اس وقت آئینی اور قانونی سزا سے بچنے کے لیے نواز شریف کے پاس صرف دو آپشنز رہ گئے ہیں۔ 

طے یہ ہوا تھا کہ عین وقت پر افغانستان پاکستانی سرحدوں پر چمن اور تورخم طرز کے حملے کرے گا۔ جبکہ انڈیا ایل او سی پر یکلخت دباؤ بڑھا دے گا۔ شائد وہاں کوئی چھوٹی موٹی جنگ چھیڑ دے۔ جبکہ پاکستان میں دہشت گردوں کے سلیپرز سیلز کو بھی ایکٹیو کر دیا جائیگا۔  نیز نواز شریف کے وہ اتحادی جن کے پاس سٹریٹ پاور ہے (خاص کر مولانا فضل الرحمن) وہ اپنے بہت سے لوگوں کو سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالنے کے لیے اسلام آباد لے آئنگے۔ 

0
2325

سپاہ سالار نے افغانستان کا ایک طوفانی دورہ کرنے کے بعد آج کور کمانڈرز کا ایک خصوصی اجلاس طلب کیا جس میں چند نہایت اہم امور پر غور کیا گیا۔ یہ اجلاس 7 گھنٹے جاری رہا۔ 

اجلاس کے اعلامیے سے قطع نظر میں وہ بتانا چاہتا ہوں جو مجھے سمجھ آرہا ہے۔ 

اس وقت آئینی اور قانونی سزا سے بچنے کے لیے نواز شریف کے پاس صرف دو آپشنز رہ گئے ہیں۔ 

پہلا ۔۔۔ ایسےجارحانہ اور اشتعال انگیز اقدامات کیے جائیں جس سے پاک فوج کوئی غیر آئینی قدم اٹھانے پر مجبور ہوجائے۔
( اس سے نواز شریف باآسانی سپرم کورٹ کو پاک فوج کے زیر اثر قرار دے کر اپنے خلاف جاری عدالتی کاروائی کو غیر قانونی قرار دے دیگا )

دوسرا ۔۔۔۔۔۔ آئین میں ایسی ترامیم کی جائیں جن کے بعد نواز شریف ہر قانون سے ماوراء ہوجائے۔

جن آئینی ترامیم پر غور کیا جا رہا ہے ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔۔۔۔۔۔۔ نااہلی کی زیادہ سے زیادہ مدت چھ ماہ ( چاہے ملک بیچتے ہوئے پکڑا گیا ہو)
2۔۔۔۔ آرٹیکل 62/63 کا خاتمہ ( یعنی سچائی اور ایمانداری کی شرط ختم )
3 ۔۔۔۔ نیب نامی ادارے کا خاتمہ
4 ۔۔۔۔۔ وزیراعظم کو بھی صدر کی طرح استثنی
5 ۔۔۔۔ راکین اسمبلی کے خلاف کاروائی کے لیے وزیراعظم اور وزیراعلی کی اجازت لازم

اسی طرح کی کچھ اور خطرناک تبدیلیاں بھی زیر غور ہیں جن میں سے کچھ پاک فوج کے حوالے سے بھی ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ ایسی آئینی ترامیم جو آئین کی روح کے خلاف ہوں سپریم کورٹ انہیں اڑا دے گی۔ نواز شریف کو یقین ہے کہ اگر پاک فوج سپریم کورٹ کا ساتھ نہ دے تو وہ ان سے نمٹ سکتا ہے۔ اس لیے ان آئینی ترامیم کے دوران پاک فوج کا کہیں اور “مصروف” رہنا ضروری ہے۔

کچھ دن پہلے میڈیا پر خبریں آئی تھیں کہ نواز شریف اور الطاف حسین میں رابطے تیز ہوگئے ہیں۔ الطاف حسین کو اس وقت آپ انڈیا ہی سمجھئے!

طے یہ ہوا تھا کہ عین وقت پر افغانستان پاکستانی سرحدوں پر چمن اور تورخم طرز کے حملے کرے گا۔ جبکہ انڈیا ایل او سی پر یکلخت دباؤ بڑھا دے گا۔ شائد وہاں کوئی چھوٹی موٹی جنگ چھیڑ دے۔ جبکہ پاکستان میں دہشت گردوں کے سلیپرز سیلز کو بھی ایکٹیو کر دیا جائیگا۔
نیز نواز شریف کے وہ اتحادی جن کے پاس سٹریٹ پاور ہے (خاص کر مولانا فضل الرحمن) وہ اپنے بہت سے لوگوں کو سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالنے کے لیے اسلام آباد لے آئنگے۔

جس کے بعد اگر پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں کوئی ” تصادم ” ہوتا ہے تو پاک فوج سپریم کورٹ کی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی۔

غالب گمان ہے کہ دورہ افغانستان اور کور کمانڈرز کانفرنس میں اسی چیز کو مانیٹر کرتے ہوئے پاک فوج نے اپنا لائحہ عمل طے کیا ہے۔ وہ لائحہ عمل کیا ہے یہ تو وقت ہی بتائیگا۔

لیکن ایک چیز طے ہے۔ نواز شریف پاکستان کے خلاف یہ جنگ جیت نہیں سکتا!

ویسے آپ نے نوٹ کیا ؟؟

اس وقت پاک فوج اور ” جمہوری” دونوں پریشان ہیں۔ دونوں تگ و دو کر رہے ہیں۔ لیکن دونوں کی پریشانی کی نوعیت اور تگ و دو میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here