اس معمولی مچھر میں ڈھونڈنے والوں کے لیے کتنی نشانیاں ہو سکتی ہیں ذرا اندازہ لگاتے ہیں !!!

0
400

قرآن میں اللہ نے مچھر کی مثال دی کہ حق ماننے والوں کے لیےبظاہر اس معمولی مثال میں بھی نشانیاں ہیں !!!

اس معمولی مچھر میں ڈھونڈنے والوں کے لیے کتنی نشانیاں ہو سکتی ہیں ذرا اندازہ لگاتے ہیں !!!

ہم صرف مچھر کے خون چوسنے کے عمل پر غور کرتے ہیں جو اس قدر پیچیدہ ہے اور اس میں بیک وقت اتنے عناصر کارفرما ہوتے ہیں کہ ناقابل یقین لگتا ہے !!! لہذا اس سارے عمل کے بھی ہم صرف ایک حصے پر غور کرتے ہیں !!!

مچھر خون چوسنے کے لیے کھال کاٹتا ہے ۔ وہاں سے اتنی معمولی مقدار میں خون رستا ہے کہ بظاہر نظر نہیں آتا ۔ کٹے ہوئے اس حصے میں مچھر اپنا ڈنک اندر داخل کر کے خون چوسنا شروع کر دیا ہے ۔

ہم جانتے ہیں کہ وریدوں اور رگوں کو ذرا سا بھی نقصان پہنچ جائے تو انسانی جسم ایک ایسا مادہ خارج کرنے لگتا ہے جو وہاں سے رستے خون کو فوراً لوتھڑے کی شکل میں جما دیتا ہے ۔ مطلب خون جمنے سے مچھر خون پینے کے قابل نہیں رہتا تو وہ اپنا یہ مسئلہ کیسے حل کرتا ہے ؟؟

کھال میں کٹ لگانے کے بعد خون چوسنے سے قبل مچھر وہاں ایک مخصوس مائع اپنے جسم سے داخل کرتا ہے جو اس مادے کو بے اثر کر دیتا ہے جو خون جماتا ہے !!! مچھر کے چھوڑے ہوئے اسی مادے کی وجہ سے انسان اس حصے میں خارش یا سوجن محسوس کرتا ہے ۔

یہ غیرمعمولی عمل کچھ غیر معمولی سوالات کو جنم دیتا ہے جیسے ۔۔۔۔

1۔ خون کو لوتھڑے میں تبدیل کر دینے والے اس مادے کا علم مچھر کو کیسے ہوا؟؟
2۔ اس کیمیائی مادے کو بے اثر کرنے کے لیے اسکی ساخت کا علم ہونا ضروری ہے یہ علم مچھر نے کیسے حاصل کیا ؟؟
3۔ اگر یہ علم اس نے کسی طرح حاصل کر بھی لیا تو اسکو بے اثر کرنے والی رطوبت اسنے اپنے جسم میں کیسے پیدا کی اور اسکو اپنے پیٹ سے جبڑوں تک پہنچانے کا ” میکنزم ” کیسے نصب کیا ؟؟

یقیناً مچھر میں کوئی دانائی نہیں نہ ہی اس کو کیمیا کا علم حاصل ہے اور نہ ہی اسکے پاس کوئی تجربہ گاہ ہے !!! اسکی تو کل لمبائی ہی چند ملی میٹر ہوتی ہے ۔۔۔۔۔!!!

یہ اللہ ہی ہے ۔ عظیم خالق جس نے آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق کی اور سب جانداروں کی اور انکو مطلوبہ صفات عطا کیں ۔۔۔۔

غور کرنے والوں کے لیے اس مٰیں نشانیاں ہیں !!!

تحریر شاہد خان ( ہارون یحی کی تحقیق)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here