اٹھائیس مارچ کو عظیم روسی ادیب مکسیم گورکی کی ڈیڑھ سوویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔

0
550

اٹھائیس مارچ کو عظیم روسی ادیب مکسیم گورکی کی ڈیڑھ سوویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔

مکسیِم گورکی کا اصل نام الیکسے پیشکوو ہے۔

انہوں نے 1868 میں روسی شہر نیِژنی نو گورود میں بڑھتی گھرانے میں جنم لیا تھا۔ ان کے والدین بہت جلد انتقال کر گئے تھے، اس لیے نانا نے جو ایک سخت انسان تھے، الیکسے کی پرورش کی۔ 11 سال کی عمر سے الیکسے کو روزی کمانی پڑی۔ بچپن سے ہی ان کی زندگی تلخی سے پر تھی اسی لیے انہوں نے اپنا تخلص مکسیم گورکی رکھ لیا تھا۔ روسی زبان میں لفظ گورکی کا مطلب “تلخ” ہے۔ جبکہ مکسیم ادیب کے والد کا نام تھا۔

مکسیم گورکی کی ادبی سرگرمیاں بہت جلد شروع ہوگئی تھیں۔ نوجوانی میں ہی انہوں نے اپنی زندگی کے بارے میں تین حصوں پر مشتمل تصنیف کی تھی جن کے عنوان ہیں “بچپن”، “لوگوں کے بیچ” اور “میری یونیورسٹیاں”۔

اصل میں گورکی نے کسی بھی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ انہوں نے یونیورسٹی میں داخلہ لینے کی کوشش تو کی تھی لیکن انقلابی سرگرمیوں میں شامل ہونے کے باعث انہیں چند مرتبہ گرفتار کیا گیا اور پولیس ان کی نگرانی کرنے لگی۔ اسی زمانے میں گورکی نے مختصر کہانیاں لکھنا شروع کیں۔ یہ کوشش انتہائی کامیاب ثابت ہوئی۔ اپنے آئندہ ناولوں اور ڈراموں میں مکسیم گورکی نے روس کی تاریخ میں اس مشکل دور کے بارے میں اور نیا سماج وجود میں آنے کے بارے میں بھی بتایا۔ ان تصانیف کی بدولت ادیب کو بے حد شہرت حاصل ہوئی۔ ان کی مشہورترین تصنیف ناول “ماں” ہے جس میں انہوں نے نئی قسم کے کردار اجاگر کئے۔ عالمی سطح کے ادیب کی حیثیت سے گورکی نے کئی رزمیہ تصانیف کیں۔ اس کے علاوہ ان کے کئی ڈرامے بھی قابل توجہ ہیں۔

مکسیم گورکی کو نہایت سنگین زمانے میں جینا نصیب ہوا تھا جب روس میں یکے بعد دیگرے تین انقلاب برپا ہوئے، خانہ جنگی اور بہت سی تخریب کاریاں بھی ہوئیں۔ گورکی اشتراکی اصلاحات کے حامی تھے لیکن ایک فن کار کے طور پر وہ ملک کے نئے حکام کی پالیسیوں کو تنقید کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ وہ طویل عرصے کے لیے غیرممالک جایا کرتے تھے اس لیے انہیں مختلف ملکوں میں ہونے والے سماجی اعمال کا جائزہ لینے کا موقع ملتا تھا۔ ان پر واضح تھا کہ روس کے نئے حکام کئی غلطیاں کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود کہ حکومت انہیں اپنے تصورات کا ترجمان بنانے کے لیے کوشاں تھی پھر بھی گورکی نے اس کے گن گانے میں جلد بازی نہیں کی۔

مکسیم گورکی ایک عظیم شخصیت تھے، وہ اخلاقی اصولوں کی بہت ہی قدر کرتے تھے- ایک غریب شخص سے بڑے ادیب میں تبدیل ہونے کے بعد بھی ان کی لوگوں سے ہم دردی کم نہیں ہوئی تھی۔ گورکی نے عوام کے لیے بہت کچھ کیا۔ کئی لوگوں نے ان سے مالی اور نفسیاتی مدد کی درخواستیں کی تھیں اور ان کا جتنا بھی بس چلتا تھا وہ سب کو مدد دیتے تھے۔

مکسیم گورکی کی تصانیف کا برصغیر میں بولی جانے والی زبانوں سمیت کئی غیرملکی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس معروف ادیب کی یادیں دنیا بھر میں زندہ ہیں۔ مثال کے طور پر کلکتہ میں ان کے نام سے موسم ایک سڑک موجود ہے۔ کئی کلبوں کو بھی مکسیم گورکی کا نام دیا گیا ہے۔ روس میں بہت سی سڑکیں، جہاز اور تھیٹر وغیرہ گورکی کے نام سے موسم ہیں، کئی شہروں میں ان کے مجسمے ایستادہ ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here