افغانستان سے بھیجے جانے والے دہشت گرد پہلے فاٹا اور کے پی کے میں ہی داخل ہوتے ہیں۔

0
443

قوم پرستوں کے نام چند موٹی موٹی باتیں ۔۔۔۔۔۔ !

جنگ صرف پشتون علاقوں میں ہی کیوں؟

کیونکہ پشتون علاقے میدان جنگ یعنی افغانستان کے بارڈر پر ہیں۔
افغانستان سے بھیجے جانے والے دہشت گرد پہلے فاٹا اور کے پی کے میں ہی داخل ہوتے ہیں۔
فاٹا میں ہی دہشت گردوں نے اپنے مراکز قائم کیے تھے اور فاٹا کو ہی فتح کیا تھا۔

تب ان کے خلاف جنگ کیا ٹوبہ ٹیک سنگھ میں لڑی جاتی؟؟

—————————-

دہشت گردوں کی ریہرسل پشتونوں کا حلیہ کیوں بنایا جاتا ہے؟

اصل دہشت گردوں کی ویڈیوز موجود ہیں اور ان کو حقیقی زندگی میں دیکھنے والے لاکھوں لوگ بھی۔

کیا ریہرسل میں جو حلیے بنائے جاتے ہیں وہ اصل دہشت گردوں کے حلیوں سے مختلف ہوتے ہیں؟

یا آپ چاہتے ہیں کہ ان کو تہمبند باندھ کر ہاتھوں میں حقے پکڑائے جائیں؟

————————

دہشت گردی کا زیادہ تر شکار پشتون ہوئے ہیں!

تو کرنے والے کون تھے؟
دہشت گردوں کے سارے امیراور جنگجوؤں کی اکثریت پشتون ہی تھی بلکہ مقامی تھی یا پھر پشتونوں کی پناہ میں آئے ہوئے ازبک اور عرب۔ جبکہ کمانڈ کرنے والے افغانستان میں بیٹھے افغانی۔ جو پشتونوں ہی کی ایک نسل ہے۔
اس کے باؤجود فاٹا اور کے پی کے کے بعد سب سے زیادہ حملے پنجاب میں ہوئے ہیں!

———————–

پاک فوج نے بارودی سرنگیں بچھائی ہیں وہ ساری صاف کریں!

یہ سرنگیں انہوں نے کب بچھائیں؟

کیا آپریشن سے پہلے؟

تب کیا دہشت گرد سکون سے بیٹھ کر تماشا دیکھتے رہے؟

یا آپریشن کے بعد؟

آپریشن کے بعد اسکی کیا ضرورت تھی بلکہ آپریشن سے پہلے بھی پاک فوج کو بارودی سرنگیں بچھانے کی کیا ضرورت؟

آج تک نہیں سنا کہ باردوی سرنگ کے دھماکے میں دہشت گرد ہلاک ہوئے البتہ پاک فوج کی ہی شہادتوں کی خبریں آتی ہیں۔ بلکہ سچائی یہ ہے کہ براہ راست حملوں کے بعد پاک فوج کی سب سے زیادہ شہادتیں بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں ہی ہوئیں ہیں۔

جہاں تک صاف کرنی کی بات ہے تو پاک فوج ان کو مسلسل صاف کر رہی ہے لیکن یہ کس نے گن رکھے ہیں کہ کتنی ہیں اور کون یہ بتائیگا کہ ” ہاں اب ساری صاف ہوگئی ہیں؟”

———————

غائب ہونے والے قبائیلی واپس کریں!

یہی مسنگ پرسنز کا کھیل بلوچستان میں بھی کھیلا گیا کہ غائب ہونے والے بلوچی واپس کریں۔ بعد میں واضح ہوگیا کہ انکی اکثریت یا بی ایل اے کے ہاتھوں ماری گئی ہے یا وہ ان کے ساتھ ملکر گوریلا جنگ لڑ رہے ہیں۔

یہ کہاں ثابت ہوا ہے کہ مسنگ پرسنز کتنے ہیں اور پاک فوج ہی کے پاس ہیں؟

—————–

فوج کی آمد سے پہلے پشتون مغربی سرحد کے محافظ تھے اور امن تھا!

