انڈیا اور براہموس کروز میزائیل 

0
385

انڈیا اور براہموس کروز میزائیل 

بھارت اپنے براہموس میزائیل کو دنیا کا سب سے خطرناک میزائیل ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے اور کچھ پاکستانی بھی اس میزائیل کی اصلیت جاننا چاہتے ہوں گے ان کے لیے یہ تحریر پیش خدمت ہے.
براہموس میزائیل ایک کروز میزائیل ہے لیکن یہ میزائیل نیوکلیئر وارنہیڈ نہیں اٹھا سکتا اور بھارت کے پاس ایسے چھوٹے نیوکلئر بمب موجود نہیں جو براہموس میزائیل میں فٹ کیے جا سکیں دوسرے الفاظ میں یہ میزائیل صرف ائنٹی شپ مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے.
چند ماہ پہلے بھارت نے براہموس کا فضا سے زمین پر مار کرنے والے ورڏن کا تجربہ بھی کر ڈالا.لیکن بھارتی عوام کا گمنڈ اس وقت ٹوٹا جب یہ پتہ چلا کہ براہموس میزائیل کو فائر کرنے کے لیے بھارت کے پاس کوئ بھی طیارہ موجود نہیں.یعنی بھارت کے پاس صرف دو سکھوئ-30 طیارے ہیں جو یہ میزائیل فائر کر سکتے ہیں.براہموس میزائیل کافی وزنی میزائیل ہے اسلیئے اسے اٹھانا کسی بھی بھارتی طیارے کے بس کی بات نہیں.بھارت نے اپنے یہ دو طیارے دو سال تک روس کو دیے گئے تا کہ ان طیاروں کی لوڈ اٹھانے کی صلاحیت بڑھائ جا سکے.میزائیل بنانے کے بعد بھارت اپنی ہی دفاعی انڈسٹری کے ہاتھوں پھنس چکا ہے کیونکہ بھارت تمام طیارے روس کو دینے کا رسک نہیں لے سکتا.دوسری طرف بھارت کے موجودہ سکھوئ طیارے براہموس میزائیل کو بہت کم بلندی تک اٹھا پاتے ہیں جہاں تک پاکستان کی اورلنکن گنز ہی ان طیاروں کو مار گرائیں گئیں .
اس میزائیل کو بنانے میں 60% سے 70% حصہ روس کا ہے .
پاکستان اور چین کا بنایا سی ایم-400 میزائیل براہموس سے کئ گنا تیز اور طاقتور ہے.جبکہ پاکستان کے تمام طیارے راعد نیوکلیئر کروز میزائیل کو فائر کر سکتے ہیں.جس کی رینج براہموس میزائیل سے زیادہ ہے اور ہمارا راعد کروز میزائیل سٹیلتھ خصوصیات کا بھی حامل ہے…
بھارت گاؤ موتر سے تزاب بھی بنا لے پر میزائیل ٹیکنالوجی میں ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتا.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here