اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم کا پہلا بیان جو کہ آج بھی ریکارڈ پر ہے’یہ دیا کہ”دنیا میں ہمارا کوئی دشمن نہیں سوائے پاکستان کے”چونکہ یہودی قوم یہ اچھی طرح جانتی تھی کہ نبی آخر الزماں ۖنے یہ بشارت دیدی تھی۔ آپ ۖ نے فرمایا”میں عرب میں سے ہوں”عرب مجھ میں نہیں” میں ہند میں نہیں”ہند مجھ میں ہے۔مجھے ہند سے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آ رہی ہیں۔”

صیہونیوں کا یہ پرانا خواب ہے کہ وہ ہیکل سلیمانی تعمیر کریں اور قبلہ اول کو شہید کر دیں ۔یہ بظاہر اب تک ناممکن دکھائی دے رہا تھا لیکن اب حالات نے ایسا رخ اختیار کیا ہے جس نے اس شیطانی منصوبے کیلئے بظاہر تو راہ ہموار کر دی ہے۔

اسرائیل کے ناپاک منصوبے کا عملی آغاز 1901ء میں پہلے صیہونی بینک کے قیام سے ہوا۔ جس نے اس دور میں تیسرے درجے کی قوم یہودیوں کو قرضے دینے شروع کئے جنہوں نے فلسطین میں زرعی زمینیں خریدنی شروع کر دیں۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد عاقبت نااندیش عربوں کو بغاوت کے بدلے اپنوں سے تو آزادی ملی’ لیکن ادھوری اور نامکمل آزادی’وہ بھی محدود علاقوں تک’باقی تمام مشرق وسطیٰ اور افریقہ پر فرانس ‘برطانیہ اور اٹلی مسلط ہو گئے۔ پورے خطے کا اصل اقتدار مغربی اتحادیوں کے ہاتھوں میں تھا۔ اس عرصہ میں مغربی اقوام خصوصاً برطانیہ نے فوجی قوت کے بل بوتے پر یہودیوں کو فلسطین میں آباد کروادیا۔آہستہ آہستہ فلسطین کے عربوںسے زمینیں اور جائیدادیں چھین کر انہیں بے گھر کر دیا گیا۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران ہزاروں یہودی جرمنی سے بھاگ کر فلسطین میں آباد ہو گئے۔ 1947 ء میں اقوام متحدہ کی مدد و تعاون سے امریکہ’برطانیہ اور فرانس نے اسرائیل کی ریاست کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ 1948 ء میں یہودیوں نے امریکی اور برطانوی اسلحہ سے لیس ہو کر باقاعدہ جدوجہد کا آغاز کر دیا۔ اس صدیوں پرانی خواہش کی تکمیل کیلئے جو یہودیوں کے دلوں میں مچل رہی تھی’ یعنی عالمی صیہونی حکومت کا قیام۔۔۔۔

اس منصوبے کو یہود کی تنظیم فری میسن کے بڑوں نے 1897 ء میں آخری شکل دی تھی اور کئی برس کے مشوروں کے بعد اس دستاویز کا نام”پروٹوکولز”رکھا تھا ۔اس دستاویز کی نقل روسی پادری” پروفیسر مرجانی اے ٹاملس” کے ذریعے فری میسن کی ایک رہنما خاتون کے ہاتھ لگی اور اس نے1905 ء میں اس کو کتابی شکل میں شائع کرایا۔ اس دستاویز میں اس سازشی منصوبے کی تمام تفصیلات ہیں۔

یہودیوں کی مسلح جدوجہد کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی عربوں کو جلاوطن ہونا پڑا۔عربوں کو یہ دن ان کی عاقبت نااندیشی اور عیاشی کے باعث دیکھنا پڑا۔ آخر کار امریکہ اور برطانیہ نے مشرق وسطیٰ میں فلسطین کی سرزمین پر اپنی پٹھو اسرائیلی ریاست قائم کرنے کا خواب پورا کر دیا۔ یوں مشرق وسطی کے نقشے پر در حقیقت عربوں کے سینے پر اسرائیل کی صیہونی ریاست14 مئی1948 ء کو رات کے12 بجے قائم ہوگئی۔

اس قوم کی حکومت کا اس خطے میں586 ق- م کے بعد کوئی وجود نہ تھا۔ ڈیوڈ گوریان اس کے پہلے وزیر اعظم اور مشہور سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر وائز مین اس کے پہلے صدر بنے۔ اسرائیل کے قیام کے دو گھنٹے بعد سب سے پہلے اس کے سرپرست امریکہ نے اسے تسلیم کیا۔ دو دن بعد روس نے بھی اسے تسلیم کر لیا۔

اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم کا پہلا بیان جو کہ آج بھی ریکارڈ پر ہے’یہ دیا کہ”دنیا میں ہمارا کوئی دشمن نہیں سوائے پاکستان”چونکہ یہودی قوم یہ اچھی طرح جانتی تھی کہ نبی آخر الزماں ۖنے ہی یہ بشارت دیدی تھی۔ آپ ۖ نے فرمایا”میں عرب میں سے ہوں”عرب مجھ میں نہیں” میں ہند میں نہیں”ہند مجھ میں ہے۔مجھے ہند سے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آ رہی ہیں”

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here