امریکہ و بھارت کا مشترکہ خونی کھیل

0
53
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برائے مہربانی مکمل پوسٹ پڑے پھر آپ احباب کو سمجھ آجائے گی ۔ انڈیا اور امریکہ اس وقت کیا کر رہا ہے ۔
۔ ۔

امریکہ و بھارت کا مشترکہ خونی کھیل
چند دن قبل داعش کا ایک دہشت گرد افغان طالبان کے ہاتھ لگ گیا جس نے انکشاف کیا کہ افغانستان میں ان کی تربیت امریکہ خود کر رہا ہے۔ یہ انکشاف کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے بلکہ جب شام میں داعش چرچے ہو رہے تھے اس وقت عالمی حلقوں میں یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ امریکہ شام میں داعش کی پرورش کر رہا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے سابق افغان صدر حامد کرزئی نے بھی داعش کے متعلق یہی انکشاف کیا تھا کہ افغانستان میں فوجی اڈے داعش استعمال کرتی رہی ہے۔ امریکہ افغان طالبان کو دہشت گرد کہتا ہے تو داعش کو کیوں اتنی چھوٹ دے رہا ہے؟
اس سوال کا جواب جاننے کےلیے ہمیں 2016 میں جانا پڑے گا جب بھارتی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے چیف اجیت ڈوول نے عراق کا خفیہ دورہ کیا تھا۔ اس دورہ کے بعد اچانک سے ہی افغانستان میں داعش فعال ہو گئی۔ افغانستان میں داعش کا فعال ہونا کئی لحاظ سے بھارت اور امریکہ دونوں کے بیک وقت فائدہ مند تھا لہٰذا یہاں پہ داعش کو طریقے سے منظم کیا گیا۔ امریکہ کےلیے یہ فائدہ تھا کہ جہاد کے نام پر داعش کو یہاں منظم کیا جائے تا کہ افغان طالبان کے لوگ ٹوٹ کر داعش میں شامل ہوں اور وہی داعش پھر افغان طالبان سے لڑ پڑے۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افغان طالبان جب بھی اقتدار میں آئے وہ بھارت کو افغانتان سے مار بھگائیں گے۔ اور بھارت جو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کےلیے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کر چکا ہے، وہ افغانستان سے محروم ہو جائے گا۔ یہ صورتحال نہ تو امریکہ کےلیے قابلِ قبول ہے اور نا ہی بھارت کےلیے۔ لہٰذا افغان طالبان کے توڑ کےلیے بھارت اور امریکہ نے مشترکہ طور پر افغانستان میں داعش کو مضبوط کیا۔ امریکہ اس میں کامیاب تو ہوا لیکن بہت کم حد تک۔
اسی طرح بھارت کا یہ مفاد ہے کہ بھارت میں جہاد کے شوقین مسلمانوں کو داعش میں کھپا دیا جائے۔ اب تک سینکڑوں بھارتی افغانستان آ کر داعش میں شامل ہوچکے ہیں۔ جس کا اعتراف بھارتی میڈیا بھی کرتا ہے۔ بھارت کا منصوبہ یہ ہے کہ یہاں ان دہشت گردوں کو تیار کر کے کشمیر میں جہاد کے نام پر چھوڑ دیا جائے گا۔ پھر جس طرح داعش افغانستان میں افغان طالبان سے لڑتی رہی بالکل اسی طرح یہ کشمیر جا کر مجاہدین سے لڑ پڑے گی۔ یوں جہاد کے نام پر یہ داعشی خوارج ایک تو مجاہدین کو قتل کریں گے دوسرا ان کے ساتھ لڑنے والے لوگوں کو توڑ کر اپنے ساتھ شامل کریں گے۔ اور یوں کشمیر کے جہاد کا ایک اہم چیپٹر کلوز ہو جائے گا۔ اللہ اپنی تدبیریں کرتا ہے ضروری نہیں کہ ایسا ہو لیکن بھارت بالکل یہی سوچ رہا ہے۔ افغانستان میں مضبوط داعش اس لحاظ سے بھی بھارت کے حق میں ہے کہ بھارت ان خوارج کے زریعے پاکستان کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نواز افغان حکومت، امریکہ اور خود بھارت کو اس وقت بہت تکلیف ہو رہی تھی جب پاکستان پاک افغان بارڈر پہ باڑ لگا رہا تھا۔
اگر آپ کو اجیت ڈوول کی وہ ویڈیو یاد ہو تو اس نے بڑے واضح اور اعلانیہ انداز میں یہ کہا تھا کہ اب بھارت کوٹلہ چانیکہ کے فارمولے پہ عمل کرتے ہوئے کانٹے سے کانٹا نکالے گا۔ یعنی جہاد کو نقلی جہاد سے ختم کرے گا۔ بھارت اب اپنی اس پالیسی پر پورے اعلانیہ طریقے سے عمل درآمد کر رہا ہے اور امریکہ اس سلسلے میں بھارت کی مکمل مدد بھی کر رہا ہے۔ بھارت اور امریکہ کے اس مشترکہ خوفناک منصوبے کو دیکھ کر ایران جیسا ملک جو کبھی افغان طالبان کے شدید خلاف تھا اب افغان طالبان سے ہاتھ ملا چکا ہے۔ دوسری جانب روس جو افغان طالبان سے طویل عرصہ حالتِ جنگ میں رہا، اب وہ بھی افغان طالبان دوستی کر چکا ہے۔ کیوں کہ امریکہ و بھارت کے ہاتھوں میں کھیلتی داعش پاکستان سمیت ایران، روس اور چائنہ کےلیے مشترکہ طور پر خطرناک ہے۔ خطے کا ہر ملک امریکہ و بھارت کے اس خونی کھیل سے بچاؤ کےلیے اپنے طور پر اقدامات کر رہا ہے جب کہ دوسری جانب پاکستان میں حکومت چین کی نیند سوئی ہوئی ہے۔ سابقہ حکومتوں کی ساری توجہ اپنی کرپشن چھپانے اور لوٹی ہوئی دولت بچانے پہ مرکوز ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ قومی سلامتی کے اداروں پہ کیچڑ اچھال کر ان کی راہ میں روڑے بھی اٹکائے جا رہے ہیں۔ بروقت اگر داعش کو افغانستان میں روکنے کے اقدامات نہ کیے گئے تو یاد رکھیں کہ امریکہ و بھارت کا مشترکہ ہتھیار جلد ہی پاکستان کے کونے کونے میں استعمال ہو رہا ہو گا۔ لال مسجد کا مولوی عبدالعزیز پہلے ہی داعش کی بیت کر چکا ہے جب کہ بلوچستان میں جند اللہ کو فعال کرنے کےلیے بھارت پھر سے کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کو بروقت اقدامات کرنا ہوں گے وگرنہ بہت جلد پانی سر سے اونچا ہونے جا رہا ہے۔


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here