اس جنگ میں غلط اطلاعات دی جاتی ہیں اور جھوٹ بولا جاتا ہے

0
384

اس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ اس وقت ذرائع ابلاغ کے ذریعے ایک نسبتاً زیادہ بڑی جنگ جاری ہے جسکا نشانہ اسلام ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس جنگ میں غلط اطلاعات دی جاتی ہیں اور جھوٹ بولا جاتا ہے تاکہ مخصوص مقاصد حاصل کیے جا سکیں لیکن اس جنگ میں آپکے دشمنوں کی طرف سے ایسا سچ بھی بولا جاتا ہے جو اسلام ، پاکستان اور مسلمانوں کے اتحاد کو تقصان پہنچا دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ سر ہلا کر کہہ دیتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔

“ہاں یہ تو اس نے سچ کہا”۔۔۔۔

یاد رکھیے اس جنگ کا نشانہ آپ ہیں اور یہ حملے آپ پر ہو رہے ہیں ۔ اس جھوٹ کا نشانہ بھی آپ ہی ہیں اور اس زہریلے سچ کے ذریعے بھی آپ ہی پر حملہ کیا جاتا ہے ۔ آپ میں سے ہر ایک اپنے طور پر کسی حد تک ان حملوں کا جواب دے سکتا ہے بس آپ کو صرف یہ پتہ ہونا چاہئے کہ دشمن کن کن مورچوں کو نشانہ بنا رہا ہے ۔۔۔۔۔ ! ان مورچوں کو پہچان لینے کے بعد ہی آپ ان حملہ آوروں اور انکے حملوں کو سمجھ سکتے ہیں !

اسکو سمجھ لینے کے بعد آپ بھی کسی حد تک اس جدید جنگی انداز کا جواب دے سکتے ہیں ۔ اسکے لیے ہمارے پاس اپنے کچھ دینی حوالے موجود ہیں کہ دشمن میں اختلاف پیدا کرنے یا مسلمانوں میں اتحاد پیدا کرنے کے لیے آپ بھی کچھ سچائیوں پر پردہ ڈال سکتے ہیں یا کچھ غلط اطلاعات فراہم کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

ایسا جھوٹ جو امت میں فساد کو کم کرے اس سچ سے بہتر ہے جو امت میں فساد برپا کر دے۔۔۔۔۔۔۔

آپ نے جن مورچوں کی حفاظت کرنی ہے ان میں شعائر اسلام ، مسلمانوں کا اتحاد، پاکستان ، ہمارے دفاعی آلات یعنی پاک فوج اور نیوکلیر پروگرام ، ہمارے مجاہدین، ہماری زبان اور ہماری قابل فخر ثقافت شامل ہے جس کو کافی حد تک نقصان پہنچایا جا چکا ہے ۔۔۔۔

جہاں تک ہماری پاک فوج کا تعلق ہے آپ نوٹ کیجیے کہ جن جن لوگوں یا گروہوں کو آپ ملک دشمن کی حیثیت سے پہچان چکے ہیں پاک فوج ان سب کا مشترکہ نشانہ ہوتی ہے ۔۔ چاہے ان لوگوں کا تعلق میڈیا سے ہو ( حامد میر ، سلیم صافی اور کامران شاہد وغیرہ) چاہے انکا تعلق لڑنے والے جنگجوؤں سے ہو (ٹی ٹی پی اور بی ایل اے وغیرہ ) چاہے سیاست سے ہو ( اے این پی اور محمود اچکزئی جیسے لوگ ) چاہے سماجی تنظیموں سے ہو ( عاصمہ جہانگیر اور ماروی سرمد وغیرہ ) ۔۔۔۔۔۔ کیوں ؟؟؟؟؟؟

کیونکہ پاک فوج ہی اللہ نے وہ چھتری پیدا کی ہے جس کے سائے تلے اوپر گنوائی گئی باقی چیزیں کسی حد تک بچی ہوئی ہیں ۔ پاک فوج پاکستان کی محافظ ہے اور کوئی شبہ نہیں کہ اسکی حفاظت کا حق ادا کر رہی ہے ۔ جرنیلوں سے لے کر جوانوں تک سب نے جان کی بازی لگائی ہوئی ہے ۔ یہی ہمارا وہ مورچہ ہے جس پر سب سے زیادہ حملے ہو رہے ہیں ۔ اگر پاک فوج کو کچھ ہوگیا تو پھر باقی کچھ بھی بچانا ممکن نہیں رہے گا۔

اب آپ کو خوبصورت الفاظ ،دلکش نعروں اور ان “نام نہاد سچائیوں” کا زہر پہچان لینا چاہئے اور آپ کو وہ طریقے آجانے چاہئیں جن سے آپ انکا مقابلہ کر سکیں ۔ آپ نے یہ سارے مورچے ہر صورت بچانے ہیں ۔ یہ اسلام کے مورچے ہیں ۔ یہ جنگ آپ نے اللہ کے لیے لڑنی ہے۔۔۔۔۔۔۔

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here