ان شقوں کے مطابق مخلوط طرزِ انتخاب کے باوجود قادیانیوں اور لاہوریوں کی قانونی حیثیت غیرمسلم ہی رہے گی

0
812

خادم حسین رضوی کا دھرنا اور ختم نبوت پر حکومتی بدنیتی ۔۔۔۔۔ !

خادم حسین رضوی اپنے پیروکاروں کے ہمراہ فیض آباد کے قریب دھرنا دئیے بیٹھے ہیں۔ انکا مطالبہ ہے کہ ۔۔۔۔۔۔ ” ختم نبوت کے خلاف کی گئی ترمیم کے ذمہ داروں کو سزا دی جائے ” ۔۔۔۔۔ !
ن لیگ نے اپنی حالیہ ترمیم میں ختم نبوت پر دو پہلوؤں سے حملہ کیا تھا۔ 
۔۔۔ ختم نبوت کا اقرار کرنے کے لیے حلف کی شرط ختم کی تھی۔
۔۔۔ دفعہ 241 کی ذیلی شق 7 بی اور 7 سی کا خاتمہ کیا تھا۔
ان شقوں کے مطابق مخلوط طرزِ انتخاب کے باوجود قادیانیوں اور لاہوریوں کی قانونی حیثیت غیرمسلم ہی رہے گی۔اور کسی ووٹر پر قادیانی یا لاہوری ہونے کا شک ہو تو اس سے ختم نبوت پر حلف لیا جا سکے گا ورنہ وہ غیر مسلم تسلیم کیا جائیگا۔
(بشکریہ ضیاء رسول صاحب کے)

ان ذیلی شقوں کی منسوخی کے بعد اب قادیانی یا لاہوی گروپ کے کسی ووٹر کو مسلمانوں کی ووٹرلسٹ سے نکالنے کا کوئی قانونی طریقہ باقی نہیں رہا۔

اب آپ ہی بتائیے کیا واقعی یہ ” کلیرکل غلطیاں ” تھیں؟؟

مسلم لیگ ن کے سینیٹر اور سینئر راہنما راجہ ظفرالحق کے مطابق ختم نبوت کے حلف نامے میں تبدیلی جان بوجھ کر کی گئی تھی۔ موصوف اس کمیٹی کے سربراہ ہیں جو اس معاملے کی تحقیقات کر رہی تھی۔

اس کمیٹی کی رپورٹ کو حکومت دبا کر بیٹھ گئی ہے۔ مبینہ طور پر اس رپورٹ میں پرویز رشید، وزیر قانون زاہد حامد اور وزیر آئی ٹی انوشہ رحمان کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ انوشہ رحمان تو گرفتار ملعون ایاز نظامی کے کیس میں بھی مداخلت کرتی رہی ہیں اور توہین رسالت کے قانون کے سوشل میڈیا پر اطلاق کے بھی سخت خلاف ہیں۔

یہ بھی سنا ہے کہ تمام تر ڈرامے کے باؤجود مذکروہ تبدیلیاں واپس بھی نہیں لی گئیں ہیں۔

خادم حسین رضوی کا مطالبہ ہے کہ ملوث لوگوں کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف کاروائی کی جائے۔ فلحال ان کے دھرنا کا مکمل طور پر میڈیا بلیک آؤٹ ہے۔

میرۓ خیال میں خادم حسین رضوی صاحب تینیکی غلطی کر رہے ہیں۔ بجائے فیض آباد بلاک کرنے کے اگر وہ رائیونڈ کے سامنے دھرنا دے کر بیٹھ جائیں تو زیادہ موثر ثابت ہوگا۔

اس لحاظ سے یہ لائق تحسین ہیں کہ 20 کروڑ کی آبادی میں یہی تھوڑے سے لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے نکلے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیراعظم ظفراللہ جمالی نے اس ترمیم پر اسمبلی میں اپنی تقریر کو آخری قرار دیتے ہوئے دعا کی تھی کہ ۔۔۔۔۔

” اللہ میری موت سے پہلے اس اسمبلی کو موت دیدے۔۔۔۔۔۔ “

ان کی اس تقریر پر ن لیگ نے شیم شیم کے نعرے لگائے تھے۔

تحریر شاہد خان

معلوماتی مضامین کے لیے پلے سٹور میں جاکر Related Pakistan  نامی ایپ انسٹال کیجیے ۔۔۔۔۔۔ !

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here