اندرونی اور بیرونی قرضے 100 ارب ڈالر، قومی خزانہ خالی، تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر، زرعی اور صنعی پیدوار کم ترین سطح پر، روپے کی قدر کم ترین سطح پر، قومی ادارے تباہ

مزید قرضہ نہ ملے تو پاکستان ایک مہینہ نہیں چل سکتا نہ اپنی فوج کی تنخواہیں ہی ادا کرسکتا ہے۔ 

0
1148

پاکستان تباہ کرنا چاہتا ہوں کیا کروں؟

“حملہ کردو” ۔۔۔۔۔ 

پاکستان کے پاس نیوکلئیر ہتھیار اور چھ لاکھ فوج ہے؟؟

” انکو غیر موثر کرو” ۔۔۔۔۔۔۔

کیسے؟؟

” معیشت تباہ کرو ” ۔۔

اندرونی اور بیرونی قرضے 100 ارب ڈالر، قومی خزانہ خالی، تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر، زرعی اور صنعی پیدوار کم ترین سطح پر، روپے کی قدر کم ترین سطح پر، قومی ادارے تباہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مزید قرضہ نہ ملے تو پاکستان ایک مہینہ نہیں چل سکتا نہ اپنی فوج کی تنخواہیں ہی ادا کرسکتا ہے۔

” توانائی ختم کردو ”

نیلم جہلم اور دیامیر بھاشا پر 9 سال میں زیرو پراگریس، نندی پور قائداعظم سولر پارک اور تھر کول پاور پراجیکٹ سمیت توانائی کے تمام منصوبے ناکام، صرف تیل سے بجلی بنانیوالی غیر ملکی کمپنیوں کا سہارا۔
ان آئی پی پیز ( تیل سے بجلی بنانیوالی کمپنیوں ) کا اتنا قرضہ چڑھ چکا ہے کہ کسی بھی وقت پاکستان کو بجلی کی سپلائی معطل کر سکتی ہیں۔

” پانی اور خوارک کی قلت پیدا کرو”

پاکستان میں زرعات کے لیے پانی کی شدید قلت، 80 فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم۔ پاکستان دودھ سمیت تقربیاً تمام اجناس درآمد کرنے پر مجبور، 9 سال میں کوئی ایک ڈیم نہیں بننے دیا گیا اور انڈیا کے پاکستانی دریاوؤں پر ڈیموں پر مکمل خاموشی،
انڈیا جب چاہے پاکستان کا سارا پانی روک سکتا ہے۔

” ذرائع نقل و حمل تباہ کرو”

ریلوے تباہ، موٹر ویز گروی
دوران جنگ ریلوے اس قابل نہیں رہی کہ بڑے پیمانے پر فوجی نقل و حمل کے لیے استعمال ہو سکے جبکہ موٹرویز جن عالمی مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھے جانے کی خبریں ہیں وہ عدم ادائیگی پر اس کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنے دینگی۔

” سفارتی محاذ پر تنہا کرو”

افغانستان ایران متحدہ عرب امارات اور امریکہ میں زیرو سفارت کاری، چین تقریباً نظر انداز، اقوام عالم کو یقین دہانی کہ پاکستان میں ہر قسم کے دہشت گرد موجود ہیں۔
جنگ کی صورت میں ایران اور افغانستان حملہ آور کا ساتھ دینگے جبکہ اقوام عالم پاکستان میں دہشت گردی کے مراکز پر حملے کے لیے بے تاب ہیں۔

” نظریہ پاکستان اور مرکزیت کمزور کرو”

نظریہ پاکستان پر اعتراضات، قائداعظم کی ذات پر سوالات، تعلیم تقریباً پرائویٹائز جس کا نصاب مکمل طور پر مغرب زدہ، صوبائی خود مختاری، صوبوں اور وفاق میں اختلافات، حق تلفی کے نعرے، وسائل کی تقسیم پر جھگڑے، فاٹا کو کے پی کے میں شامل ہونے سے روکنا۔
پاکستان میں لبرل دانشوروں اور ملاؤوں پر مشتمل ایک بہت بڑا طبقہ تیار ہو چکا ہے جن کو نہ نظریہ پاکستان پر یقین ہے اور نہ پاکستان کے وجود سے کوئی دلچسپی۔ لبرل پاکستان زندہ باد کا نعرہ حماقت جبکہ ملا وطن پرستی قرار دیتے ہیں۔ صوبوں میں خودمختاری کے بعد اب آزادی کے نعرے بلند ہو رہے ہیں۔

” عوام اور اقوام عالم کو پاک فوج کے خلاف کرو”

قومی پرستی کے نام پر بی ایل اے اور اسلام کے نام پر ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد گروہ تیار کر کے پاکستان اور پاک فوج پر حملے،
پاک فوج کی جوابی کاروائی کو فضل الرحمن کا قبائل کے خلاف، اچکزئی اور اختر مینگل کا بلوچ قوم کے خلاف، پیپلز پارٹی کا سندھیوں کے خلاف اور الطاف حسین کا مہاجروں کے خلاف جنگ قرار دینا،
میڈیا اور سوشل میڈیا پر ملحد اور ملا کی پاک فوج کے خلاف نظریاتی جنگ جاری،
نصاب سے پاک فوج کے شہداء کے مضامین ہٹانا،
پاک فوج کے بجٹ پر اعتراضات،
پاک فوج پر سازشوں کے الزامات،
پاک فوج پر دوسرے ممالک میں دراندازی کے الزامات
ڈان لیکس میں پاک فوج کو دہشت گرد قرار دینا،
اقوام عالم کے سامنے دہشت گردی کے مراکز کا اعتراف،
قبائیلی پٹی سے لے کر کراچی تک کم از کم ڈھائی لاکھ فوج قومیت اور اسلام کے نام پر تیار کیے گئے دہشت گردوں سے برسرپیکار ہے۔ کراچی میں ایم کیو ایم والے اور لاہور میں مسلم لیگ ن والے پاک فوج مردہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں۔ بلوچ، سندھی، پشتون اور مہاجر قوم پرستوں میں پاک فوج کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے۔
ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی سربراہ مریم نواز نظر نہ آنے والوں دشمنوں ( پاک فوج ) کو شکست دینےکا اعلان کر چکی ہے۔
لبرلز کا دعوی ہے کہ پاک فوج جہاد کی پشت پناہی کرتی ہے اس لیے وہ پاک فوج کے خلاف ہیں۔ جبکہ ملاوؤں کا دعوی ہے کہ پاک فوج مجاہدین کی دشمن ہے اس لیے وہ پاک فوج سے نفرت کرتے ہیں۔

” ویلڈن۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ بس اب مارچ 2018ء کا انتظار کرو جب عالمی مالیاتی ادارے پاکستان سے 11300 ملین ڈالر کا تقاضا کرینگے جبکہ اس وقت پاکستان کو خود اپنےاخراجات کے لیے کم از کم 40،000 ملین ڈالر کی ضرورت ہوگی۔ ملکی بینکوں سے آخری حد تک قرضہ لیا جا چکا ہے اس لیے یہ انتظام کہیں سے نہیں ہو سکے گا تب اصل کھیل شروع ہوگا۔
یاد ہے نا ؟ جب روس ٹوٹ رہا تھا تب بھی وہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس دنیا کی دوسری بڑی فوجی طاقت تھی لیکن معیشت اتنی تباہ تھی کہ کھانے کے پیسے نہیں رہے تھے اور مختلف ریاستوں میں حقوق اور آزادی کے نعرے بلند ہو رہے تھے” ۔۔۔۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here