امریکہ و پاکستان کی لفظی جنگ ۔۔۔۔۔۔۔ !

0
439

امریکہ و پاکستان کی لفظی جنگ ۔۔۔۔۔۔۔ !

” یروشلم کے بارے میں امریکی فیصلہ مسترد کرتے ہیں۔ امریکہ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس نے ایک ملک کے ساتھ کھڑے ہونا ہے یا پوری دنیا کے ساتھ ” ۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کا اقوام متحدہ میں اعلان
————————————–

” پاکستان کو امریکا کی شراکت داری سے بہت کچھ حاصل ہوگا، بصورت دیگر بہت کچھ کھونا پڑے گا۔ پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرے ” ۔۔۔۔۔

امریکی نائب صدر کا بیان

————————————–

” امریکا، بھارت کی زبان بول رہا ہے، مریکہ خطے میں عدم توازن پیدا کررہا ہے، ایسے حالات میں ایٹمی جنگ بھی چھڑ سکتی ہے ” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر جنرل ناصر جنجوعہ

—————————————-

چند دن پہلے سپاہ سالار جنرل باجوہ اور ائر چیف بھی امریکہ کے خلاف تیز و تند بیانات دے چکے ہیں۔

جواباً پاکستان میں دہشت گردانہ حملے تیز کر دئیے گئے ہیں۔

پاکستان کی سول حکومت کہاں کھڑی ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔ نواز شریف نے چند دن پہلے لندن سے اس مفہوم کا بیان جاری فرمایا کہ ہم نے بڑی مشکل سے دہشت گردی پر قابو پایا تھا ہمیں نکالا گیا تو حالات دوبارہ خراب ہوسکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ 🙂

اس کے فوراً بعد پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر آئی۔

نواز شریف کو الہام ہوا تھا کیا؟

سادہ سی بات ہے۔

انڈیا کے افغانستان میں آپریٹ کرنے والے سجن جندال اور اجیت داؤول سے نواز شریف ایسی ملاقاتیں فرماتے ہیں جن کی تفصیلات وہ قومی سلامتی کے اداروں سے بھی شیر نہیں کرتے،
ذاتی فیکٹریوں میں انڈین ایجنٹس کی بھرمار،
الطاف حسین سے رابطے،

پاکستان میں کب دہشت گردی ہونی ہے نواز شریف کو علم نہیں ہوگا تو اور کسے ہوگا؟

منتخب جمہوری حکومت ایک دوسرے محاذ پر بھی امریکہ کا ہاتھ بٹا رہی ہے۔

جب سے امریکہ کے ساتھ تناؤ بڑھا ہے صرف چند دن کے اندر اندر نہایت جارحانہ انداز میں تین ارب ڈالر کا مزید قرضہ لیا گیا، روپے کی قدر نہایت تیزی سے گرائی گئی، جس سے مجموعی طور پر پاکستان صرف دو ہفتے میں 6 ارب ڈالر کا مزید مقروض ہوگیا۔

نواز شریف کے تمام اعلانیہ اور غیر اعلانیہ اتحادی صوبائیت کا پرچم بلند کر کے وفاق مخالف اور پاک فوج مخالف نعرے لگا رہے ہیں۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ عصبیت کی یہ دعوت دینے والوں میں مولانا فضل الرحمن جیسے اسلام کے نام نہاد علمبردار بھی پیش پیش ہیں۔

پاکستان کے خلاف خوارج، جمہوری مافیا اور امریکہ ایک پیج پر نظر آرہے ہیں۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here