اسلام کے خلاف پہلی ڈس انفارمیشن جنگ

0
429

اسلام کے خلاف پہلی ڈس انفارمیشن جنگ

حضرت عثمانؓ اسلام کے تیسرے خلیفہ مقرر ہوئے تو آپ کے دور میں یہودیوں نے “منافقت ” کا راستہ بڑے پرعزم طریقے اور منصوبہ بندی سے اختیار کیا۔ طبری کی روایت ہے کہ 33-35 ہجری کے برسوں میں ایک یمنی یہودی عبداللہ بن سبا نے، جو ابن السودا کے نام سے مشہور تھا، اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے ظاہری تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ نمازِ فجر کے لیے مسجد میں داخل ہونے والا وہ پہلا شخص ہوتا اور عشاء کے بعد مسجد سے رخصت ہونے والا بھی وہ آخری شخص ہوتا۔ ہر وقت نوافل کی ادائیگی میں مصروف رہتا۔ اکثر روزہ رکھتا اور درود وظائف کا تو شمار ہی نہ تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ علی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بہت قریبی رشتہ دار ہیں اگر ان کے نام پر حضرت عثمانؓ کے خلاف کام کیا جائے تو بڑا کامیاب ہوگا۔

عرب میں عبد ﷲ بن سبا اپنا کام نہ کرسکا کیونکہ یہاں صحابہ کی کافی بڑی تعداد موجود تھی اس لیے اس نے عراق کے علاقے کا انتخاب کیا کیونکہ یہ علاقہ مسلمانوں نے فتح کر لیا تھا لیکن یہاں پر اب بھی وہاں کے لوگوں کے دلوں میں ایرانی بادشاہ کی محبت اور مسلمانوں کے خلا ف نفرت تھی۔ وہاں جاکر عبد اﷲ بن سبا نے لوگوں سے کہنا شروع کر دیا کہ یہ کیا بات کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رشتہ دار یعنی علی تو یوں ہی بیٹھے رہیں اور اِدھراُدھر کے لوگ خلیفہ بن جائیں۔ ابھی وقت ہے کہ عثمان کو ہٹا کر علی کو خلیفہ بنادو۔ لیکن چونکہ بصرہ عراق میں صحابہ کی بہت ہی تھوڑی تعداد تھی جو نہ ہونے کے برابر تھی اس لیے کوئی عبد ﷲ بن سبا کی باتوں کا جواب نہ دے سکتا اگر وہ ہوتے تو کچھ جواب دیتے لوگ آہستہ آہستہ اس کی باتوں سے متاثر ہوکر عثمان کے خلاف ہوتے گئے۔

جب بصرہ کے گورنر عبد ﷲ بن عامر کو عبد ﷲ بن سبا کی منافقت کی خبر ملی تو اس کو بصرہ سے نکال دیا اور یہ پھر کوفہ پہنچ گیا۔ وہاں سے بھی نکلوادیا گیا پھر یہ شام پہنچا لیکن وہاں معاویہ گورنر تھے جنھوں نے اس کو وہاں سے بھی نکال دیا۔

عبد ﷲ بن سبا کو چونکہ تمام اسلام دشمن لوگوں کی پشت پناہی حاصل تھی اس لیے وہ اس کام کو چلانے کے لیے پروپیگنڈہ کرتا رہا۔ عبد ﷲ بن سبا شام سے نکالے جانے کے بعد مصر پہنچا اور وہاں کام شروع کیا اور ایک اچھی خاصی جماعت بنالی جو عثمان کے خلاف ہو گئے۔ عبد اللہ بن سباحجاز، بصرہ، کوفہ، شام، مصر میں لوگوں کو اپنے بناوٹی تقویٰ سے متاثر کر چکا تھا وہ خصوصاً ان لوگوں کی ٹوہ میں رہتاجنہوں نے موقع پرستی کے لیے اسلام کا لیبل اپنے اوپر لگا لیا تھا لیکن دراصل وہ اس کی جڑیں کاٹنے کے درپے تھے۔

