اب ملاؤوں کا پیچھا چھوڑ کر دوبارہ لبرلز کی طرف آتے ہیں۔

0
227

بیکن ھاؤس پبلک سکول کے خلاف مہم کا دوسرا فیز ۔۔۔۔۔

اب ملاؤوں کا پیچھا چھوڑ کر دوبارہ لبرلز کی طرف آتے ہیں۔
خبر ہے کہ دی سٹی سکول نے لڑکیوں کو سکرٹ پہن کر آنے کا حکم دیا ہے۔
دی سٹی سکول بھی بیکن ھاؤس خاندان کی ہی ملکیت ہے۔

چند دن پہلے سندھ میں باقاعدہ والدین نے ایک پرائیویٹ سکول کے خلاف احتجاج کیا جہاں نہ صرف بچیوں کو زبردستی جنسی تعلیم دی جانے لگی تھی بلکہ ایک غیر مسلم کی لکھی ہوئی دینیات کی کتاب کو ایک غیر مسلم پڑھا بھی رہا تھا۔

مبینہ طور پر داؤود پبلک سکول نامی اس پرائیوٹ سکول میں مذکورہ کلاس میں حضورﷺ کی گیارہ شادیوں کا تذکرہ ایسے انداز میں کیا جاتا تھا جس سے آپ کے خلاف دلوں میں غلیظ وسوسے پیدا ہوں۔

میں نے اس کے خلاف پیج پر پوسٹ لگائی تو ایک موصوفہ نے مدارس میں ہم جنس پرستی کی تصاویر کمنٹ میں لگائیں کہ دیکھیں مدارس میں کیا ہو رہا ہے۔

میں نے عرض کی کہ بہت فرق ہے۔ مدراس میں یہ اگر ہوتا بھی ہے تو چھپ کر کیا جاتا ہے لیکن پرائیویٹ سکولوں میں باقاعدہ اس کی تعلیم دی جارہی ہے۔

فیصلہ کیا ہے کہ پرائیویٹ سکولوں کی اس خوفناک مافیا کے خلاف مہم کا دوسرا مرحلہ شروع کیا جائے۔

اس مرحلے میں ان سکولوں میں پڑھائے جانے والے قابل اعتراض مواد
قابل اعتراض سرگرمیوں،
ظالمانہ فیسوں
وغیرہ جیسے معاملات سے متعلق مواد جمع کر کے پبلش کیا جائیگا۔

میں ان شاءاللہ خود ان تمام پیجز اور گروپس کو مانیٹر کرونگا۔

جو جو بھی ساتھ دینا چاہیں ان میں کام تقسیم کیا جائیگا۔

میں کام کی منصوبہ بندی کرتا ہوں۔

اس کو جہاد سمجھ کر اس کا حصہ بنئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here