اگر لاجواب ہوجاؤ تو سوال کا مذاق اڑانا شروع کر دو۔

0
697

ہم تو سوال کرے گا!

اگر لاجواب ہوجاؤ تو سوال کا مذاق اڑانا شروع کر دو۔

بی بی سی اور اس کی تخلیق ” منظور پسکین ” بھی اس وقت یہی کر رہے ہیں۔ فاٹا میں امن قائم ہونے کے بعد اچانک ” پسکین تحریک ” شروع ہونے پر پشتونوں نے یہ جائز سوال اٹھایا کہ ” پشتین آج سے چار سال قبل کہاں تھا جب پشتونوں کی گردنیں اتاری جا رہی تھیں؟ “
جواب آیا کہ ” چار سال قبل پشتین پانچ سال کا تھا ” ۔۔۔ 🙂
اب پشتون اتنے بھی سادہ نہیں کہ اس جواب پر مطمئن ہوجائیں لہذا پیچھے پڑ گئے!

اب بی بی سی والے پسکین تحریک کے پسکین جوابات کو اپنے صفحہ اؤل پر جگہ دے رہے ہیں کہ “1901ء میں پسکین کہاں تھا” اور “1947ء میں کہاں تھا” وغیرہ وغیرہ۔

لیکن کیا اس ٹھٹے اور مذاق سے یہ سوال اپنی اہمیت کھو دے گا؟

مجھے یاد پڑتا ہے کسی دور میں عمران خان نے پاکستان کے بے پناہ وسائل کا ذکر شروع کیا تھا جس سے پاکستان بے شمار فائدے اٹھا سکتا ہے۔ عمران خان کا انداز یہ ہوتا تھا کہ “پاکستان میں اتنا ماربل ہے کہ یہ ہوسکتا ہے” اور “اتنا کوئلہ ہے کہ یہ ہوسکتا ہے” وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔

ظاہر ہے اس سے عوام میں ملک کی قدرومنزلت بڑھتی ہے اور مسلط شدہ چوروں کی نااہلی واضح ہوتی ہے۔

جواباً بی بی سی اور جیو چینل نے اس پر عمران خان کی ڈمی بنا کر مزاحیہ پروگرام کیے تھے جس میں وہ کہہ رہا تھا کہ “پاکستانیوں کے جسموں میں اتنا لوہا ہے کہ ہم اپنے جہاز بنا سکتے ہیں” اور اس طرح کی دیگر طنزیہ باتیں۔

اس کے بعد عمران خان یہ تذکرے بند کر دئیے تھے۔

لیکن ہم بند نہیں کرنے والے 🙂

ہم تو سوال کرے گا کہ ۔۔

منظور چار سال پہلے کیسے پانچ سال کا تھا؟؟
تمام پاکستان اور پشتون دشمن منظور کو کیوں سپورٹ کرتے ہیں؟؟
اپنا مطلب نکلوانے کے لیے منظور عورتوں کو کیوں استعمال کرتا ہے؟؟ کبھی کہتا ہے کہ پاک فوج نے میری 1400 عورتیں اغواء کی ہیں، کبھی جلسوں میں بلانے کو لیے اپنی عورتوں کو لوگوں کے دروازوں پر بھیجتا ہے اور کبھی پشتون عورتوں کو بے پردہ کر کے ان کے ساتھ سلفیاں، پشتون ہو کر یہ سب یوں؟؟

وغیرہ وغیرہ ۔۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here