جب اس نے ایسے بہت سے افراد جمع کرلیے تو اپنا منصوبہ ان کے سامنے پیش کیا جو سادہ مگر دور رس اثرات کا حامل تھا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی وہ اس کے اشارے کے منتظر رہیں۔ اس نے ایک خط تیار کیا جو ہر علاقے میں اس کے معتمدینِ خاص کو دوسرے علاقوں کے معتمدینِ خاص کی طرف سے پہنچایا گیا۔ اس میں لکھا تھا “پیارے بھائی۔ آپ خوش قسمت ہیں آپ کے علاقے میں اسلام زندہ ہے۔ گورنر دیانت دار ہے، انتظامیہ منصف مزاج ہے جبکہ میرے علاقے میں اسلام مردہ ہوچکا ہے۔ کوئی شخص اس پر عمل پیرا نہیں۔ گورنر شرابی اور عورتوں کا رسیا ہے۔ انتظامیہ بدعنوان ہے۔ بہتری کا کوئی امکان نہیں۔” اس طرح کے خطوط مسلسل مدینہ سے ہر شہر میں آئے اور اس کے معتمدین نے نمازوں کے بعد مساجد میں پڑھ کر سنائے اور اسی طرح ہر شہر سے ایسے ہی خطوط مدینہ آئے۔

پہلے پہل تو لوگوں نے کوئی توجہ نہ دی لیکن جب اس طرح کے خطوط مسلسل آنے لگے تو عوام میں ناراضی پھیلنے لگی۔ بعض نے یہ اطلاعات خلیفہ(حضرت عثمانؓ) تک بھی پہنچائیں۔ اپنے معمول کے مطابق انہوں نے فوراً کارروائی کی اور لوگوں سے مشورہ کیا کہ کیا کرنا چاہئیے۔ فیصلہ ہوا کہ مدینہ سے با اعتماد اور غیر جانبدار لوگوں کو ان علاقوں کے دورے پر بھیجا جائے جہاں کے بارے میں شکایت کی گئی ہے کہ وہ اسلام سے دور ہو گئے ہیں اوریہ لوگ خود مشاہدہ کرکے الزامات کی تحقیقات کریں۔ بظاہر یہ لوگ گروپوں کی شکل میں نہیں گئے بلکہ ہر ایک اپنے لیے مقرر علاقے کی طرف گیا۔ طبری کے مطابق تمام نمائندے اپنے مقررہ وقت پر دار الحکومت پہنچ گئے اور یہی خبر لائے کہ نامعلوم افراد کی طرف سے عاید کیے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں اور حالات بہت اچھے اور معمول کے مطابق ہیں۔

تاہم بدقسمتی سے صوبوں میں اس قسم کا کوئی انتظام نہ کیا گیا جہاں لوگ حضرت عثمانؓ کے خلاف پھیلائی جانے والی بے بنیاد کہانیوں پر مسلسل یقین کرتے رہے۔ صرف مصر جانے والے عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ واپس نہ آئے اور مصر ہی میں ٹھہر گئے۔ کچھ ہی عرصہ بعد گورنر مصر نے خلیفہ کو رپورٹ بھجوائی کہ یہاں کچھ لوگوں نے عمار رضی اللہ تعالی عنہ کو چکر دے کر ساتھ ملا لیا ہے اور ان کے ساتھ جمع ہو رہے ہیں جن میں عبد اللہ بن السودا بھی شامل ہے۔ خلیفہ نے رواداری کا مظاہرہ کیا۔

طبری نے لکھا ہے کہ “شوال 35 ہجری میں ابن سبا نے مصر سے مدینہ کا سفر اختیار کیا۔ اس کے 600 کے لگ بھگ فدائی اس کے ساتھ تھے۔ یہ شائد تاریخ اسلام کے پہلے فدائی تھے۔ اس کے بعد جب بھی مسلمانوں میں فدائیوں کا کوئی گروہ اٹھا انہوں نے مسلمان اور اسلام دونوں کو بیڑا غرق کیا۔

