اس حقیقت کو سمجھنے والے بہت تھوڑے ہیں کہ ۔۔۔۔۔ ” عوام کو مطمئن نہیں کیا جا سکتا “

0
427

اس حقیقت کو سمجھنے والے بہت تھوڑے ہیں کہ ۔۔۔۔۔ ” عوام کو مطمئن نہیں کیا جا سکتا “

اس لیے بعض اوقات عوام ایک اچھے حکمران کو بھی اپنی اسی فطرت کی وجہ سے اڑا کر رکھ دیتے ہیں اور بعد میں پچھتاتے ہیں ۔ یہ فطرت صرف عوام کی نہیں بلکہ خواص حتی کہ بڑے بڑے دانشور اور فلسفی بھی اس کمزوری کا شکار نظر آتے ہیں ۔

درحقیقت یہ صلاحیت نہایت ہی گنے چنے لوگوں میں پائی جاتی ہے کہ ایک اچھے حکمران کی پہچان اور قدر اسوقت کر سکیں جب کہ وہ اقتدار میں ہو !!!

ہمارے یہ دانا ، فلسفی اور بڑے دماغ اپنے تصورات میں ایسے حکمران سجائے بیٹھے ہیں جو صدیوں میں ایک پیدا ہوتا ہے ۔ اسی کو معیار مان کر یہ اکثر اچھے حکمرانوں کے خلاف بھی عوام کو ابھارنے کا سبب بن جاتے ہیں ۔۔ اور نتائج اکثر پہلے سے برے برآمد ہوتے ہیں ۔

میں ایک دو مثالیں دینا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔ مودودی صاحب اور حبیب جالب کے خلوص میں کوئی شبہ نہیں تھا لیکن ۔۔۔۔ مودودی صاحب نے ایوب خان کے خلاف تحریک شروع کی اور عوام ایک مثالی نہ سہی لیکن ایک اچھے لیڈر سے محروم ہوگئی ۔

اور حیرتناک طور پر ایوب خان کو ہٹانے والی مذہبی جماعتیں بعد میں بھٹو کا ساتھ دیتی نظر آئیں جسکے دور میں پہلی بار ملک میں فحاشی کا طوفان آیا ۔

حبیب جالب جرنل ضیاء کے خلاف مسلسل عوام کو ابھارتا رہا اور اسکو ظالم کے خلاف حق گوئی سمجھتا رہا لیکن حیرتناک طور پر جنرل ضیاء جیسے مجاہد کو ہٹائے جانے کے بعد حبیب جالب نے خود بے نظیر بھٹو کی حمایت کی جس نے صحیح معنوں میں ملک کا بیڑا غرق کیا ۔۔۔۔۔۔۔

ایسا کیوں ہوتا ہے ؟؟ عوام کو تو مطمئن نہیں کیا جا سکتا لیکن خواص کی یہ حالت کیوں ہوتی ہے کیا اسلئے کہ وہ ایک تصورراتی اور مثالی دنیا میں رہتے ہیں اور سب کچھ ویسا ہی چاہتے ہیں ؟؟؟

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here