اگر یہ نر کے بچے ہیں تو ذرا ہمت کر کے جماعت الاحرار یا ٹی ٹی پی کے خلاف ایک جلسہ کر کے دکھا دیں یا ان کے پکڑے گئے لوگوں کو سزائیں دینے کا مطالبہ کر کے دکھا دیں

0
473

ذرا اس سور کی شکل ملاحظہ کریں۔

اس کا نام علی وزیر ہے۔ اس نے کوئٹہ بار کونسل میں وکلاء سے خطاب کیا کہ “پاک فوج نے آپریشنز کے دوران پشتونوں کی 1200 عورتوں کو اغواء کیا ہے انکا حساب دو”

شیطان کی اولادوں (وکلاء) نے اس پر خوب زور و شور سے تالیاں بجائیں۔

دو باتیں ہیں۔

پہلی آئین کی شق نمبر 19 کے تحت آپ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاک فوج پر کوئی الزام نہیں لگا سکتے۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو یہ آئین شکنی ہوگی۔

وہاں کالے لباسوں میں موجود انسان نما مخلوق اور آئین و قانون کے نام نہاد علمبرداروں میں سے کسی ایک نے اس پر ثبوت طلب نہیں کیا۔ اگر ثبوت موجود نہیں تو کیا آئین کی یہ شق اس خنزیر کے خلاف استعمال ہوگی یا یہ لوگ آئین سے بالاتر ہیں؟؟

اگر آئین سے بالاتر ہیں تو بتایا جائے تاکہ ” آئین سے باہر” ان کا علاج کیا جا سکے!

دوسری بات ۔۔۔۔۔۔

کیا واقعی پشتون اتنے ہی بے غیرت ہونگے کہ لوگ سینکڑوں کی تعداد میں ان کی عورتیں اٹھا کر لے جا رہے ہیں اور وہ چپ کر کے بیٹھے ہیں؟؟

یہ پشتونوں پر بدترین تہمت ہے۔ اب پشتونوں کو ان بدبختوں کی گردنیں پکڑنی چاہئیں۔ جو پہلے پشتونوں کے خون پر سیاست کرتے رہے اب انکی عورتوں پر کرنا چاہتے ہیں۔

لعنت ہو ان پر ۔۔۔۔۔۔

نوٹ ۔۔ ایک اور بات ۔۔۔۔۔۔۔

اس بدبخت نے یہ بھی نعرہ لگایا کہ ” دہشت گردی کے پیچھے وردی ہے”
اگر یہ نر کے بچے ہیں تو ذرا ہمت کر کے جماعت الاحرار یا ٹی ٹی پی کے خلاف ایک جلسہ کر کے دکھا دیں یا ان کے پکڑے گئے لوگوں کو سزائیں دینے کا مطالبہ کر کے دکھا دیں؟؟

الٹا یہ مسنگ پرسنز کے نام سے پشتونوں کے ان قاتلوں کی رہائی کے مطالبے کر رہے ہیں، چیکنگ اور کرفیوز ختم کرنے کے مطالبے کر رہے ہیں تاکہ ان کو نقل و حرکت میں آسانی ہو، دہشت گردوں کے خلاف بنائی گئی امن کمیٹیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ٹی ٹی پی والے کھلے عام اس تحریک میں انکا ساتھ دینے کا اعلان کر رہے ہیں۔

کیا یہ سب کچھ پشتونوں کو نظر نہیں آرہا؟؟

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here