اپنے آپ کو ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا رکھنے لیے انہوں نے اعلان کیا کہ وہ حج کے لیے جا رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ہی بصرہ اورکوفہ سے بھی سبائی مدینہ کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ بلاشبہ یہ سب یہودی النسل نہیں تھے۔ ان میں بعض مخلص مسلمان بھی تھے جو اپنی سادگی کے باعث ان کے ہتھے چڑھ گئے تھے۔ سبائی پراپیگنڈہ کام دکھا رہا تھا اور ان سب کا مطالبہ یہ تھاکہ خلیفہ کو معزول کیا جائے جو تمام برائیوں کی جڑ ہے لیکن ان میں یہ اتفاق رائے نہیں ہو رہا تھا کہ خلیفہ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو معزول کرکے کسے ان کی جگہ لایا جائے۔ مصریوں کا مطالبہ تھاکہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو خلیفہ مقرر کیا جائے۔ بصرہ کے سبائی حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں تھے جبکہ کوفی حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ بن عوام کے حامی تھے۔

عامۃ المسلمین کی حمایت حاصل کرنے کے لیے زمین بڑی احتیاط سے ہموار کی گئی۔ جو خطوط مدینہ سے بھجوائے گئے ان پر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دستخط کیے گئے تھے۔ جن میں مصریوں سے کہا گیا تھا کہ وہ مدینہ آئیں اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو خلافت کی گدی سے اتارنے میں ان کی مدد کریں۔ دوسرے خطوط پر حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے دستخط تھے جن میں صوبوں کے لوگوں کو حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے خلاف بغاوت پر اکسایا گیا تھا۔ جبکہ بعض خطوط پر حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کے دستخط کیے گئے ۔ ظاہر ہے تمام خطوط جعلی تھے۔ جب شام اور فلسطین کے گورنر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو مشکوک افراد کے قافلوں کی مختلف مقامات سے مدینہ روانگی کی اطلاعات ملیں تو انہوں نے خلیفہ کو مطلع کرتے ہوئے استدعا کی کہ انہیں اپنے کچھ قابل اعتماد فوجی دستے دار الحکومت بھجوانے کی اجازت دے دیں مگر نرم خو حضرت عثمان نے یہ پیشکش قبول نہیں کی۔

جب مصر، بصرہ اور کوفہ سے آنے والے باغی مدینہ پہنچے تو وہ سیدھے اپنے اپنے “محبوب” لیڈروں علی رضی اللہ تعالی عنہ، طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ اور زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گئے۔ انہوں نے امہات المومنین کے پاس بھی حاضری دی۔ ان سب اصحاب نے آنے والوں (یعنی فدائی باغیوں) سے یہی سوال کیا کہ وہ اچانک ان پر کس طرح اتنے مہربان ہو گئے ہیں؟ انہوں نے خلافت کی پیشکشیں بھی ٹھکرا دیں اور انہیں اپنے گھروں سے نکال باہر کیا۔ ادھر سے مایوس ہونے کے بعد مصری باغی خلیفہ کے پاس چلے گئے اور گورنر کے خلاف شکایت پیش کی۔ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا کہ آپ لوگ اس کی جگہ کس کو گورنر لانا چاہتے ہیں؟ باغیوں نے جواب دیا “ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے صاحبزادے محمد کو۔” یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مدینہ میں ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کے ان صاحبزادے کو اچھے لفظوں میں یاد نہیں کیا جاتا تھا بلکہ انہیں فاسق کہا جاتا تھا اور حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کھلے لفظوں میں ان کے بارے میں نا پسندیدگی کا اظہار کرتی تھیں۔ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے فوری طور پر باغیوں کا مطالبہ تسلیم کیا اور نئے گورنر کی تقرری کا خط لکھ کر محمد بن ابی بکر کے حوالے کیا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ فوراً مصر پہنچیں۔

