انسے کسی بھی قسم کی بات چیت یا مل بیٹھ کر معاملات طے کرنے کی کوشش نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ ایک زیادہ خطرناک عمل ثابت ہو سکتا ہے

0
365

( یہ میرا دو ماہ پرانا مضمون ہے جس میں دہشت گردی کے خلاف دس نقاطی ایجنڈا پیش کیا گیا تھا اس پر آپکی رائے درکار ہے )

پچھلے مضمون میں ہم نے یہ طے کر لیا تھا کہ ٹی ٹی پی درحقیقت ایک دہشت گرد جماعت ہے جس کو انڈین را افغانستان کی ڈی این ایس اور امریکن سی آئی اے مل کر کنٹرول کرتے ہیں اور انکا واحد مقصد پاکستان کی ریاست کو تباہ کرنا ہے ۔ انکا افغان طالبان سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ انکی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا نہ انکا کوئی مرکزی کنٹرول اینڈ کمانڈ موجود ہے اور سب سے بڑھ کر انکے پاس کچھ ایسے نظریات ہیں جو انکے لیے مسلسل جنگجو پیدا کر سکتے ہیں !!

اب ہم ایک ممکنہ لائحہ عمل طے کرتے ہیں ۔۔۔۔۔!!

مذکورہ بالا حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے انسے کسی بھی قسم کی بات چیت یا مل بیٹھ کر معاملات طے کرنے کی کوشش نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ ایک زیادہ خطرناک عمل ثابت ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ اس حقیقت سے بھی آگاہ ہو چکے ہیں کہ انسے یا انکے کسی ایک گروہ سے بھی بات چیت یا کامیاب مذاکرات کے عمل کو صرف ایک امریکی ڈرون ناکام بنا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔ قاری ولی الرحمن کے سلسلے میں یہی ہوا جسکو حکیم اللہ محسود نے پاکستان سے مذکرات کرنے پر سی آئی اے ڈرون سے قتل کروا دیا ۔۔۔۔۔۔۔ قاری ولی الرحمن ٹی ٹی پی کے ہاتھوں سے نکلتا جا رہا تھا اور اسکی جنگ کا رخ اامریکہ کے خلاف ہونے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

چونکہ ہم یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان کا دوسرا نام امریکہ ہے اسلئے ہم جو بھی لائحہ عمل طے کریں گے اس میں امریکہ کو ایک دشمن کے طور پر سامنے رکھیں گے نیز یہ لائحہ عمل ایسا ہونا چاہئے جس میں آپ کو تحریک طالبان پاکستان پر ذرا بھی انحصار کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے انسے کسی بھی قسم کے تعاون کی کوئی امید نہیں رکھنی چاہئے !!

یہ کوئی اندھا دھند جنگی منصوبہ نہیں ہے بلکہ اافغانستان میں بیٹھے اپنے اصل دشمنوں کے پہچانتے ہوئے انکے خلاف ایک مناسب ترین حکمت عملی ہے !!

سب سے پہلے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ دنیا کی کوئی بھی فوج چاہے کتنی ہی طاقتور اور بہادر کیوں نہ ہو وہ صرف لڑنے والوں کے خلاف ہی لڑ سکتی ہے نظریات کے خلاف نہیں لڑ سکتی نہ نظریات کو شکست دے سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ نظریات کے خلاف لڑنا حکومت کا کام ہوتا ہے جس میں حکومت کی مدد وہ لوگ کرتے ہیں جنکی بات عوام سنتے ہیں مثلاً دانشور ، صحافی، علمائے کرام ، سیاست دان اور اساتذہ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ان ساری باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میرے خیال میں حکومت کو مندرجہ ذیل حکمت عملی اپنانی چاہئے !

۔ 1۔ حکومت یہ اعلان کر دے کہ افغانستان میں جاری جنگ جنگ آزادی ہے اور ہم اسکی حمایت کرتے ہیں اور فوری طور پر امریکی سپلائی لائن کو امریکی واپسی سے مشروط کر دے !!

۔ 2۔ امریکہ افغان طالبان سے بات چیت کرنا چاہتا ہے اور اسکے لیے پاکستان سے مدد طلب کررہا ہے پاکستان کو اس موقعے سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے سب سے پہلے خود افغان طالبان سے اپنے معاملات درست کر لینے چاہئیں اور اگر انسے کوئی خفیہ تعلقات ہیں تو انکو منظرعام پر لاتے ہوئے یہ اعلان کر دینا چاہئے کہ ہم نے افغان طالبان سے دوبارہ اپنے تعلقات استوار کر لیے ہیں اور ہم انکی ہر اخلاقی اور عملی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں !
چونکہ عالمی برادری خود طالبان کے دفاتر کھولتی پھر رہی ہے اسلئے پاکستان کے اس طرز عمل پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا!!
نیز افغان طالبان کا پاکستان میں جاری جنگ کے خلاف مضبوط موقف سامنے آنا چاہئے۔۔۔۔۔۔!!

