ابابیل ۔۔۔۔ ( نظر کا پردہ )

0
1161

ابابیل ۔۔۔۔ ( نظر کا پردہ )

سنا ہے سویڈن میں اگر کوئی عورت شکایت کر دے کہ فلاں مرد مجھے گھور رہا ہے تو محض اس عورت کی گواہی پر مذکورہ مرد کو تین ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ 

قرآن میں عورت کو جسم ڈھانپنے کا حکم ہے لیکن مرد کو نظریں نیچی رکھنے کا۔ مرد نظر نیچی نہ کرے تو دنیا کا کوئی پردہ عورت کو مرد کی نظروں سے بچا نہیں سکتا۔ 

ہمارے معاشروں میں پردے پر تو بات کی جاتی ہے لیکن ” نظریں نیچے” رکھنے پر نہیں۔ اور اس حوالے سے کسی قانون سازی کا تو شائد کسی کو خیال بھی نہ آیا ہو۔

ابابیل تحریک نظریں نیچی نہ کرنے پر اتنی ہی سزا کا مطالبہ کرے گی جتنی پردہ نہ کرنے پر۔ اور اس کے لیے خاتون کی گواہی کافی مانی جائیگی۔

نہ صرف یہ بلکہ ایسی گزرگاہوں پر جہاں سے خواتین کے گزرنے کا احتمال ہو مردوں کا جھمگٹے کی شکل میں بیٹھنا بھی جرم قرار پائیگا۔

اب ایک ضمنی موضوع ۔۔۔۔۔۔۔

آپ ذرا غور فرمائے اسلام ان معاملات میں عورت پر مرد کی نسبت زیادہ بھروسہ کرتا ہے۔

یعنی عورت کو جسم ڈھانپنے کا کہتا لیکن مرد کو نظریں نیچی رکھنے کا کہ مرد عورت کی نسبت زیادہ فتنہ ساز ہے۔

یہی حال خوشبو لگانے کے حکم میں بھی ہے۔

عورت کو خوشبو لگا کر باہر نے سے منع کیا ہے لیکن مرد کو نہیں۔

عورت کی خوشبو مرد محسوس کرے تو مرد فتنہ پیدا کر سکتا ہے لیکن اگر عورت یہ محسوس کرے تو اسکی فطرت میں موجود حیاء اور کمزوری اس کو فتنہ پیدا کرنے سے روک سکتی ہے۔

یعنی دونوں معاملات میں اسلام فتنے کا احتمال مرد سے کرتا ہے اور عورت پر بھروسہ کرتا ہے۔

جاہل قسم کے لبرلز اس کو عورت پر پابندی قرار دیتے ہیں۔ الو کے پٹھے ۔۔ !

تحریر شاہدخان

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here