باغیوں کو ہرگز یہ توقع نہ تھی کہ ان کا یہ مطالبہ اتنی آسانی سے تسلیم کر لیا جائے گا۔ اب ان کے لیے مصر واپسی کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں رہ گیا تھا۔ پھر اس بدنام کہانی کا آغاز ہوا کہ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے خفیہ طور پر ایک ایلچی مصر بھیجا جس میں گورنر کو مبینہ طور پر ہدایت کی گئی تھی کہ نئے نامزد گورنر محمد بن ابی بکر جونہی مصر پہنچے انہیں قتل کر دیا جائے۔ مصری دستہ نے مطمئن ہوکر واپسی کا سفر اختیار کیا۔ نامزد گورنر محمد بن ابی بکر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ راستے میں ایک تیز رفتار اونٹ سوار ان کے پاس سے گزر کر آگے گیا۔ اس کا رخ مصر کی جانب تھا۔ ابھی وہ راستے میں ہی تھے کہ وہی اونٹ واپس مدینہ کی طرف جاتا نظر آیا۔ اور ایک بار پھر دیکھا گیا کہ وہی اونٹ سوار دوبارہ مصر کی جانب عازمِ سفر ہے۔ مگر کسی نے اس سے تعرض نہ کیا نہ کوئی خاص توجہ دی۔ پھر اچانک اس سوار نے قافلہ والوں پر دشنام طرازی شروع کردی۔ انہوں نے پوچھا “تم کون ہو اور کیا چاہتے ہو؟” اس نے بڑے متکبرانہ انداز میں جواب دیا “میں خلیفہ کا قاصد ہوں اور گورنر مصر کے لیے ان کا خط لے کر جا رہا ہوں۔” اور خط بھی انہیں دکھا دیا۔ متجسس ہوکر محمد بن ابی بکر نے وہ خط کھول لیا اور پڑھا جس میں مبینہ طور پر گورنر مصر کو ہدایت کی گئی تھی کہ جونہی نامزد گورنر محمد بن ابی بکر اپنا تقرر نامہ لے کر آپ کے پاس پہنچیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کے ساتھیوں کو دیگر سزائیں دی جائیں۔ یہ خط بھی ابن سبا ہی کی ایک اور جعل سازی تھی۔

سازشیوں کی توقع کے عین مطابق خط پڑھ کر محمد بن ابی بکر برافروختہ ہو گئے۔ انہوں نے فی الفور مدینہ واپسی کا سفر اختیار کیا اور دار الحکومت پہنچ کر طوفان کھڑا کر دیا اور اگرچہ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے قسم اٹھا کر انہیں یقین دلانے کی کوشش کی کہ یہ خط انہوں نے نہیں لکھا مگر محمد بن ابی بکر نہ مانے۔ مصری باغی پھر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس پہنچے اور مطالبہ کیا کہ خلیفہ کے قتل کے لیے ان کا ساتھ دیں جنہوں نے بلاوجہ ہمارے قتل کا حکم دیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے سختی سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا” آپ ہمیں کس طرح انکار کرسکتے ہیں؟ آپ ہی نے تو خط لکھ کر ہمیں بلوایا ہے۔” انہوں نے کہا “خدا کی قسم! میں نے کبھی کوئی ایسا خط نہیں لکھا۔” باغی حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا “تم مصر کے راستے سے عثمانؓ کے ایک جعلی خط کا بہانہ بنا کر واپس آ گئے ہو مگر بصرہ اور کوفہ جانے والے دستے جو اپنے اپنے ملکوں کو روانہ ہوچکے تھے وہ بھی تمہارے ساتھ ہی مدینہ واپس پہنچ چکے ہیں۔ انہیں کیسے معلوم ہوا کہ تم لوگوں کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا؟ یقیناً یہ سازش کا شاخسانہ ہے” ۔

