اس تحریر کو شیئر کریں اور فلسطینی بہن بھائیوں کے اظہار یکجہتی کریں

0
284

اس تحریر کو شیئر کریں اور فلسطینی بہن بھائیوں کے اظہار یکجہتی کریں 

آج اگر پوری دنیا میں ایک نظر گھمائی جائے تو اس وقت سب سے زیادہ ظلم و ستم مسلمانوں پر کیا جا رہا ہے  فلسطین کشمیر یمن لبیا عراق ایران افغانستان اور بہت سے دیگر مسلم ممالک یہود و نصارٰی کے ظلم ستم کے پہاڑوں تلے دبے ہیں۔اس سب کے پیچھے کونسی خفیہ طاقتیں ہیں ذرا ان سے پردا اٹھاتا ہوں اس سب کے پیچھے دجالی طاقتیں ہیں۔  اور دجالی فتنہ اس وقت پوری طاقت سے فساد پھیلانے میں لگی ہوئی ہیں  جو اسرائیل امریکہ بھارت کے کے وجود میں میں موجود ہیں  

یہ دجالی طاقتیں کبھی سامنے سے نہی لڑتی انکا ماننا ہے کہ اگر کسی کو تباہ کرنا ہے تو اس ملک میں فسادات برپا کرو  انہے آپس میں لڑاؤ انہے اس ملک کی افواج کے خلاف کھڑا کرو انکے لوگ خریدو بہت کم یہ طاقتیں براہ راست کسی کو قتل کرتی ہیں بلکہ یہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ آپس میں لڑوا کر ہمیں ختم کرتی ہیں 

یہ ہم پر مذہبی معاشی سیاسی اور اور عوام اور افواج میں انتشار پیدا کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہیں۔ 

اگر کسی کو میری بات پر یقین نہیں ہے تو وہ لبیا عراق یمن افغانستان میں موجود کھنڈرات جا کر دیکھ سکتا ہے ایسا کیوں اور کب ہوا ایسا تب ہوا جب ہم لوگ اپنے سیدھے راستے سے ہٹ کر یہودیوں کے راستے پر چل پڑے ہیں اور اپنی اسلامی تعلیمات کو بھول چکے ہیں 

کچھ ایسا ہی فلسطین میں بھی ہوا ہے  فلسطین کی کچھ ضمیر فروش عوام نے اپنی مظلوم عوام کی جان کا سودا اس وقت کیا جب انہوں نے اپنی زمین ان یہودیوں کو چند پیسوں کی لالچ میں فروخت کی دوشمن جب گھنسا اس نے ان کی صفوں میں گھنس کر انتشار کی ہوا دی اور انہے آپس میں لڑوا نا شروع کیا اور اسکا فائدہ اٹھا کر انکی زمین پر قبضہ کرنا شروع کر دیا  اور اس قبضے کے لیے آج تک مظلوم فلسطینیوں کا قتل کر رہا ہے  اب قصور تو ان کمینوں کا ہے نا جنہوں نے چند پیسوں کے ایوز زمین کر اپنی باقی مظلوم بہن بھائیوں کی جان کا سودا کیا۔ لیکن تباہ تو سارا ملک ہو رہا ہے  اور آئے روز ہمارے مظلوم بہن بھائی وہاں بے دردی سے قتل ہو رہے ہیں  

اسرائیل کو کوئی بھی ریاست تسلیم نہیں کرتا اسرائیل نامی کوئی ملک کا دنیا میں موجود نہی لیکن ان کمینوں نے ہمیشہ اپنا وجود مسلمانوں کو قتل کر کے بنانے کی کوشش کی ہے اور وجہ صرف اور صرف ہمارا کمزور ایمان اور ہمارا مختلف صفوں میں بٹے ہونا ہے۔ 

