اورن برگ کا لکھ پتی، نیکی کے کام کرنے والا احمت بے حسینوو

0
514

اورن برگ کا لکھ پتی، نیکی کے کام کرنے والا احمت بے حسینوو
(1906-1837 )

احمد حسینوو جنوبی یورال میں اورنبرگ کے قریب کی ایک بستی کے غریب ہو چکے تاجر کے بیٹے تھے۔ انہیں بارہ برس کی عمر میں کنبے کا پیٹ پالنے والا بننا پڑ گیا تھا جس کے لیے انہوں نے ہر طرح کا کام کیا تھا۔ انہوں نے ایک معمولی رقم یعنی کل پانچ روبل جمع کر لی تھی ۔ اس سے ہی چھوٹے سے لڑکے نے کاروبار کا آغاز کیا تھا پہلے پہل شہر اورنبرگ میں چھوٹی چھوٹی چیزیں اور خام مال بیچا تھا اور بعد میں اپنے بھائیوں محمود اور غنی کو اپنے ساتھ کام میں لگا لیا تھا۔

انہوں نے مل کر ” احمت حسینوو بھائیوں کے ساتھ” نام کی ایک فرم بنا لی تھی جو یورپی روس اور وسطٰ ایشیا کے تاجروں کے درمیان مال کی دلالی کرنے کا کام کرتی تھی۔ بھائیوں نے کام آپس میں بانٹ لیے تھے۔ غنی ترکستان کی منڈی سنبھالتے تھے، محمود اورنبرگ میں فرم کا کام دیکھتے تھے اور خود احمت ترکستان سے انتہائی کم قیمت میں مویشی، خام مال، اونٹوں اور بھیڑوں کی اون خرید کر نژنی نووگورد، ماسکو، کازن اور دوسرے شہروں کے بڑے بڑے تجارتی میلوں میں لا کر بیچتے تھے۔ ان شہروں سے وہ تھوک میں صنعتی اشیاء خرید کر اپنے بھائیوں کو کو انہیں بیچنے یا مویشیوں کی اون اور کپاس کے ساتھ تبادلہ کرنے کی خاطر بھیج دیا کرتے تھے۔ مختلف مقامات پر مختلف مال بیچ کر ان کی خرید اور فروخت کی قیمتوں میں فرق سے حاصل ہونے والی آمدنی سے انہوں نے بہت سی دولت جمع کر لی تھی۔ بہت سا پیسہ کما کر احمت 1873 میں اورنبرگ منتقل ہو گئے تھے۔ کامیاب تاجر نے اورنبرگ کے مرکز میں کئی دکانیں اور گودام کھول لیے تھے۔ بتدریج انہوں نے اپنی فرم کے کام کے علاقوں کو بڑھایا تھا، یورپی منڈی میں داخل ہو کر برلن اور پیرس کے تاجروں کے ساتھ سودے کیے تھے۔
یوں ان بھائیوں نے کئی عشروں پر محیط مشترکہ سرگرمیوں کے سبب روس کے بہت سے بڑے تجارتی مراکز اور اسی طرح غیر ملکوں میں کامیاب فرمیں بنا لی تھیں اور ان کی شاخیں قائم کر لی تھیں اس طرح انہوں نے تقریبا” چالیس لاکھ روبل کمالیے تھے۔ 1896 میں جب انہوں نے آپس مین رقم بانٹی تھی تو ہر بھائی کے حصے میں دس لاکھ اڑتیس ہزار روبل آئے تھے۔

ان معروف حسین برادران کی شہرت کی بڑی وجہ دولت نہیں بلکہ ان کا سخی ہونا اور بامقصد نیک کام کرنا رہا تھا۔ بہت با اعتقاد مسلمان ہونے کی وجہ سے انہوں نے تاتار برادری میں عقیدے سے متعلق اداروں یعنی مساجد اور مدرسوں کی مدد کرنے پر خصوصی توجہ دی تھی۔ اس دوران، بہت سے دوسرے ترقی پسند بورژوا افراد کی طرح انہوں نے بھی قومی زندگی کے تمام پہلووں جن میں عوام کی تعلیم سب سے پہلے آتی تھی، کو اصلاحات سے ہمکنار کرنا ازبس ضروری جانا تھا۔ وہ ایسا کرنے میں روس کے مسلمانوں کے امکانات دیکھتے تھے کہ وہ اس طرح تیزی کے ساتھ قومی اور مذہبی اختصاصیت سے ہاتھ دھوئے بنا عالمی تہذیب کا حصہ بن سکیں گے۔

حسینوو براداران نے سوچ سمجھ کر ایک مقصد کے تحت جدید تعلیمی اداروں میں رقم لگائی تھی، پورے ملک کے ترقی پسند مفکر اساتذہ کو کام کرنے کا معاوضہ دیا تھا، ضروری ادب کے اشاعت گھر بنائے تھے۔ احمت بے کی پہل کاری 1899 میں اورنبرگ میں “مدرسہ حسینیہ” قائم ہوا تھا۔ 1896 میں وہ مستقل سکونت کی خاطر کازان منتقل ہو گئے تھے۔ 1906 میں اپنی فوتیدگی تک احمت بے نیک کام کرنے میں مصروف رہے تھے، شہر کے مکاتیب کی اعانت کرتے تھے خاص طور پر مدرسہ “محمدیہ” کی اور مسلمان فلاح کار برادری کی۔ کازان میں اپنے دس سالہ قیام میں انہیوں نے بیس مساجد اور مدرسے تعمیر کروائے تھے، چالیس مکاتب کے اساتزہ کو مشاہرہ دیا تھا اور 200 سکولوں کو ضروری نصابی کتب مہیا کی تھیں۔
اپنی زندگی کے آخر میں احمت بے نے ایک بے مثال نیک کام کیا تھا، انہوں نے قومی تعلیم کی ضرورت کو پورا کرنے کی خاطر تقریبا” پانچ لاکھ روبل دے دیے تھے۔ اس رقم سے عملی طور پر ایک طویل مدتی پروگرام کو مالی مدد ملی تھی جس کے تحت تاتاروں میں دینی اور عام تعلیم کو فروغ دینے میں مدد ملی تھی۔ جدید مدرسے بنائے گئے تھے اور ذہین طالبعلموں کے لیے وظائف مقرر کیے گئے تھے تاکہ وہ روس کے تکنیکی اعلٰی تعلیمی اداروں میں پڑھ سکیں۔ عرب ملکوں کے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here