اقامہ پانامہ سے زیادہ سنگین معاملہ ؟؟

0
1203

اقامہ پانامہ سے زیادہ سنگین معاملہ ؟؟

ذرا سوچئے پاکستان کے یہ تاجر سیاست دان آخر جعلی تنخواہوں پر سعودی عرب اور یو اے ای کے اقامے کیوں رکھتے ہیں جبکہ پول کھل جانے پر قومی اسمبلی کی رکنیت تک معطل ہونے کا خطرہ ہے ؟؟؟

دو وجوہات ہیں ۔۔۔۔۔ 

پہلی ۔۔۔۔۔ سویٹزرلینڈ سمیت کئی ممالک کے فارن بینکس، اکاؤنٹ کھولنے پر آپ کی نیشنلٹی نہیں بلکہ ” رہائش ” رپورٹ کرتے ہیں یعنی وہ جگہ جہاں آپ رہتے ہیں اور ٹیکس ادا کر تے ہیں۔

ان اقاموں کی بدولت ہمارے کرپٹ سیاستدان ان بینکوں میں خود کو یو اے ای یا سعودی عرب کا ٹیکس دہندہ ظاہر کرتے ہیں۔ تنخواہ وہ بے شک جعلی لیں لیکن ٹیکس وہاں وہ اصلی ادا کرتے ہیں۔

اب ان ممالک میں یہ سہولت ہے کہ اقامے کے لیے وہاں آپ کو مستقل رہائش رکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ چھ ماہ میں آپ کا ایک وزٹ کافی ہوتا ہے۔

مطلب سیاست کرو پاکستان میں رہائش ظاہر کرو وہاں کی۔۔۔۔

اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اگر کبھی حکومت پاکستان آفیشلی ان ممالک کے بینکوں سے رابطہ کر کے پاکستانیوں کا ریکارڈ طلب کرے تو ہمارے وہ کرپٹ سیاستدان صاف بچ جاتے ہیں جنہوں نے سعودی یا یو اے ای کے اقاموں پر اکاؤنٹس کھولے ہیں۔

وہ فارن بینک ان کے نام پاکستان کو نہیں بتاتے۔۔۔۔۔ 

اسی لیے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی جعلی ملازمت پر یو اے ای کا اقامہ رکھا ہوا تھا تاکہ اگر کل اس کے حوالے سے معلومات طلب کی جائیں تو سوئس اور برٹش بینک اسکا ریکارڈ پاکستان سے شیر نہ کریں۔

آخر کیا وجہ تھی کہ جب جے آئی ٹی دبئی گئی تھی تو وزیراعظم پاکستان پاگلوں کی طرح دبئی حکومت سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا؟ اور محض “فون اٹھانے” کے لیے ان کو حکومت پاکستان کی طرف سے آفیشلی درخواست کی تھی ۔۔۔۔ 

اور غالبا اسی لیے ان کو اپنی پارٹی میں کوئی ایسا شخص نہیں مل رہا جس کے پاس اقامہ نہ ہو تاکہ اس کو وزیراعظم بنا سکیں۔

اقامے کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ بروقت بھاگنے کا یہ سب سے تیز ترین ذریعہ ہے۔

آئین پاکستان کے مطابق قومی اسمبلی کے اراکین دہری شہریت نہیں رکھ سکتے۔ اس لیے اگر انہیں اچانک پاکستان سے بھاگنے کی ضرورت پڑے تو انہیں دوسرے ممالک کے ویزے کے لیے اپلائی کرنا پڑتا ہے۔ جس سے پورا پاکستان باخبر ہوجاتا ہے۔ ان اقاموں کی بدولت یہ صرف جہاز میں بیٹھتے ہیں اور راتوں رات نکل جاتے ہیں۔

اقامہ پانامہ سے بڑا اور زیادہ سنگین ایشو ہے۔ پانامہ میں صرف چند لوگوں کا نام آیا ہے لیکن اقامہ میں 80 فیصد پارلیمنٹ پکڑی جائیگی اور اگر یو اے ای اور سعودی حکومت نے تعاؤن کیا تو ان کے بینکوں کے وہ وہ ریکارڈز سامنے آئنگے کہ لوگ پانامے کو بھول جائنگے۔

سپریم کورٹ نے نہایت دور اندیشی سے ان سارے معاملات کو سمجھتے ہوئے بلکل درست جگہ پر نشانہ لگایا ہے۔۔ ۔۔۔ 

احسن اقبال صاحب نے کتنی معصومیت سے فرمایا تھا کہ ” مدینہ کا اقامہ اور ملازمت ہر مسلمان کے لیے ایک سعادت ہے ” ۔۔۔ کیا واقعی ؟؟ بدبخت لوگ اپنے خود غرضانہ مقاصد کے لیے اسلام کو بیچنے سے باز نہیں آتے۔

اسلام کو بیچنے سے یاد آیا کہ مولانا فضل الرحمن کو اقامے والے فیصلے پر سخت تحفظات ہیں۔ مولانا کی مخالفت ہی حق ہونے کی دلیل ہے۔۔۔ 

یہ اقامے سوئس بینکوں میں موجود 200 ارب ڈالر کے خزانے کی چابیاں ہیں ۔۔۔ 

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here