انصاف کے بیوپاری جج اور وکلاء پاکستان کا بدترین طبقہ ہے۔ ہر ظلم اور فساد کی اصل جڑ

0
526

پارلیمنٹ میں ثبوت پیش نہ کر سکے،
عدالت میں ثبوت پیش نہ کر سکے،
جے آئی ٹی کے سامنے ثبوت پیش نہ کر سکے،
دوبارہ عدالت میں پیشی ہوئی تو ثبوت پیش نہ کر سکے،

” الحمد اللہ ” کہہ کر مال مسروقہ کی موجودگی کا اعتراف کر چکے،

لیکن دو سال ہونے کو آگئے عوام بدستور سو سال تک یاد رکھے جانے والی فیصلے کی منتظر۔

بارہا اندیشہ ظاہر کیا کہ ان عدالتوں سے انصاف سرزد ہونا کسی معجزے سے کم نہیں۔ ہم درحقیقت معجزے کا انتظار کر رہے ہیں!

ہماری عدلیہ وہ واحد ادارہ ہے جو کوئی کام نہیں کر رہی۔ لاکھوں لوگوں پر مشتمل ایک عضو معطل جو اس معاشرے پر ناقابل برداشت بوجھ بن چکا ہے۔

انصاف کے بیوپاری جج اور وکلاء پاکستان کا بدترین طبقہ ہے۔ ہر ظلم اور فساد کی اصل جڑ۔

ان ججوں اور وکلاء کے بھروسے پر ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔

سیاست دان کرپشن کرتے ہیں،
ڈاکو ڈاکے مارتے ہیں،
دہشت گرد دہشت گردی کرتے ہیں،
دکاندار ملاؤٹ کرتے ہیں،
سرکاری ملازمین رشوت لیتے ہیں،
میڈیا فحاشی کرتی ہے،
اور گستاخ گستاخیاں کرتے ہیں،

واللہ یہ بدترین لوگ ہیں۔ کالے لباسوں میں ملبوس یہ لوگ اس معاشرے کے شیطان ہیں۔

اگر کبھی فیصلے عوام کے ہاتھوں میں آئے تو سب سے پہلے انکو پکڑنا!

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here