حج کا زمانہ قریب آ رہا تھا۔ خلیفہ نے مدینہ گریژن کے فوجی دستوں کو حج پر جانے کی اجازت دے دی اور مدینہ امن و امان قائم رکھنے والی فوج سے خالی ہو گیا۔ جس کے بعد باغیوں نے خلیفہ کی رہائش گاہ کا محاصرہ کر لیا اور انہیں مسجدِ نبوی میں نمازیوں کی امامت سے روک دیا۔ غفیقی نامی ایک یمنی نے، جو ابن سبا کا نائب تھا، خلیفہ کی جگہ نمازوں کی امامت شروع کردی۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ابن سبا کی طرح وہ بھی یہودی تھا کیونکہ شہادتِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد اس نے اس قرآن کو پاؤں سے ٹھوکر ماری جسے شہادت کے وقت حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ پڑھ رہے تھے اور یہ الٹ کر خلیفہ کے گھٹنوں پر گر پڑا۔ باغیوں نے خلیفہ کی رہائش گاہ کا گیٹ جلادیا تاہم وہ اندر نہ جاسکے۔ اس پر حملہ آور محمد(بن ابو بکرؓ) کے ہمراہ پیچھے کی گلی سے ہوکر مکان کی عقبی دیوار پر چڑھ گئے اور اندر کود کر قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے خلیفہ کو شہید کرڈالا۔ انکی اہلیہ شوہر کو بچانے کی کوشش میں شدید زخمی ہوگئیں۔ ان کے ہاتھ کی انگلیاں بھی کٹ گئیں۔ باغیوں نے گھر میں لوٹ مار بھی کی۔ حملہ سے قبل محمد بن ابی بکرنے معمر خلیفہ کی داڑھی پکڑلی۔ جب خلیفہ نے انہیں شرم دلائی کہ “اگر آپ کے والد(ابوبکرؓ ) یہاں ہوتے اور آپ کو اس حالت میں دیکھتے ۔۔۔” تو انہوں نے داڑھی چھوڑ دی اور واپس چلے گئے تاہم دوسروں نے اپنا کام مکمل کر دیا۔ شومیٔ قسمت دیکھیے کہ باغیوں نے خلیفہ کے جسدِ خاکی کو جنت البقیع میں دفن کرنے سے بھی روک دیا اور کہا کہ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ یہودی ہیں (استغفراللہ) اور یہ حقیقت ہے کہ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو جس قطعہ اراضی پر دفن کیا گیا وہ ایک یہودی کی ملکیت تھی۔ بعد میں جب معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے وہ قطعہ اراضی جس میں معصوم خلیفہ کی قبر تھی خرید کر جنت البقیع میں شامل کر دیا۔

یہ شائد اسلام کے خلاف پہلی کامیاب ڈس انفارمیشن وار تھی۔ جس کے اثرات 1400 سال گزر جانے کے بعد بھی مسلمان بھگت رہے ہیں۔

مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کا یہ سلسلہ آج بھی ختم نہیں ہوا۔ مختلف نعروں اور جھنڈوں تلے ان کو ایک دوسرے کے خلاف غضب ناک کر دیا جاتا ہے۔ یہودی، عیسائی اور مشرکین ہی پشت پناہ ہوتے ہیں۔

سنا ہے ایک بار پھر ایک باغی جماعت کو اٹھایا گیا ہے؟
پشت پناہی امریکہ، انڈیا اور اسرائیل کر رہے ہیں؟
اور بظاہر وہ حق پر ہونے کے دعویدار ہیں؟

تحریر شاہدخان

نوٹ ۔۔۔ میں دیوبند گھرانے میں پیدا ہوا ہوں۔ گو کہ مسالک کو ترک کر چکا ہوں لیکن اختلافی معاملات پر زیادہ تر دیوبند کی رائے اختیار کرتا ہوں۔
رافضی اور ناصبی دونوں سے نفرت کرتا ہوں۔
یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ صحابہ کرام پیغمبروں کی طرح معصوم نہیں تھے اور ان سے غلطی ہو سکتی تھی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے باہمی اختلاف میں ایک غلطی پر ہو۔
حضرت علی (ر) والی جنگوں میں بغیر کسی شک و شبہے کے میں حضرت علی کو حق پر سمجھتا ہوں اور اس وقت کے تمام زندہ صحابہ سے ان کو افضل سمجھتا ہوں۔
یہ یقین رکھتا ہوں کہ تمام تر صحابہ جنتی ہیں۔ اور کسی بھی صحابی سے بغض رکھنا جہنم لے جا سکتا ہے!

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here