امریکہ تسلیم کرتا ہے کہ افغانستان میں اس وقت 40 فیصد سے زائد علاقہ طالبان کے قبضے میں ہے۔ لیکن ساتھ ہی فرماتا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی پاکستان سے ہورہی ہے جہاں طالبان کے چند محفوظ ٹھکانے ہیں۔

پاک فوج نے یک تنہا اپنے محدود سے وسائل کے ساتھ چند بڑے آپریشنز کر کے تقریباً پورا پاکستان صاف کردیا۔ جن محفوظ ٹھکانوں کی بات امریکہ کر رہا ہے وہ امریکہ اور انڈیا کے علاوہ کسی کو نظر نہیں آرہے۔

0
1292

ستم ظریفی ۔۔۔۔۔۔۔ !

امریکہ تسلیم کرتا ہے کہ افغانستان میں اس وقت 40 فیصد سے زائد علاقہ طالبان کے قبضے میں ہے۔ لیکن ساتھ ہی فرماتا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی پاکستان سے ہورہی ہے جہاں طالبان کے چند محفوظ ٹھکانے ہیں۔ 

کمال ہے ۔۔۔۔۔۔۔ 

یعنی وہ چالیس فیصد افغانستان پر قابض طالبان کچھ نہیں کر رہے؟؟

بھئی پہلے وہ قبضہ تو چھڑاؤ پھر اڑوس پڑوس پر الزامات لگانا!

پاک فوج نے یک تنہا اپنے محدود سے وسائل کے ساتھ چند بڑے آپریشنز کر کے تقریباً پورا پاکستان صاف کردیا۔ جن محفوظ ٹھکانوں کی بات امریکہ کر رہا ہے وہ امریکہ اور انڈیا کے علاوہ کسی کو نظر نہیں آرہے۔

لیکن امریکہ نے اپنے چالیس اتحادیوں اور ہزار ارب ڈالر کے بجٹ کے ساتھ ان 17 سالوں میں کیا کرلیا ؟؟

اور بجائے اپنی ناکامی تسلیم کرنے کے پاکستان پر الزام تراشی!

البتہ اڑوس پڑوس کے ممالک کا یہ دعوی درست ہوگا کہ افغانستان سے وہاں دہشت گردی ہو رہی ہے کیونکہ امریکہ اعتراف کر چکا ہے کہ آدھے افغانستان پر ” دہشت گردوں” کا قبضہ ہے۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here