” امریکہ جانتا ہے کہ پشاور اور کوئٹہ میں افغان طالبان موجود ہیں” ۔۔ جنرل نکلسن

یعنی افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے شکست کی اکلوتی وجہ پاکستان کا افغانستان جنگجو بھیجنا ہے؟؟؟ ۔۔۔ 
امریکی صدر اور آرمی چیف کے بیان کا لب لباب تو یہی ہے۔ تو کیوں نہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کر لیا جائے؟؟؟

پہلے ذرا یہ اعداد و شمار ملاحظہ کیجیے ۔۔۔۔۔۔۔

افغانستان میں امریکہ کے کم از کم 2500 فوجی اب تک مارے جا چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 20،000 سے زائد ہے۔

امریکہ کے ڈپارٹمنٹ آٖف ویٹرن افیرز کے مطابق روزانہ 22 امریکی فوجی خودکشی کرتے ہیں جن میں سے آدھے وہ ہیں جو افغان جنگ لڑ کر واپس آئے ہیں۔

امریکہ اب تک افغانستان میں 1000 ارب ڈالر کے قریب رقم جھونک چکا ہے۔

یہ تو ہوگئی اس جنگ کی قیمت۔ اب آتے ہیں حل کی طرف ۔۔۔

بھئی سادہ سی بات ہے۔ پاک افغان سرحد بند کر کے کوئٹہ اور پشاور میں بیٹھے جنگجوؤں کو پاکستان میں ہی محصور کردو اللہ اللہ خیر سلا ۔۔۔۔۔

جنرل مشرف نے 2006ء میں جب پہلی بار پاک افغان سرحد پر باڑ لگا کر اس کو بند کرنے کا اعلان کیا تو اسکی سب سے زیادہ مخالفت افغانستان اور امریکہ نے کی تھی۔

سابق آرمی چیف راحیل شریف نے تقریباً زبردستی دوبارہ سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کیا اور اسکے لیے افغانستان سے دو چھڑپیں بھی ہوئیں۔ اب تک تقریباً 1100 کلومیٹر سرحد پر خندق کھودی جا چکی ہے۔ لیکن یہ سرحد 2400 کلومیٹر لمبی ہے اور اس کا زیادہ پیچیدہ حصہ ابھی باقی ہے۔

ٹرمپ صاحب اگر آپ کو پاکستانی جنگجوؤں سے اتنی ہی تکلیف ہے تو آؤ پاک افغان سرحد بند کرنے میں ہماری مدد کرو ؟؟؟

تم نے 1000 ارب ڈالر افغانستان میں جھونک دئیے 10 ارب ڈالر یہاں لگا دو۔ اس کام میں تمھارے فوجی بھی نہیں مریں گے۔ پاک فوج یہ کام خود کر لے گی ۔۔۔ !

لیکن امریکہ ایسا کبھی نہیں کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

وہ افغانستان نہیں پاکستان فتح کرنے آیا تھا۔ اس کو پاک فوج کی جانب سے سرحد بند کرنے پر شدید تکلیف ہے۔

پنٹاگان میں بیٹھے ان کے دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پاک افغان سرحد بند ہوتی ہے تو اس کے بعد پاکستان میں دہشت گرد بھیجنا ممکن نہیں رہے گا لیکن پاک فوج ان سرحدوں پر اتنی مہارت حاصل کر چکی ہے کہ باؤجود سرحد سیل ہونے کے انکی سپورٹ افغان طالبان کے لیے بدستور جاری رہے گی نتیجے میں افغانستان میں امریکنز کا جنازہ نکل جائیگا۔

بظاہر پاکستان سے جنگ لڑنے کی نسبت پاکستان کی سرحد بند کرنا ایک معقول اور قابل عمل تجویز ہے جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے لیکن امریکہ کبھی اسکو قبول نہیں کرے گا ۔۔۔ اسی سے اسکی بدنیتی دنیا پر واضح کی جا سکتی ہے۔ اگر پاکستان میں کوئی وزرات خارجہ ہے تو وہ اس معاملے میں امریکہ کو ننگا کر سکتی ہے۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here