اجیت کمار داؤول ہیرو یا زیرو؟

0
341

اجیت کمار داؤول ہیرو یا زیرو؟

اجیت کمار داؤول کو انڈیا میں ہیرو مانا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بطور انٹلی جنس آفیسر اسکا کیرئر کامیابیوں سے عبارت رہا۔ اس نے پاکستان میں موجود انڈین ھائی کمیشن میں بھی چند سال گزارے ہیں۔ لیکن اسکا اصل کیرئر ریٹارمنٹ کے بعد شروع ہوا۔

انڈین آئی بی سے ریٹائرمنٹ کے بعد اجیت کمار داؤول نے اپنی مکمل توجہ پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ پہ مرکوز کر لی۔ جس نے کچھ عرصے بعد نہ صرف ٹی ٹی پی کو جنم دیا بلکہ بلوچستان میں جاری دہشت گردی میں بھی نئی جان ڈالی۔

پاک فوج کی عدم موجودگی کی وجہ سے فاٹا سمیت پاکستان کے کئی علاقے بہت آسانی سے دہشت گردوں کے قبضے میں چلے گئے۔ ہزاروں پاکستانیوں کا خون بہایا گیا۔

جس کے بعد پاک فوج فاٹا سمیت پاکستان کے طول و عرض میں دہشت گردوں سے لڑنے کے لیے پھیل گئی۔

پاک فوج کا یہ پھیلاؤ درحقیقت انڈیا کی ایک اور کامیابی تھی۔ مشرقی سرحدوں پر دفاع کے لیے فوج خطرناک حد تک کم ہوچکی تھی۔ افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی درگت کو مدنظر رکھتے ہوئے انڈیا کو یقین تھا میدانی علاقوں میں لڑنے کی ماہر پاک فوج ان پیچیدہ پہاڑی وادیوں پھنس کر رہ جائیگی۔ یوں انڈیا کو اپنے برسوں پرانے خواب “کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن” کو پورا کرنے کا موقع مل جائیگا۔

ان خدمات کے صلے میں اجیت کمار داؤول کو نیشنل سیکورٹی ایڈوائرز بنا کر نریندر مودی کے بعد انڈیا کا سب سے طاقتور شخص بنا دیا گیا۔

لیکن اس کے بعد صرف چند سال کے اندر اندر سب کچھ بدل کر رہ گیا۔

پاک فوج نے ایک ایک کر کے فاٹا اور کے پی کے کے تمام علاقے دہشت گردوں سے چھڑا لیے۔ جن آپریشنز کو امریکنز اور انڈینز “مدر آف آل بیٹلز” قرار دیتے رہے وہ پاک فوج نے دنوں اور ہفتوں میں مکمل کر کے سب کو ششدر کر دیا۔

بلوچستان میں کم از کم چار عشروں بعد پہلی بار قوم پرستوں کو بدترین شکست کا سامنا ہے اور کئی کئی عشروں سے لڑنے والے سینکڑوں جنگجو سبزل ہلالی پرچم اوڑھ کر قومی دھارے میں شامل ہو رہے ہیں۔ ہربیار مری اور براہمداغ بگٹی کے پتلے بلوچستان میں جلائے جا رہے ہیں۔

کراچی کم از کم تین عشروں بعد ایم کیو ایم کی قید سے آزاد ہوا اور الطاف حسین انڈیا کا سب سے بڑا مہرہ ایک زندہ لاش میں تبدیل ہوکر رہ گیا۔

کل بھوشن کی شکل میں انڈیا تو کیا دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی انٹلی جنس گرفتاری عمل میں آئی اور سالہا سال تک ٹی ٹی پی کا ترجمان رہنے والا احسان اللہ احسان زندہ پاک فوج کے ہتھے چڑھ گیا۔ دونوں نے انڈیا کے تمام پول کھول کر رکھ دئیے۔
(خبریں یہ بھی ہیں کہ کل بھوشن اجیت کمار کا رشتے دار ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو سمجھ آتی ہےکہ اسکی بری حالت دیکھ کر کل دوبارہ ایل او سی پر حملہ کیوں کیا گیا)

گوادر اور اس کے لیے بننے والی راہداری ( سی پیک ) کو نہ روکا جا سکا۔

نواز شریف جیسے شخص کے گرد گھیرا تنگ ہوچکا ہے جس کو انڈیا نے خود اپنا اثاثہ قرار دیا تھا۔ یہی حال زرداری کا ہے۔ محمود اچکزئی، اسفند یار ولی اور فضل الرحمن جیسے انڈیا نواز سیاسی لیڈر اپنی عدم مقبولیت کے عروج پر ہیں۔

پاکستان نے چھوٹے ایٹمی ہتھیار لے جانے والے النصر میزائل بنا کر انڈیا کے ” کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن ” کو ہمیشہ کے لیے راجھستان کے صحراؤوں میں دفن کر دیا۔

مقبوضہ کشمیر میں مزاحمتی تحریک اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔

پاکستان بھر میں جیو، جنگ گروپ اور ڈان نیوز کو عام طور پر غدار سمجھا جاتا ہے۔

اور کیا رہ گیا ہے انڈیا کے پلے ؟؟

چند سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور افغانستان میں موجود دہشت گرد؟؟؟

پاکستان کے خلاف جنگ کی قیادت سنبھالنے کے بعد اجیت کمار ڈاؤول نے اپنی خون آشامی کی بدولت انڈیا کی عشروں کی محنت پر پانی پھیر دیا ہے اور انڈیا اس جنگ میں تقریباً وہ سب کچھ ہار گیا جو اس نے حاصل کیا تھا۔

ہاں اجیت کمار ڈاؤول کی گردن پر ہزاروں معصوم اور بے گناہ پاکستانیوں کا خون ضرور ہے۔ اسکو اگر انڈینز کارنامہ سمجھتے ہیں تو دنیا کا ہر دہشت گرد ہیرو ہے۔

تحریر شاہدخان

نوٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اجیت کمار ڈاؤول کو برا بھلا کہنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیں کہ موصوف خصوصی طور پر ” دلوں کے وزیراعظم ” کی نواسی کی شادی میں شرکت کرنے جاتی امراء تشریف لائے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here