۔ 3۔ پاکستان کی حکومت پاک فوج کو ڈرونز گرانے کا حکم دے دے ۔ پاکستان نے چھ ماہ تک امریکی سپلائی بند رکھی تو امریکہ نے کونسی توپ چلا دی تھی ؟ ایران نے انکا ایک ڈرون مار گرایا اور ایک “زندہ” اتار لیا تو امریکہ نے کیا کر لیا ؟ امریکہ تو روس کی ایک دھمکی پر شام پر حملے کے معاملے میں ڈگمگا گیا ۔۔۔۔
پاکستان کے چین اور اب روس کے ساتھ تعلقات کو دیکھتے ہوئے پاکستان پر کسی قسم کی معاشی پابندیاں بھی عائد کرنا ممکن نہیں ویسے جب ہم نے ایٹمی دھماکے کیے تھے تو اس وقت کی معاشی پابندیوں نے ہمارا کیا بگاڑ لیا تھا ؟

۔ 4۔ دہشت گردی کا ایک بڑا پہلو شیعہ سنی جنگ بھی ہے ۔۔۔ صحابہ کرام عظیم تھے اور ہر مسلک کے لیے قابل احترام ۔۔۔۔ ان کی شان میں گستاخی کے خلاف قانون سازی ہونی چاہئے اور ایسی گستاخی کے لیے سخت سزائیں مقرر کی جانی چاہئیں ۔۔۔۔ اس قانون سازی کے بعد علمائے کرام ریاست سے ہٹ کر ذاتی طور پر کسی بھی کاروائی کے خلاف مل کر فتوی جاری کریں ۔

۔ 5۔ پاک افغان بارڈر کو پرویز مشرف کے بتائے گئے فارمولے کے عین مطابق مکمل طور پر بارودی سرنگوں کی ایک نہایت چوڑی پٹی کی مدد سے سیل کر دینا چاہئے اور نقل و حمل کے چند راستوں کو کھلا چھوڑ کر انکی سخت ترین نگرانی کا بندوبست کیا جانا چاہئے اور اس سلسلے میں امریکہ اور حامد کرزئی کے چیخنے کی بلکل پرواہ نہیں کرنی چاہئے ۔۔۔ اس سے نہ صرف دہشت گردوں کی صوبہ خیبر اور بلوچستان میں آمدورفت بری طرح متاثر ہوگی بلکہ حکومت کو افغانستان کی وہ تجارت بھی ہاتھ میں لینے کا موقع ملے گا جو چند سال کے اندر پاکستان کا کل قرضہ اتار سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یاد رکھئے 7 کروڑ آبادی کا افغانستان مکمل طور پر درآمدات پر انحصار کر تا ہے اور یہ پاکستان کے لیے وہ سونے کی چڑیا ہے جسکو پاکستان آج تک نظر انداز کرتا چلا آرہا ہے !

۔ 6۔ پاکستان اسلام کے نام پر ہی نہیں بلکہ اسلام کے لیے بنا ہے اور اس پر کام ہونا چاہئے ۔۔۔ نفاذ شریعت کی اصطلاح جتنی عام فہم لگتی ہے درحقیقت نفاذ شریعت کا عمل اتنا ہی پیچیدہ ہے اورسچ تو یہ ہے کو اس کو وہ لوگ بھی صحیح معنوں میں نہیں سمجھ پاتے جو اسکا مطالبہ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
مختلف مسالک اسکو مختلف معنوں میں لیتے ہیں لیکن یہ ایک الگ اور بہت بڑا موضوع ہے ۔۔۔۔۔ ہم مختصر ترین اور آسان ترین الفاظ میں یہ کہیں گے کہ حکومت کو تمام بڑے مسالک کے نمائیندوں کو اکھٹا کر کے سب سے پہلے یہ طے کر لینا چاہئے کہ ریاست شریعت کے کون کونسے احکامات نافذ کر سکتی ہے اور کون کونسے نہیں کر سکتی یعنی وہ جو صرف دعوت یا ترغیب کے ذریعے ہی لوگوں میں آسکتے ہیں ۔۔۔۔ پھر جن جن چیزوں پر اتفاق رائے ہوتا چلا جائے ان کو نافذ کرنے کا عمل شروع کر دینا چاہئے بے شک یہ عمل بتدریج اور اہستگی سے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here