اس وقت پاکستان پر کل بیرونی قرضہ 83 ارب ڈالر ہے۔  اس میں سے صرف 2 ارب ڈالر فوجی ادوار کا ہے باقی81 ارب ڈالر “جمہوری” قرضہ ہے۔ 

0
791

پاکستان میں جمہوریت اور آمریت کا سرسری سا موازنہ ۔۔۔۔۔ !

اس وقت پاکستان پر کل بیرونی قرضہ 83 ارب ڈالر ہے۔ 
اس میں سے صرف 2 ارب ڈالر فوجی ادوار کا ہے باقی81 ارب ڈالر “جمہوری” قرضہ ہے۔ 

ڈالر کی قیمت اس وقت 106 روپے ہے۔
اس میں سے کل ملا کر صرف 12 روپے تینوں فوجی ادوار میں روپے کی قدر گری ہے۔ ۔
باقی 96 روپے جمہوریت کا تحفہ ہے۔

پاکستان کے قومی اداروں کی کارکردگی جمہوری ادوار کی نسبت فوجی ادوار میں بہت بہتر رہی۔ اسکی لمبی چوڑی تفصیل ہے ۔ صرف ایک دو مثالیں دینا کافی ہوگا ۔ کیا کوئی یقین کر سکتا ہے کہ پی آئی اے ایوب خان کے دور میں دنیا کی نمبرون ائر لائن تھی!
اسی طرح آج کل جس سٹیل مل کو خسارے کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے یہی سٹیل مل مشرف کے دور میں 2005 میں ایک ارب روپے کما کر دے رہی تھی۔

یہ سچ ہے کہ جمہوری ادوار میں پاکستان کے قومی اداروں میں سے کوئی ایک بھی سٹیبل نہیں رہ پاتا ترقی کرنا تو دور کی بات ہے ۔ اسکو گوگل پر چیک کر سکتےہیں۔

پاکستان کی افغان پالیسی اور جنگجوؤں کو سپورٹ کرنا بھی جمہوریت کا ہی تحفہ ہے ۔
سب سے پہلے بھٹو نے 73/74 میں گل بدین حکمت یار ، یونس خالص، احمد شاہ مسعود وغیرہ کو پاکستان بلوا کر چراٹ میں ٹریننگ دلوا کر افغانستان بھیجا تھا بغاوت کرنے۔
جنرل ضیاء نے بعد میں بھٹو کے ان تیار کیے گئے باغیوں کو روس کے خلاف پاکستان کو بچانے کے لیے استعمال کیا۔
اسی طرح طالبان بھی 92/93 میں بنے اور 99 تک پروان چڑھے جو کہ ایک جمہوری دور تھا۔

پاکستان کے اندر پانچوں بڑے فوجی آپریشن جمہوری دور میں ہوئے ۔ بلوچستان میں پہلا ، بڑا اور واحد آپریشن بھٹؤ اور نواب اکبر بگٹی نے مل کر مری قبائل کے خلاف کروایا تھا ۔
کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف پیپلز پارٹی کے حکم پر ۔
سوات او وزیرستان میں پیپلز پارٹی کے حکم پر ۔
ہاں البتہ ” ضرب عضب ” کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ نواز شریف کی مرضی اور اجازت کے بغیر شروع کیا گیا۔

پاکستان سے بنگلہ دیش الگ تب ہوا جب بھٹو نے مجیب کا مینڈیٹ تسلیم کرنے سے انکار کر کیا اور ” ادھر تم ادھر ہم ” کا نعرہ لگایا۔ ورنہ مجیب نے تو ڈھاکہ میں اجلاس طلب کر لیا تھا۔ بھٹو کے اعلان کے بعد مجیب نے آزادی کا اعلان کر دیا تب پاک فوج نے آپریشن کر کے پاکستان کو بچانے کی کوشش کی۔

پاکستان کے سارے بڑے ڈیم ، نہریں ، بیراج اور غازی بھروتہ پراجیکٹ وغیرہ جن پر اس وقت کل پاکستان کی زراعت کا انحصار ہے اور جو آج بھی پاکستان کو سستی بجلی مہیا کر کے کسی حد تک چلا رہے ہیں سب فوجی ادوار کے تحفے ہیں۔
بڑے ڈیم ایوب کے دور میں اور سب سے زیادہ چھوٹے ڈیم ضیاء کے دور میں بنائے گئے۔ یہی ڈیم، نہریں اور بیراج اس وقت بھی پاکستان کی 70 فیصد ذرعی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ یعنی پاکستان آج بھی فوجیوں ہی کی محنت کا پھل کھا رہا ہے۔

