غلط فہمی ۔۔۔۔۔۔ !

کل انڈیا کی ایک دو ریاستوں میں گائے کے بعد بیل، بھینس اور اونٹ کی قربانی پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ 

شائد کچھ نئی رشتے داریاں نکل آئی ہیں۔ گائے ماتا تو بیل شائد پتا، بھینس پھوپھی اور اونٹ ماموں وغیرہ ؟

قیام پاکستان کے کچھ مخالفین بجائے اپنی غلطی تسلیم کرکے شرمندہ ہونے کے اس قسم کے واقعات کو ہی دلیل بنا رہے ہیں کہ اگر پاکستان نہ بنتا تو ہندوؤں کو یہ جرات نہ ہوتی۔ ہم تعداد میں انکے برابر ہوتے۔ بلکہ شائد ہم مشترکہ ہندوستان میں اسلام نافذ کر دیتے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔

آج ذرا انکی یہ غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انڈیا کی کل آبادی اس وقت 1 ارب 32 کروڑ ہے جس میں مسلمانوں کی آبادی 18 کروڑ ہے۔
یعنی 1 ارب 14 کروڑ ہندو ہیں۔ جن میں 3 یا 4 کروڑ سکھ اور عیسائی بھی شامل ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش میں مقیم 2 کروڑ ہندو ملا لیں تو 1 ارب 16 کروڑ کی کل تعداد بنتی ہے۔

دوسری جانب ۔۔۔۔۔۔۔

بنگلہ دیشن کی 16 کروڑ آبادی میں 14 کروڑ 50 لاکھ مسلمان۔
پاکستان میں 19 کروڑ 50 لاکھ مسلمان۔
اور انڈیا میں 18 کروڑ مسلمان۔

یعنی متحدہ ہندوستان میں کل مسلمان ہوتے 52 کروڑ۔ ہندوؤں کے آدھے سے بھی کم۔

ان احمقوں کو یقین ہے کہ یہ 52 کروڑ مسلمان ہر لحاظ سے ان 1 ارب 16 کروڑ ہندوؤں پر غالب رہتے!

بھلا کیسے؟؟

کانگریسی ملاوؤں اور غفار خان جیسے نام نہاد قوم پرستوں کا مذہب “جمہوریت” تھا تو کیا ہندوؤں پر یہ غلبہ ہم کسی جمہوری طریقے سے حاصل کرتے؟؟

یا ہم ان سے مسلسل حالت جنگ میں رہتے ؟؟ اس کے نتائج کیا ہوتے؟ بے پناہ خونریزیوں کے بعد بھی بلاآخر ایک الگ ملک کا مطالبہ ؟؟

ویسے 1937ء میں ان کی خواہش کے عین مطابق ہندو اور مسلمانوں کی مشترکہ حکومت بن گئی تھی تب کیا ہوا تھا؟ گائے ذبح کرنے پر پابندی، بازاروں میں ٹوپی اور شیروانی پر پابندی، وندے ماترم کا پڑھنا لازم اور مساجد کی بے حرمتی کو روک پائے تھے یہ سارے ؟؟؟

اور ذرا یہ بتائیے کہ یہ اسلام کن پر اور کیسے نافذ کرنے کا پلان تھا؟

مشترکہ ہندوستان میں تو آپ اپنی مرضی کی قربانی تک دینے میں ناکام رہے تھے۔

نالائقی کی حد ہے کہ ہندوستان تو چھوڑیں ان کانگریسی ملاؤوں کی باقیات پاکستان اور بنگلہ دیش میں بھی اسلام نافذ نہ کرسکیں۔

ان کی عوامی حمایت کا یہ حال ہے کہ مولانا فضل الرحمن صاحب کے جلسوں میں سے مدارس کے بچے نکال لیے جائیں تو وہاں مولانا صاحب اکیلے کھڑے نظر آئیں۔۔۔۔۔۔۔۔ 

اگر اسلام نافذ کرنے کا پلان نہیں تھا تو کیا یہ ساری تگ و دو 52 کروڑ مسلمانوں کو ہندوؤں کا محکوم بنانے کی تھی ؟؟

ویسے اگر انکی خواہش پوری ہوجاتی تو ۔۔۔۔۔۔۔

آج ڈونلڈ ٹرمپ یہ نہ کہہ رہا ہوتا کہ افغاستان میں ہمیں پاکستان کی وجہ سے شکست ہو رہی ہے۔
روس کے قبضے سے افغانستان اور وسطی ایشیاء کی مسلمان ریاستیں کبھی آزاد نہ ہوپاتیں۔
اسرائیل کو کسی پاکستان کے نیوکلئیر حملے کا خطرہ نہ ہوتا اور وہ 67ء میں ہی عربوں کو مغلوب کر چکا ہوتا۔
عراق و ایران جنگ دونوں ممالک کو مٹا چکی ہوتی۔
دنیا کی سب سے بڑی مشرک ریاست کو برابر کا جواب دینے والا کوئی نہ ہوتا۔
جنوبی ایشیاء کے دو تہائی مسلمانوں کو اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا موقع ہرگز نہ ملتا۔
دعوت و تبلیغ کا کوئی عالمی مرکز اس خطے میں نہ ہوتا۔
اور آج مشترکہ ہندوستان کے خود سسکتے مسلمانوں کو برما میں مسلمانوں پر ہونے والا ظلم ہرگز نظر نہ آرہا ہوتا۔

خدارا پاکستان کی قدر کیجیے۔ اپنی غلطیوں اور حماقتوں کی زمہ داری پاکستان پر مت ڈالیے۔

اس پاکستان سے اللہ اب تک ناقابل یقین کام لے چکا ہے اور آگے بھی لے گا ان شاءاللہ۔ خوابوں اور سرابوں سے نکل آئیے اور اس کو کمزور کرنے کے بجائے اس کو طاقت دیجیے!

تحریر شاہدخان

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here