یہ جاہلوں کا ٹولہ ہے۔ ان کو نظریاتی بحث و مباحثوں میں الجھا دیا گیا ہے۔ مغرب سے درآمد شدہ فکر و فلسفے کی اندھی تقلید نے انکو حماقت میں مبتلا کر دیا ہے۔
یہ زور زور سے چیختے ہیں۔ ان جعلی نظریات کی ناکامی کی تاویلیں ڈھونڈتے ہیں گویا یہ کوئی وحی الہی ہیں جو کبھی غلط ہو ہی نہیں سکتیں ۔۔۔۔

مغرب سے مرعوب ان فکری غلاموں میں اتنی جرات ہی نہیں کہ ان نظریات پر نظرثانی کر سکیں اور ان کو حقیقت کی کسوٹی پر پرکھ سکیں۔۔

بلکہ ان میں سے اکثر کا مقصد اب صرف عوام سے داد وصول کرنا ہی رہ گیا ہے۔ وہ ان فرسودہ نظریات کی نت نئی تعریفیں کر کے لوگوں سے داد طلب کرتے ہیں اور ملنے پر خوش ہوجاتے ہیں۔۔۔۔

آزادی اظہار، آزادی نسواں، جمہوریت، حقوق اور لبرل ازم کے یہ نعرے کسی معاشرے کے نیچے بارودی سرنگ بچھانے کے مترادف ہیں۔ یہ کسی بھی معاشرے کو منتشر کرنے اور وہاں موجود نظم و ضبط کی تمام تر صورتوں کو تباہ و برباد کردینے میں بے مثال کردار ادا کرتے ہیں ۔۔۔۔

ان بے معنی نعروں کو انہوں نے خدا بنا لیا ہے اور اب وہ اسکے خلاف سوچنا بھی نہیں چاہتے ۔۔۔

یہ نعرے ان پر اس طرح تھوپے گئے ہیں کہ انہیں محسوس ہوتا ہے گویا یہ انہی کے ایجاد کردہ ہیں۔۔۔۔۔ آہ ۔۔۔ آپ کے بڑے بڑے فلسفی ، دانشور ، عالم اور دانا اسکا شکار ہوچکے ہیں ۔

مجھے انتظار ہے اسوقت کا جب ان نظریات کی دھجیوں کو انسانوں کے سامنے پیش کرنے والے لوگ سامنے آئیں گے۔ جو کچھ الگ ہونگے۔۔۔۔

میں بار بار دہرا رہا ہوں۔ لوگوں کو آزادی کی جگہ ذمہ داری اور حق کی جگہ فرض کا سبق سکھاؤ۔ اس بدمست بیل کو سامنے سے روکو ورنہ یہ ہر چیز کو تباہ و برباد کر دے گا۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here