ہاں البتہ پاکستان کے لیے ریڑھ کی ہڈی جسی حیثیت رکھنے والے کالاباغ ڈیم کو جمہوریوں نے پہلے متنازع بنایا اور پھر جمہوریت کے نام پر اس پر پابندی لگوائی۔

بقول ڈاکٹر عبد القدیر اور چند اور بڑے سائنسدانوں کے بھٹو کے دور میں ایٹمی پروگرام صرف کاغذات اور پلاننگ تک ہی محدود تھا اسکو حقیقت کا رنگ اور اسکی تکمیل کا کارنامہ جنرل ضیاء نےسرانجام دیا۔ جس نے اپنی غیر معمولی سفارتی صلاحیتوں کی بدولت اقوام متحدہ سے سرٹیفیکٹ لے رکھا تھا کہ “پاکستان ایتمی پروگرام پر کام نہیں کر رہا ” ۔ جبکہ اس وقت بچہ بچہ یہ بات جانتا تھا کہ ” کہوٹہ بم والی فیکٹری ہے” ۔ اسی کے دور میں پاکستان ایٹم بم استعمال کرنے کے قابل ہو گیا تھا۔
اور تو اور جہاں ایٹمی تجربہ کیا گیا وہ ایل شیپ کی ٹنل بھی جنرل ضیاء کے حکم پر ہی تیار کروائی گئی تھی۔

پاکستان کی ائر فورس کو جدید ترین طیارے ٖایف 16 جنرل ضیاء نے حاصل کیے اوربعد میں جے ایف تھنڈر بھی فوجیوں ہی کا تحفہ ہیں۔ پاکستان کا ایٹمی آبدوزوں کا پروگرام اور پاکستانی ڈرونز بھی فوجیوں ہی کے تحفے ہیں۔
پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی صحیح معنوں میں مشرف کے دور میں ڈیویلپ ہوئی جب پاکستان روزانہ میزائل تجربات کیا کرتا تھا اور تو اور بری فوج کے لیے الخالد ٹینک بھی فوجیوں کا ہی تحفہ ہے۔

فوجی ادوار میں ہی انڈیا کے خلاف 65ء کی جنگ میں ( اگر ویکیپڈیا کی جانب دارانہ آرٹیکلز جن کو ایڈٹ نہیں کیا جا سکتا اور پاکستان میں بیٹھے انڈین دانشوروں کو نظر انداز کر دیں ) فتح حاصل کی گئ ۔ روس کو مکمل شکست دی گئی ۔ کشمیر کو آزاد کرانے کی عملی کوششیں فوجیون نے ہی کی ہیں۔ فوجی دور میں ہی خالصتان تحریک پروان چڑھی جنہوں نے تقریباً انڈیا کو توڑ دیا تھا ۔
خالصتان تحریک کو پیپلز پارٹی نے خفیہ اطلاعات دے کر تباہ کیا اور کشمیر مجاہدین کے بارے میں نواز شریف نے اطلاعات فراہم کیں اور انکی قربانیوں پر پانی پھیر دیا۔
کارگل کی جیتی ہوئی جنگ نواز شریف نے ہروا دی جب امریکن دباؤ پر اس نے مورچوں سے فوج کو واپس بلانے کا حکم دیا۔

پرویز مشرف کے بارے میں بہت سے امریکن کہتے ہیں کہ امریکہ کی دو سو سالہ تاریخ میں اگر کسی ایک شخص نے امریکہ کی بنیادیں ہلائیں ہیں تو وہ پرویز مشرف ہیں ۔ جنہوں نے امریکہ کے ساتھ دوغلی پالیسی چلائی اور افغانستان میں مجاہدین سے خفیہ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے امریکہ کو ایک ایسی دلدل میں گھسیڑا جہاں سے اب نہ وہ نکل سکتا ہے نہ رک سکتا ہے۔

پاکستان میں تقریباً ساری اسلامی قانون سازی ایک فوجی ( جنرل ضیاء) ہی کے دور میں ہوئی۔ “جمہوری ملا” اس سلسلے میں آج تک کچھ نہ کر سکے سوائے فساد برپا کرنے کے۔

یہ ایک نہایت ہی مختصر سا جائزہ ہے ۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کو جمہوریت نے روندا ہے یا پاک فوج نے۔

بات صرف یہ ہے کہ جمہوریوں کے پاس بولنے والے لوگ ہوتے ہیں جو عوام کے سامنے مسلسل اور تھکے بغیرجھوٹ بولتے ہیں جس کو بلاآخر لوگ سچ سمجھنے لگتے ہیں۔

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here