ان بلیکیوں کو یہ ثابت کرنا کہ جب آپ غلط کرو گے ظلم کرو گے ناجائز اور حرام منافع خوری کرو گے تو یہ قوم آواز اٹھائے گی

0
495

فروٹ_بائیکاٹ_مہم۔۔۔

کچھ لوگ کہیں گے غریب ریڑھی والے پر ظلم،،ان کی روزی میں لات مار رہے کچھ کہیں گے اپکو موبائل کارڈ پر ٹیکس دیتے ہوئے مہنگائی محسوس نہیں ہوتی کچھ کو امیروں کی ٹپ یاد آ جائے گی۔۔۔۔۔

اچھا سنیں۔۔معاشرے میں غریب صرف فروٹ کی ریڑھی والا ہی نہیں ہے۔۔غریب طبقے میں بمشکل 4 سے 6 پرسنٹ فروٹ والے ہوں گے۔۔باقی میں وہ مزدور ہے جو سارا دن اینٹیں اٹھاتا ہے۔۔۔
درجہ چہارم کا وہ سرکاری ملازم ہے جس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔۔۔
وہ ملازم بھی ہے جو کسی دوکان پر دس ہزار کے لیئے کام کرتا ہے۔۔۔
وہ کھلونوں والا ہے جو سائیکل پر دوکان سجائے گلی گلی پھرتا ہے۔۔۔
وہ بوڑھا بابا ہے جو برف کا پھٹہ لگائے ہوئے ہے۔۔۔
وہ موچی ہے جو سارا دن جوتے گانٹھتا ہے۔۔۔
وہ باربر ہے جودرخت کے نیچے میز کرسی اور ایک شیشہ سجائے بال کاٹتا ہے۔
وہ بیوہ ہے جو سلائی کر کے بچوں کا پیٹ پالتی ہے۔۔۔
غربت اتنی ہے کہ لکھنے میں کتاب لکھی جائے مگر ان چند مثالوں پر اکتفاء کرتا ہوں کہ یہ سب بھی غریب ہیں جن کے بچے اپکی اور میری افطاری دیکھ کر دل مسوس کر رہ جاتے ہیں جو باپ سے خواہش کرنا چاہتے ہیں مگر اس کے جھکے ہوئے کندھے شکست خوردہ آنکھیں نڈھال وجود اور بے بسی کی علامت بنے چہرے پر نظر ڈال کر الفاظ کو ہونٹوں میں مقفل کر دیتے ہیں

یہ مہم اس لیئے چلائی جا رہی ہے تاکہ یہ معصوم بچے چھوٹی چھوٹی خواہشات کو اپنے وجود میں دفنانا چھوڈ دیں۔۔تاکہ وہ بیوہ جو اپنے بچوں کے تاثرات کو بچوں سے بھی بڑھ کرسمجھتی ہےافطاری کے ٹائم اپنی بے بسی اور بچوں کی مصنوعی مسکراہٹ پر چھلکتی ہوئی آنکھوں کو چھپانےکے لیئے پیاز کاٹنے نہ بیٹھے۔۔اور اس باپ کے لیئے بھی جو افطاری میں ایک درجن کیلے لینے کا ارادہ کرتا ہے تو سحری کے لیئے جیب خالی نظر آتی ہے۔۔

#مقصد

مقصد یہ ہے کہ ان ملک صاحب کو جنہوں نے اپنا فروٹ 25 روپے فی کلو یا درجن مہنگا کیا کہ رمضان ہے بیوپاری تو خریدیں گے۔۔۔اس منڈی والے جس نے اگے 50 روپے مہنگا کر دیا کہ دوکان والا تو خریدے گا،،اور اس دوکان والے اور ریڑھی والے جس نے آگے 100 روپے مہنگا کر دیا کہ گاہک تو خریدے گا۔۔۔کو یہ بتانا ہے کہ ہم نہیں خریدیں گے۔۔

ان بلیکیوں کو یہ ثابت کرنا کہ جب آپ غلط کرو گے ظلم کرو گے ناجائز اور حرام منافع خوری کرو گے تو یہ قوم آواز اٹھائے گی۔۔
یہ سوئی ہوئی نہیں۔۔۔
یہ بے حس نہیں۔۔
اگر میں خرید بھی سکتا ہوں تو میں یہ سوچوں کہ میرا ہمسایہ نہیں خرید سکتا تو میں کیوں خریدوں۔۔جب اس کے بچے بغیر فروٹ کے رہ رہے ہیں دو خشک روٹیوں اور پانی کے گلاس سے روزہ افطار کر رہے ہیں تو میں کس منہ سے لدھے جا رہا ہوں۔۔۔

اگر ہم یہ بائیکاٹ کرتے ہیں تو جو ناجائز منافع خور عوام کو نوچنے کے ناخن تیز کیئے بیٹھے ہیں انہیں معلوم ہو جائے کہ یہ کام نہیں چلے گا۔۔پاکستانی عوام گدھا نہیں ہے کہ جتنا بھی وزن ڈال دو چل پڑے۔۔۔

ہم ہی ہیں۔۔جنہوں نے اس چور بازاری اور اخلاقی گراوٹ کو ختم کرنا ہے اس کے خلاف آواز اٹھا کر اس کا بائیکاٹ کر کے اس کے خلاف کھڑے ہو کر۔۔اگر اسی طرح مردہ ضمیری کا مظاہر کرتے رہے تو کچھ بعید نہیں کہ کوئی مفکر کوئی فلسفی پاکستانی عوام کے لیئے حیوان ناطق سے ناطق گرا دے۔۔اور دنیا اس فیصلے پر سر تسلیم خم کر دے۔۔۔ہمیشہ بہتری کے لیئے اپنا حصہ ڈالیئے گھروں میں بیٹھ کر ہمسائے کی خبر نہ رکھنے والا جب سیاست دانوں کو کوستا ہے تو لکھنے والا بھی ہنستا ہے اس حالت زار پر۔۔۔۔خود اپنی ذات سے کوشش کیجیئے۔۔۔اپنا حصہ ڈالیئے۔۔۔کسی کو کوسنے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔۔

#نوٹ…جو جو احباب اس مہم میں ہمارا ساتھ دینا چاہیں کمنٹ کرتے جائیں اور پوسٹ کو آگے شئیر کر دیں۔۔۔آپ سب کی رائے کو مقدم رکھتے ہوئے بائیکاٹ سٹارٹ ڈیٹ/ڈے اسی پوسٹ کے کمنٹ اور ایک الگ پوسٹ کی صورت میں بھی پوسٹ کر دیا جائے گا۔۔۔۔

ایک پاکستانی۔۔۔ماسٹر محمد فہیم امتیاز

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here