان ہی ہے۔

پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور کراچی میں جاری دہشت گردی کو لندن کی ایم آئی سکس الطاف حسین کے ذریعے اور امریکہ انڈیا اور افغانستان کے ذریعے سپورٹ کرتا ہے ۔

صلیبی جنگوں پر یقین رکھنے والی امریکہ کی پرائویٹ دہشت گرد ایجنسیوں میں سے کم از کم نصف درجن پاکستان کے اندر خفیہ جنگ لڑ رہی ہیں جن سے آئی ایس آئی ملک کے طول و عرض میں برسر پیکار ہے۔ ان میں بلیک واٹر ، زی اور ڈائن کور جیسی ایجنسیاں شامل ہیں ۔

لیکن جواباً پاکستان کیا کر رہا ہے۔

امریکہ انتظامیہ، عسکری ذرائع اور امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق بظاہر دنیا کے سامنے امریکی حلیف ہونے کا دعویدار پاکستان اس وقت امریکہ کے خلاف افغانستان میں جاری تمام تر جہاد کو کنٹرول کر رہا ہے اور مسلسل پندرہ سال سے امریکہ سمیت پوری دنیا کو بے وقوف بنا رہا ہے۔

لمبی تفصیل میں نہیں جاتے ۔ 27 اکتوبر اور 3 نومبر 2011 کو بی بی سی نے ” سیکرٹ پاکستان” کے نام سے ایک ڈاکومینٹری فلم کے دو حصے ریلیز کیے جس میں اس نے ثابت کیا کہ پاک آرمی اور آئی ایس آئی امریکہ اور پوری دنیا کے ساتھ ڈبل گیم کھیل رہی ہے اور بظاہر امریکی اتحادی بنی ہوئی ہے لیکن درحقیقت افغانستان میں لڑنے والے طالبان اور انڈیا کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کو پاکستان ہی اسلحہ اور تربیت فراہم کر رہا ہے۔

اوباما کے مشیر بروس ریڈ نے 2009 بیان دیا کہ افغانستان میں ہم کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے جسکو پاکستانی آرمی اور انکی خفیہ ایجنسی کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے۔ کئی پکڑے گئے طالبان کے انٹرویوز لیے گئے جنہوں نے کہا کہ ہمیں آئی ایس آئی امریکہ سے لڑا رہی ہے۔

ملا برادر جو ملا عمر کے بعد دوسرا بڑا کمانڈر ہے اس کو آئی ایس آئی نے کراچی سے پکڑا کیونکہ ایک برٹش ڈپلومیٹ کے مطابق وہ افغان حکومت سے خفیہ رابطہ کر کے مزاکرات کرنا چاہتا تھا جبکہ ائی آیس آئی ابھی اس جنگ کو جاری رکھنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ( پاک فوج اور آئی ایس آئی) یہ ناممکن خواب دیکھ رہی ہے کہ امریکہ کو بھی روس کی طرح افغانستان میں شکست دی جا سکتی ہے۔

ملا برادر کی رہائی کے لیے امریکہ نے پاکستان کو ایف 16 جہاز تک دینے کی پیشکش کی تھی جن کو جنرل کیانی نے ٹھکرا دیا تھا۔

پاکستان اپنی اس جنگ کو خفیہ کیوں رکھنا چاہتا ہے؟

اسکا جواب جنگی ماہرین یہ دیتے ہیں کہ اس طرح وہ جنگی اخراجات برداشت کر سکے گا بلکہ امریکہ کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کے اخراجات امریکہ سے ہی وصول کر سکے گا۔ نیز اسکو عالمی تنہائی کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑے گا ۔

مسٹر ریڈل کے مطابق پاکستان اپنی مخصوص جنگی حکمت عملی کی بدولت پوری دنیا کی مشترکہ فوجی طاقتوں کو افغانستان میں ڈبو سکتا ہے اور دنیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

پاکستان کی اس جنگی حکمت عملی کی نتیجے میں امریکی کی جنگی اور معاشی کمر ٹوٹنے کے قریب ہے اور انکا سرمایہ دارانہ نظام والا نظریہ اپنی وقعت کھونے لگا ہے۔اور امریکی صدر کی چیخیں مریخ تک سنی جا رہی ہیں۔

پاکستان نصاری ( امریکہ اور نیٹو ) کے لیے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

یہود و نصاری ، مشرکین اور ملحدین سارے ملکر پاکستان کے خلاف برسرپیکار ہیں اور پاکستان نہ صرف اکیلے ان سب سے نبرد آزما ہے بلکہ برابر کا جواب بھی دے رہا ہے۔

یہ ہے وہ پاکستان جس کو بنانے والوں نے عالم اسلام کا آخری قلعہ کہا تھا۔

آج اس قلعے پر چاروں سمت سے حملہ ہو چکا ہے۔ پاکستان کے خلاف بیک وقت نظریاتی، معاشی اور عملی جنگ جاری ہے۔

یہ جنگ پاک فوج اکیلے نہیں لڑ سکتی۔ آپ کو بھی ہاتھ بٹانا ہوگا۔

یاد رکھیں ۔۔۔۔۔۔۔

حملہ آور آپ کے ہرگز ہرگز خیر خواہ نہیں ہیں چاہے وہ جتنی مرضی آپ سے ہمدردی جتائیں۔ جتنے مرضی آپ کو سہانے خواب دکھائیں۔

انکا مقصد صرف اس قلعے میں دراڑ ڈالنا ہے تاکہ اسے فتح کر سکیں۔

پاکستان کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔ قوم پرستی ، مسلک پرستی یا عصبیت کے کسی اور جھنڈے تلے اس کو نقصان پہچانے کی کوشش نہ کرو ۔۔۔ 

اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔۔۔۔۔۔۔ 

پاکستان زندہ باد 

تحریرشاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here