اگر پاک فوج فاٹا سے نکل آئی تو دہشت گرد دوبارہ افغانستان سے آکر وہاں قبضہ نہیں کرینگے؟؟

0
527

پاکستان میں قوم پرستی کا تازہ ابال ۔۔۔۔۔ !

” کراچی میں ایک شخص قتل ” ۔۔۔۔ یہ ہوتی ہے خبر۔

اور ۔۔۔۔۔۔

” کراچی میں ایک پشتون قتل ” ۔۔۔۔ یہ ہوتی ہے فساد ڈلوانے کی کوشش۔

نقیب اللہ کے معاملے میں بھی یہی کیا گیا۔
اگر اسی طرح چلانی تھی تو پوری خبر یوں بننی چاہئے تھی۔

” سندھی جماعت پیپلز پارٹی کے فرنٹ مین، مہاجر پولیس افسر ایس ایس پی راؤ انوار اور پشتون ایس ایچ او امان اللہ مروت نے مبینہ طور پر بلوچ آصف زرداری کے حکم پر پشتون نقیب اللہ کو قتل کر دیا”
( اور بقول عارف خٹک صاحب کے پٹھان کے لیے سب سے پہلی آواز ایک پنجابی نے اٹھائی تھی)

لیکن ایسا کریں تو فساد کیسے ڈلے!

نقیب اللہ کے لیے چلائی جانے والی تحریک کو قوم پرستوں نے ھائی جیک کر لیا اور اپنا چورن بیچنے لگے۔ جب کہ خود نقیب اللہ کی اپنی فیملی کہیں پس منظر میں چلی گئی۔

ہر جملے میں لفظ ” پشتون ” لازمً استعمال کیا جا رہا ہے۔ باقیوں کو تو چھوڑیں ہمارے عظیم لیڈر عمران خان صاحب نے بھی تقریر کر ڈالی کہ پشتونوں کے ساتھ زیادتیوں کا حساب لینگے اور میں تو فاٹا آپریشنز کے خلاف تھا۔ اللہ اس بندے کو عقل سلیم عطا کرے۔

آپریشن تو ایک طرف کیا عمران خان صرف اس بات کا ذمہ لے سکتا ہے کہ اگر پاک فوج فاٹا سے نکل آئی تو دہشت گرد دوبارہ افغانستان سے آکر وہاں قبضہ نہیں کرینگے؟؟

محمود اچکزئی نے پاکستان سے بغاوت پر مبنی جو نفرت انگیز بیانات جاری کیے وہ انکی انڈیا میں مودی اور نیتھن یاہو سے ملاقات کے بعد غیر متوقع نہیں ہیں۔

جو لوگ کہتے ہیں کہ ملالہ غدار تھی ہماری ایجنسیاں کیوں بے خبر رہیں۔ ان سے عرض ہے کہ اچکزئی کی غداری اور پاکستان دشمنی کا نظارہ تو آپ کی ساری عدلیہ اور پارلیمنٹ اپنی آنکھوں سے کر رہی ہے۔ اس کے لیے تو کسی ایجنسی کی اطلاعات کی ضرورت ہی نہیں۔ ایکشن لے کر دکھائیں نا؟

ایسے معاملات میں پاک فوج ایکشن لے تو آئین کی بے حرمتی ہوگی، آئی ایس آئی ایکشن لے تو ” مسنگ پرسنز” ۔۔۔۔ کریں تو کیا کریں؟

امریکی چینلز ” مشال ” اور ” ڈیوا ” امریکی ڈرونز سے زیادہ خطرناک ثابت ہورہے ہیں اور پشتونوں کو پاکستان سے بغاوت پر آمادہ کر رہے ہیں۔

امریکہ پہلے ڈرون مارتا ہے پھر “مشال” ریڈیو پر سوال اٹھاتا ہے کہ پشتونوں پر ہی کیوں؟
بی بی سی اپنے ہی چھوڑے گئے ” ایف سی آر” پر پشتونوں کو اکساتا ہے۔