مغربی سرحد سے حملہ کب ہوا تھا جس کو پشتونوں نے روکا ہو؟

امن اس لیے تھا کہ وہاں سے کوئی حملہ نہیں ہوا تھا۔

دہشت گردوں کی شکل میں جیسے ہی پہلا حملہ ہوا، حملہ آوروں نے صرف چند ماہ کے اندر اندر پورے فاٹا کو فتح کر لیا۔

تب کیا پاک فوج پشتونوں کی ذلت اور گردنیں کٹنے کا تماشا دیکھتی رہتی؟

کیا یہ سچ نہیں ہے کہ وزیرستان کا آپریشن جنرل طارق خان نے کیا تھا جو ٹانک سے تعلق رکھنے والا ایک پشتون ہے۔

——————–

پنجابیوں نے کے پی کے کو پسماندہ رکھا!

بھلا کیسے؟

پنجاب اور کے پی کے میں ترقی کا جو فرق ہے وہ شائد سینکڑوں سال پرانا ہے اور اسکی بنیادی وجہ پنجاب کی زرخیز زمینیں اور وافر پانی ہے۔ جس سے کے پی کے کا اکثر حصہ محروم ہے۔
قیام پاکستان کے بعد بھی اگر یہ فرق برقرار ہے تو چند سیدھی سادی باتیں سن لیجیے!

پاکستان پر ایوب خان، یحیی خان اور صدر غلام اسحاق خان کی شکل میں پشتون حکمران رہے انہوں نے یہ فرق دور کیوں نہیں کیا؟
ضیاءالحق اور پرویز مشرف بیس سال حاکم رہے جو مہاجر تھے۔
ان کے علاوہ ذولفقار علی بھٹو، بے نظیر اور زرداری حکمران رہے جو کہ سندھی تھے۔
نواز شریف کو اگر آپ پنجابی سمجھتے ہیں تو وہ پچھلے تیس سال سے پنجاب کا حکمران ہے اور اسی نواز شریف کو تمام پشتون قوم پرست “مشران” اپنا قبلہ و کعبہ قرار دیتے ہیں۔ 🙂

تب ذمہ دار کون ہے؟

دوسری بات سینکڑوں سال پرانا یہ فرق مٹانے کے لیے پاکستان کر امریکہ اور چین کا سارا بجٹ درکار ہوگا تاکہ پورے پاکستان کو ازسر نو تعمیر کیا جا سکے!

نیز فنڈز کی تقسیم میں آبادی کے حساب سے بلوچستان کے بعد سب سے زیادہ حصہ کے پی کے کو ملتا ہے اور سب سے کم پنجاب کو۔

لیکن ٹیکس کلیکشن میں سب سے بڑا حصہ پنجاب سے وصول کیا جاتا ہے۔

تقریباً 6 کروڑ پشتون آبادی میں سے صرف ڈھائی کروڑ کے قریب کے پی کے اور فاٹا میں آباد ہے باقی ساڑے تین کروڑ کو پنجاب اور کراچی نے سنبھال رکھا ہے۔

ہم نے کتنے پنجابیوں کو اپنے ہاں بسا رکھا ہے؟

———————

نقیب اللہ کے قاتل کو پکڑو!

ضرور پکڑو

اسکا ایک قاتل راؤ انوار نامی مہاجر ہے اور دوسرا امان اللہ مروت نامی پشتون۔

مرکز میں اچکزئی، اسفند یار ولی اور فضل الرحمن کے اتحادی نواز شریف کی حکومت ہے اور سندھ میں انہی تینوں کے اتحادی زرداری کی۔

راؤ انوار زرداری کا خاص بندہ ہے کون نہیں جانتا!

کیوں نہیں پکڑواتے؟

ویسے کبھی حساب کیا ہے کہ پولیس کے ہاتھوں ہر سال کتنے پنجابیوں کا انکاؤنٹر ہوتا ہے؟ ماڈل ٹاؤن میں تو انکی عورتوں کی منہ پر پولیس نے گولیاں ماریں۔ انہوں نے تو کبھی پاکستان کو گالیاں نہیں دیں!