ہم آج فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں یقین جانیے اپنے مظلوم بھائیوں کو غزوہِ ہند میں ان شاءاللہ اس ظلم و ستم سے آزاد کروا کر رہیں گے اور وہ سب حساب کتاب اپنے مظلوم بہن بھائیوں کے لاشے سامنے رکھ کر کیا جائے گا۔ اور دنیا کی کوئی طاقت ریاست پاکستان کو یہ سب کرنے سے نہی روک سکتی 

اور اسرائیل کی تباہی بھی ریاست پاکستان کے ہاتھوں لکھی گئی ہے  اور یہ ہو کر رہنا ہے  اوپر سب باتیں کرنے کا ایک مقصد اور بھی ہے وہ یہ کہ آج اسی ساری سٹوری کو اگر اٹھا کر پاکستان میں ایک نظر گھمائیں 

تو آپ کو منظور پشتین محسن داوڑ اور علی وزیر گلالئ اسماعیل کی شکل میں بھی وہی غدار ملیں گے جو اسرائیل امریکہ اور بھارت کے ہاتھوں بک کر آج پاکستان کے خلاف بھی وہی کام کر رہے ہیں جو آج سے پہلے کچھ ضمیر فروش فلسطینیوں نے کیا تھا اور آج ہم یں سے ۴۰ فیصد عوام بھی اسی سب پر خاموش ہے  اور اس سب جھوٹے پروپیگنڈوں کے خلاف آواز نہی اٹھا
رہی   اور انکے اس پراپیگنڈے کو بے نقاب کرنے کے بجائے اس پر خاموش ہو کر انکا ساتھ دے رہے ہیں 

ہم بولیں گے ضرور چیخیں گے ضرور ماتم کریں گے پر اس وقت جس وقت اللہ نا کرے ہمارا حال بھی فلسطینیوں کے جیسا ہو گا اس وقت اگر کسی نے میری یہ تحریر پڑھیں ہوئی تو اسے یہ ضرور یاد آئے گا کہ ایک پاگل وطن کے عشق میں دیوانہ کہ رہا تھا کہ آج بولو ظلم کے کے خلاف ڈٹ جاؤ اپنے ملک اور اس کی افواج کے خلاف اٹھنے والی انگلی توڑ ڈالو  اور اس پر بھونکنے والی زبان کھینچ ڈالو 

لیکن ہم لوگ اس وقت غافل نیند سوئے ہوئے تھے ہم لوگ کا علمیہ یہ ہے کہ ہم ہر بات کی امید فوج سے لگائے بیٹھے ہیں جب کہ اللہ کی پاکستان پے سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اللہ نے پاکستان کے ہر بچے بوڑھے جوان میں ایک فوجی چھپا رکھا ہے۔  اس فوجی کو پہچانوں اور خود کو پاکستان کی خدمت میں لگاؤ اور دوشمنوں کے خلاف ہر محاذ پر ڈٹ جاؤ اس سے پہلے بہت دیر ہو جائے ۔ 

افواج پاکستان کیا کیا کرے آج افواج پاکستان دوشمنوں کے گھیرے میں رہ کر بھی اس وقت دوشمنوں رسوا اور ذلیل کر رہی ہے اور مسلسل دوشمنوں کو موت کے گھاٹ اتار رہی ہے ایسے میں ہم اتنا تو کر سکتے ہیں اپنی افواج کے ہو میں کہ ہم ان زبانوں کو یک زبان ہو کر لگام ڈالیں جو آج اندرونی سطح پر افواج پاکستان کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے 

اور اگر ہم ایسا نہی کر سکتے تو پھر شرم کا مقام ہے ہمارے لیے کہ آج کافر ہم سے ایک دوسرے کے ساتھ یکجہتی میں آگے ہیں  اور لمحہ فکریات ہے ہمارے لیے کہ ہم مسلمان ہو کر بھی ایک دوسرے کی جڑیں کاٹ رہے ہیں اور اس ملک کی افواج کے حق میں بول تک نہی پارہے 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here