لیکن قوم پرستی کی یہ ساری مہم اس لیے نہیں چلائی جا رہی کہ بنگلہ دیشن کی طرح پشتونوں کو خود اپنے ہی ملک کے خلاف لڑا کر پاکستان توڑ دینگے۔

ایسا نہیں ہونے والا۔ اسکی چند وجوہات ہیں۔

پشتونوں کی اکثریت پاکستان پر جان دیتی ہے۔

کے پی کے سے زیادہ پشتون پنجاب اور سندھ میں آباد ہیں اور وہ قوم پرستی کے نام پر جاری اس ساری مہم کو نفرت سے دیکھ رہے ہیں۔

پاک افغان سرحد پر تیزی سے لگتی باڑ کے باعث یہاں سے آمدورفت بند ہوجائیگی جس کے بعد پاکستان کے خلاف کوئی گوریلا فوج تیار نہیں کی جا سکے گی۔

پاکستان بھر میں جاری قوم پرستی کی اس مہم کے حقیقی مقاصد کچھ اور ہیں۔

گمان غالب ہے کہ پاکستان کے خلاف کسی بڑی اور فیصلہ کن مہم جوئی کی کوشش کی جائیگی۔ جس سے پہلے پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد کو نیوٹرل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دشمن پاکستانی سیاستدانوں اور پاکستانی میڈیا کے ذریعے مندرجہ ذیل تین مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

1۔ پاکستان کے خلاف کسی بڑی کاروائی کی صورت میں پاکستان کے اندر ایسے لوگ یا گروہ موجود ہوں جو پاکستان کی اپنی ہی فوج کے خلاف اس جنگ کا حصہ بن سکیں۔

2۔ اگر جنگ حصہ نہ بھی بنیں تو کم از کم دشمن کو خوش آمدید ضرور کہیں۔

3۔ یا کم از کم پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد لاتعلق یا نیوٹرل ہوجائے۔

ایسے گروہ پاکستان میں موجود ہیں جو کسی جنگ کی صورت میں دشمن کا ساتھ دینگے۔ ان میں سے بعض کے پاس اسلام اور بعض کے پاس قومی پرستی پر مبنی نعرے ہیں لہذا وہ خود کو غدار بھی محسوس نہیں کرینگے بلکہ اپنی ریاست کے خلاف جنگ کر کے خود کو ہیرو سمجھیں گے۔ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ایم کیو ایم اسکی چند مثالیں ہیں۔

آپ کو کیا لگتا ہے محمود اچکزئی نے جن ایک لاکھ افغانیوں کو پاکستانی شناختی کارڈ بنا کر دیا ہے وہ انڈیا یا افغانستان سے ہونے والی کسی بڑی کاروائی کو خوش آمدید نہیں کہیں گے؟

آپ نے کبھی غور کیا ہے مولانا فضل الرحمن کے اکثر پیروکار پاکستان کے دفاع کو جہاد قرار نہیں دیتے۔ کیوں؟

پاکستان میں دیسی لبرلز کے نام سے ایک عجیب و غریب مخلوق تیار کی گئی ہے جو پاکستان سے باقاعدہ نفرت کرتی ہے۔

پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر سب سے بڑی مہم ن لیگ والے چلا رہے ہیں۔ انہوں نے لاہور میں پاک فوج مردہ باد کے نعرے لگوائے۔

راؤلا کوٹ میں آزاد کشمیر کو مقبوضہ کشمیر قرار دینے کی مہم چل رہی ہے۔

گلگت بلتستان میں قوم پرستانہ مہم ناکام ہوئی تو نواز شریف نے ان پر ایک خصوصی ٹیکس لگا دیاجس نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اور وہاں دوبارہ آوازیں اٹھنی شروع ہوگئیں۔

جو لوگ اس آگ پر پانی ڈال رہے ہیں اللہ ان پر رحم کرے۔ جو اس کو بڑھکا رہے ہیں وہ خود بھی اس سے نہیں بچیں گے!

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here