———————-

پنجاب ہماری بجلی اور گیس کھا جاتا ہے۔

تو کیا ہم ان کا چاول اور آٹا نہیں کھاتے؟
گھی کہاں سے آتا ہے؟
کیا پشاور میں پیا جانے والا زیادہ تر دودھ پنجاب سے نہیں آتا؟
اگر ہم پیسے دیتے ہیں تو پنجابی بھی اس گیس اور بجلی کا بل ادا کرتے ہیں۔

ہاں البتہ فاٹا میں آباد ہماری 60 سے 80 لاکھ آبادی بجلی کے بل سے مستثنی ہے جس کا کفارہ بقیہ پاکستان ادا کرتا ہے۔

کیا وہ ساڑے تین کروڑ پشتون جو بقیہ پاکستان میں آباد اور ان وسائل سے مستفید ہو رہے ہیں، ویسٹ انڈیز سے آئے ہیں؟

ویسے کی پی کے میں قائم ورسک اور تربیلا ملا کر بمشکل 2000 میگاواٹ بجلی پیدا نہیں کر رہے جبکہ پاکستان میں اس وقت 12000 سے 14000 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔

یہ زائد بجلی کہاں سے آرہی ہے؟

یہ اس تیل سے بن رہی ہے جو خریدنے کے لیے 80 فیصد سے زائد رقم ٹیکس کی شکل میں پنجاب اور سندھ ادا کرتا ہے۔ کیا انہوں نے کبھی گلا کیا؟؟

ویسے پاکستان کی پیداوار کا 60 فیصد گیس اس وقت سندھ پیدا کر رہا ہے البتہ تیل کا بڑا حصہ کے پی کے پیدا کرتا ہے۔ لیکن پاکستان کی ضرورت 4 لاکھ بیرل ہے جبکہ کے پی کے تقریباً 50 ہزار بیرل پیدا کرتا ہے۔
باقی ساڑھے تین لاکھ بیرل کہاں سے آتا ہے؟
تین لاکھ بیرل پاکستان خریدتا ہے اس ٹیکس سے جس کا 80 فیصد سندھ اور پنجاب ادا کرتے ہیں اور بڑا حصہ پنجاب۔

بجلی کی ایک اور بات بھی سن لیں۔

کیا ہماری یہ بدمعاشی کافی نہیں ہے کہ ہم نے پچھلے چالیس سال سے پنجاب کو خود اسکی سرزمین ( میاںوالی میں ) کالاباغ ڈیم نہیں بنانے دیا۔

اس ڈیم کے نہ بنانے سے پنجاب اور پورے پاکستان کو جتنا نقصان ہورہا ہے وہ پاکستان کے کل قرضے کے قریب قریب ہے۔ کیا انہوں نے گلا کیا؟؟

اور ایک آخری بات۔

اپنی دستکاریوں کے لیے مشہور پنجاب کا صرف ایک ضلع سیالکوٹ محض اپنے ہاتھوں کی محنت سے پورے کے پی کے سے زیادہ کما کر دیتا ہے۔ ان کو کوئی خاص حکومتی سپورٹ بھی حاصل نہیں۔ بلکہ سنا ہے انہوں نے ائر پورٹ تک اپنے لیے خود بنایا ہے۔

کیا ہم پشتونوں کے ہاتھ نہیں ہیں؟ بلکہ ہمارا دعوی ہے کہ ہم پنجابیوں سے زیادہ جفاکش ہیں۔ تو ہم کیوں نہیں کرتے؟
کس نے روکا ہے؟
یا ہمیں کوئی پلیٹ میں رکھ کر پیش کرے؟

———————————–

خدا کے لیے ھوش میں آؤ۔
کبھی اسلام کے نام پر،
کبھی سرخوں سے متاثر ہو کر سوشلزازم کے نام پر،
اور اب حقوق کے نام پر ہر وقت اپنی ہی ریاست کے خلاف جنگ پر آمادہ مت رہو۔

امریکہ خود ہی ڈرون مارتا ہے اور پھر ڈیوا، مشال اور وائس آف امریکہ کے ذریعے تمھیں اکساتا بھی ہے کہ تم پر ڈرون ہوا ہے جسکا ذمہ دار پاکستان ہے، بدلہ لو۔

کیا یہ سچ نہیں ہے کہ پاکستان کے پشتونوں کے لیے دنیا کا سب سے غیر محفوظ ملک افغانستان ہے جہاں جان کی ضمانت نہ ہو تو افغانی ان کو قتل کرنے سے بھی نہیں چوکتے؟ اس وقت ان کو “لر و بر” یاد نہیں آتا؟

وہ افغانی تمھیں ان پنجابیوں کے خلاف اکسا رہے ہیں جو تمھارے لیے جانیں دے رہے ہیں!

کچھ تو عقل کرو!

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here