اتحاد کی تسبیح پہ وحدت کی مالا جپتے رہیں

0
511

نہیں مطلب کیسے ان لوگوں کی موجودگی میں جو ایک جسم کی بنیں رگوں کی طرح متحد رہتے ہیں، ان کی موجودگی میں ہمارا دشمن سوچ بھی کیسے سکتا ہے کہ قوم کو لسانیت اور صوبائیت کی بنیاد پر تقسیم کر دے گا؟ اس مٹی کے بیٹوں بیٹیوں میں ایک صفت ایسی بھی پائی جاتی ہے کہ پکارے جانے پہ یہ مٹی میں دفن ہوں تب بھی لبیک کہنے سے باز نہیں آتے۔ اور ہم تو پھر بھی زندہ ہیں، صرف زندہ نہیں بلکہ اس مٹی کے اتحاد پر پوری جرات سے پہرے داری کرتے ہوئے مکمل ہوشیاری کے ساتھ زندہ۔
کیسے سوچ یا ہمت کر لی دشمن نے کہ قوم کو آپس میں بانٹ کر لڑا کر مروا دے گا؟

اے وہ لوگوں جو ان کے بیٹے ہو جنہوں نے فاقے کیے پیٹ پہ پتھر باندھے مگر اس وطن کی سلامتی پہ کبھی آنچ تک نہ آنے دی۔ اے وہ لڑکیوں جو ان کی بیٹیاں ہو جن کی چادروں کی قسمیں تقدیس کھا کر اپنی پاکدامنی پہ اتراتی ہے۔ اے وہ سب زی وقار بیٹوں اور بیٹیوں جنہیں جب بھی وطن پکارے وہ قبر میں بھی تڑپ کر لبیک کہہ اٹھیں آ جاؤ اور مل کے عہد کرو۔ عہد کرو کہ جب تک سانس کا رشتہ سانس سے قائم ہے کبھی دشمن کے آپس میں لڑوا دینے کے منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دو گے۔ آ جاؤ اور قسم کھاؤ کہ دشمن نے جس زہانت سے قوم کو تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ہم اس سے دوگنی زہانت کے ساتھ اسے ناکام بنائیں گے۔ آ جاؤ اور قسم کھاؤ کہ ہم اگر اپنے والدین کی حلال اولاد ہوئے تو کبھی بھی حرامی دشمن کو سبقت نہیں لینے دیں گے۔ عہد کرو سب کے سب کہ دشمن نے ہمیں جتنا تقسیم کرنے کی کوشش کی ہم اس سے زیادہ مضبوط رہیں گے۔
جان لو اور حق الیقین کے ساتھ جانے رکھو تمہارا پنجابی سندھی پشتون بلوچی ہونا خدا کی بارگاہ میں کسی کام کا نہیں ہے۔ جان لو کہ تم پنجابی سندھی بلوچی پشتون یا جو کچھ بھی ہو اس ملک کی وجہ سے ہو۔ یہ ملک ہے تو تم ہو۔ تمہارا دشمن تم پہ دانت گاڑنے کےلیے دہائیوں سے کوشش کر رہا ہے۔ تمہارا اتحاد تمہاری شہہ رگ کے تازہ لہو کی طرح ہے۔ تم نے اسے توڑا تو دشمن تمہارا سارا خون پی کر بھی چین نہیں پائے گا اور تمہاری بوٹیاں تک نوچ ڈالے گا۔ چودہ سو سال کی مسلم تاریخ میں اسلام اور مسلمان کو جب بھی نقصان پہنچا تفریق سے پہنچا۔ چاہے مذھبی تفریق ہو یا سیاسی، لسانی ہو یا نسلی اسلام اور مسلمان کا ہمیشہ خانہ خراب کیا ہے اس نے۔ ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوطی سے تھامو اور منزل کی جانب قدم بہ قدم بڑھتے چلو۔ جو اتحاد کو تقسیم کرے اسے رد کر دو۔ قائد وہ نہیں ہوتا جو ایک قوم تقسیم کرے قائد اسے کہتے ہیں جو ایک خدا ایک رسول ایک کلمے ایک کعبے پہ متفق لوگوں کو متحد رکھے۔ سب سے پہلی ترجیح اپنی صفوں میں دراڑیں پیدا کرنے والوں سے دوری اختیار کرنا بنا لو۔ اور دشمن کو یہ بتا دو کہ جب تک اس مٹی کے بیٹے اور بیٹیاں گے۔ تب تک کوئی پلید دشمن اس پاکستانی قوم کو تقسیم نہیں کر سکتا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here