انوشہ رحمان کی کرپشن کی کہانی

0
715

سابق وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمن کی وجہ تسمیہ ختم نبوت میں تبدیلی کا قانون سازی ڈرافٹ تیار کرنا ہی نہیں بلکہ کیپٹن صفدر اور اسحاق ڈار سے عشق بھی شامل رہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انوشہ عشق کے میدان کی کھلاڑی اور کرپشن میں اناڑی تھی انوشہ رحمان کی کرپشن کے میدان میں بھی اپنی چُنی ہوئی ٹیم تھی اس ٹیم میں سابق چیئرمین پی ٹی اے ڈاکٹر اسماعیل شاہ ، ممبر ٹیلی کام مدثرحسین اور شبیر احمد شامل ہیں جس کے زریعے مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والی انوشہ نے محظ چند سالوں میں جمپ لگا کے مڈل ٹو ایلیٹ کا سفر طے کیا
اپریل 2014میں پی ٹی اے نے وزارت انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کی ایڈوائس پر تھری اور فورجی لائسنس کی نیلامی کا عمل شروع کیا
انوشہ رحمن نے لائسنس کے اجرا میں کمپنیوں کے مفادات کو تحفظ دینے کیلئے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی میں منظور نظر افسران کوبھاری تنخواہوں پر مقررکیا ۔
لائسنس کی ریزرو پرائس ٹیلی کام کمپنیوں کے مطالبے پر 1ارب 9کروڑ50لاکھ ڈالر مقرر کی گئی
تھری اور فورجی لائسنس کے اجراء کیلئے کھلی بولی کا عمل اختیار کیا گیا ۔ کھلی بولی کے عمل کے بعد ایک فورجی لائسنس جبکہ تین تھری جی لائسنس کیلئے 4ٹیلی کام کمپنیوں نے مجموعی طور پر 1اعشاریہ 12ارب ڈالر کی بولی دی۔
پس پردہ ٹیلی کام کمپنیوں سے ملی بھگت کرکے نیکسٹ جنریشن لائسنس کی قیمت کامعاملہ طے کیا گیا۔
تھری اور فورجی لائسنس کے اجراء کے عمل کے دوران سابق چیئرمین پی ٹی اے ڈاکٹر اسماعیل شاہ نے مسلسل سابق وزیر مملکت انوشہ رحمن سے ہدایات وصول کیں۔
ٹیلی کام کمپنیوں، پی ٹی اے اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے شفاف طریقے سے کھلی بولی کے عمل کو متاثر کیا پس پردہ معاملات طے کیے جس کے نتیجے میں خزانے کو بھاری نقصان جبکہ ٹیلی کام کمپنیوں کو اربوں کا فائدہ پہنچایا اور ان سے کروڑوں وصول کیے
۔ 19مئی 2017 کو ایک مرتبہ پھر پی ٹی اے نے 295ملین ڈالر کے عوض ایک اور فورجی لائسنس ایوارڈ کیا ۔
جس میں غیرقانونی طور پر نیکسٹ موبائل جنریشن سروسز(NGSMA) کا ٹھیکہ من پسند کمپنی کو دینے پر نیب تحقیقات کا آغاز کر چکی ہے
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بھاری تنخواہوں پر انوشہ رحمان کے مقرر کردہ افسران نے تھری جی اور فور جی لائسنس کے علاوہ وزارت کے مختلف کھاؤ پروگرام میں انوشہ رحمان کی بھرپور مدد کی
ان اعلیٰ افسران نے ملازمین کے ٹرسٹ فنڈ، گریجویٹی اینڈ پنشن فنڈ کے 1103 ملین روپے سرمایہ کاری پر لگائے جس کی وجہ سے متعلقہ ملازمین کو اپنے واجبات لینے میں شدید مشکلات پیدا ہوئی اور یہ ملازمین رئٹائرمنٹ کے بعد کافی عرصہ جوتیاں چٹخاتے رہے وزارت آئی ٹی نے وزارت کے ماتحت اداروں کے ہزاروں ملازمین کا پیسہ مختلف بینکوں میں سرمایہ کاری پر لگایا اور سرمایہ کاری کرنے سے قبل وزارت کے اعلیٰ افسران نے سرمایہ کاری کمیٹی تشکیل دینے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی اور نہ متعلقہ کمیٹی سے اجازت طلب کی ہے قانون کے مطابق وزارت کو بھاری سرمایہ کاری سے قبل سکیورٹی ایکسچینج کمیشن سے اجازت لینا ضروری ہوتی
وزارت کے اعلیٰ افسران نے انوشہ رحمان کے کہنے پر یہ سرمایہ کاری نجی کمرشل بینکوں میں کی تھی اور سرمایہ کاری سے قبل اظہار دلچسپی کا ٹینڈر بھی نہیں دیئے تھے اس سرمایہ کاری میں زیادہ رقوم ٹیلیفون انڈسٹری میرپور کے ملازمین کی تھیں قانونی طور پر ضروری تھا کہ ٹی آئی پی کے ملازمین کے فنڈز کی سرمایہ کاری سے قبل ٹی آئی پی کے بورڈ سے اجازت لی جاتی لیکن یہ اجازت ہی نہیں لی گئی ان افسران نے چھ کروڑ تیس لاکھ روپے کے ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ خریدے تھے جس سے انوشہ نے کروڑوں کمائے وزارت این آر ٹی سی اور ٹی ایس سی نامی اداروں سے ایک کروڑ79لاکھ روپے کی ریکوری ہی نا کی گئ کیونکہ اس میں انوشہ رحمان کے پسندیدہ لوگ تھے
نوازشریف،اسحاق ڈار کی چہیتی وزیر ہونے پر انوشہ رحمان کے احکامات ماننا نا صرف وزارت بلکہ پوری حکومت پر واجب تھا کیونکہ انکار کرنے والے افسران کا مستقبل تاریک ہو جاتا تھا خصوصی تعلقات کے باعث مریم نواز کے بعد موجودہ حکومت میں انوشہ رحمان سب سے زیادہ طاقتور قانون کے طورپر مانی گئ۔انوشہ رحمان خواتین کی مخصوص نشستوں پر رکن قومی اسمبلی بنی تھی اور پنجاب کے بڑے بڑے جاگیردار ،زمیندار،صنعتکار انوشہ کے سامنے پر مارنے کی جرات بھی نہیں ہے
حجاب رندھاوا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here