امید ہے اب طیب اردگان کم از کم افغانستان میں اپنی فورسز سے متعلق پالیسیز پر نظر ثانی ضرور کرینگے

0
544

امید ہے اب طیب اردگان کم از کم افغانستان میں اپنی فورسز سے متعلق پالیسیز پر نظر ثانی ضرور کرینگے۔

افغانستان میں امریکہ اور جرمنی کے بعد سب سے زیادہ فورسز ترکی کی ہیں۔ جو وہاں افغان طالبان کے خلاف افغان نیشنل آرمی کی تربیت کر رہی ہیں۔
وہی افغان نیشنل آرمی جو آئے دن پاکستانی جھنڈے جلاتی ہے اور پاکستان کی سرحدوں پر حملے کرتی رہتی ہے۔
میرے خیال میں بطور ” خلیفہ وقت ” طیب اردگان کو افغانستان میں اب اپنا وزن امریکہ مخالف پلڑے میں ڈال لینا چاہئے۔

پاکستان سے امریکہ نے جنگ کی دھمکی دے کر زبردستی راستہ لیا البتہ پاکستان نے اسکا بدلہ ان سے افغانستان میں لے لیا جس پر اب ان کی چیخیں نکل رہی ہیں۔

لیکن یہ بات شائد آپ کو دلچسپ لگے کہ طیب اردگان نے 2003ء میں وزیراعظم بننے کے بعد امریکہ کو خود پیشکش کی تھی کہ ” آپ افغانستان میں جنگ کے لیے ہماری فضائیں استعمال کریں”

اس پیشکش کے جواب میں امریکہ نے فوری طور پر ترکی کو 15 ارب ڈالر کی گرانٹ دی تھی ۔۔۔ 

سراج الحق کے جو پیروکار اردگان کی مثال دے کر پاک فوج پر آوازے کستے ہیں ان کے لیے عرض ہے کہ ۔۔

طیب اردگان کے اسرائیل کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور آپس میں ہر قسم کا لین دین بھی کرتے ہیں۔ حالانکہ اسرائیل نے ترکی کی امدادی جہاز بھی تباہ کیے ہیں۔
لیکن پاک فوج اسرائیل کے لیے دنیا میں سب سے بڑا درد سر ہے اور عرب اسرائیل جنگوں میں یہاں سے وہاں گئی تھی یہودی افواج کا حملہ روکنے۔ اور نہ صرف ان کا حملہ روکا تھا بلکہ ان کو شدید نقصان بھی پہنچایا تھا اور اسرائیل کے درجن سے زائد جنگی جہاز بھی گرائے تھے۔

طیب اردگان نے روس کا ایک جنگی جہاز گرایا جس کے بعد باقاعدہ پیوٹن سے معافی مانگ کر روس کو راضی کیا۔

لیکن پاک فوج نے اس وقت روس کے خلاف باقاعدہ جنگ لڑی اور اس کو شکست دی جب روس اپنی طاقت کے معراج پر تھا۔ روس کے ہزاروں فوجی مارے، بہت سے جنگی جہاز، ہیلی کاپٹرز گرائے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔
اور آج برابری کی سطح پر روس سے دوستی بھی کر لی۔

افغانستان میں ترکی امریکہ کی قائم کردہ افغان نیشنل آرمی کی تربیت کر رہی ہے۔
لیکن پاک فوج پر دنیا بھر کی ایجنسیاں یہ الزام لگا رہی ہیں کہ وہ امریکہ کے خلاف جنگ کرنے والے طالبان کی تربیت کررہی ہے بلکہ باقاعدہ خود لڑ رہی ہے۔

طیب اردگان اچھا ہوگا لیکن پاک فوج سے اسکا کوئی مقابلہ نہیں۔

پشتو کا ایک محاورہ ہے کہ ” دا کور جل سپکہ وی ” ۔۔۔ 

ان بدبخت ناشکروں کو جو تحفہ اللہ نے دیا ہے اس کی انہیں قدر نہیں۔ چلیں ہیں اردگان کو خلیفہ بنانے۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here