اس نے اپنی بھتیجی کی شادی ایک سکھ سے کروانے کے لیے پورے خاندان کی مخالفت مول لی۔

0
390

باچا خانی ۔۔۔ !

پاکستان بننے سے پہلے

“پاکستان نہیں بننا چاہئے کیونکہ برصٖغیر کے مسلمان تقسیم ہوجائینگے “

پاکستان بننے کے بعد

” پختونوں کا اپنا ملک اور اپنا اختیار ہونا چاہئے ۔ حقوق نہ ملے تو پاکستان کو تقسیم کر دینگے “

کتنی حیران کن بات ہے سارے برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق کی بات کرنے والا باچا خان ایک دم بختونوں پر کیسے آگیا ؟؟

ہاں یہ محض اتفاق تھا کہ ہندو بھی نہیں چاہتے تھے کہ پاکستان بنے۔

———————

پنجاب میں بننے والے کالاباغ ڈیم پر موقف

” کالاباغ ڈیم بنانے کے لیے ہماری لاش پر سے گزرنا ہوگا۔ اس ڈیم کو پشتونوں سے زیادہ پنجابیوں کا فائدہ ہوگا اور چارسدہ ڈوب جائیگا۔

دریائے کابل پر بنائے جانے والے ڈیموں پر موقف
( دریائے کابل کو صوبہ خیبر کا اکلوتا دریا سمجھ لیں ان ڈیموں کی تعمیر کے بعد کے پی کے خاص کر چارسدہ کی 80 فیصد زراعت متاثر ہوگی )

” یہ افغانستان اور انڈیا کا اندرونی معاملہ ہے “

یعنی ایک طرف صرف ” فائدہ ” کم ہونے کا اندیشہ تو جان دینے کے لیے تیار۔ دوسری طرف یقینی موت تو بلکل خاموشی۔ کیوں؟

یہ الگ بات ہے کہ کالا باغ ڈیم پر ہندو کو اعتراض ہے اور افغانستان میں ڈیم بھی ہندو بنوا رہا ہے۔

———————

باچا خان پشتونوں میں غالباً پہلا سیکولر تھا۔

اس نے اپنی بھتیجی کی شادی ایک سکھ سے کروانے کے لیے پورے خاندان کی مخالفت مول لی۔

دو قومی نظریے کا زبردست مخالف رہا اور دعوی کرتا رہا کہ اسلام محض چودہ سو سال پرانا ہے جبکہ پشتونوں کی تاریخ ہزاروں سال کی ہے۔

مشال نامی ملعون بھی سرخا تھا اور اسکا کیس مفت لڑنے والا وکیل بھی اسی جماعت کا ایک سرگرم رکن ہے۔

میں باچا خان کی پروفائل پڑھی۔ مجھے اس میں کہیں اس عظمت کا سراغ نہیں ملا جو اس پر زبردستی تھوپی جاتی ہے۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here