آپ نے خبر سنی ہوگی کہ پاکستان کی نیوی نے ایک انڈین آبدوز کو پاکستان کی سمندری حدود میں داخل ہوتے ہوئے ڈیٹکٹ کرلیا

0
126

انڈین بحری آبدوز کی کہانی
ایک اور سرپرائز؟ 🙂

آپ نے خبر سنی ہوگی کہ پاکستان کی نیوی نے ایک انڈین آبدوز
کو پاکستان کی سمندری حدود میں داخل ہوتے ہوئے ڈیٹکٹ کرلیا ؟؟؟

عین اسی وقت جب انڈیا پاکستان کو سرپرائز دینے کی کوشش
کر رہا تھا۔ 

رات کے تقریباً نو بجے اس آبدوز کو نہ صرف ڈیٹکٹ کیا گیا
بلکہ اس کی وڈیو بھی بنا کر پاکستان نے وائرل کر دی۔

کسی بھی آبدوز کا اس طرح ڈیٹکٹ ہونا اس کو دشمن کے لیے
ہمیشہ کے لیے ناکارہ بنا دیتا ہے کیونکہ دشمن اس کے

” فنگر پرنٹس”

اور دیگر بہت سی چیزیں لے لیتا ہے جس کے بعد اس کو دوبارہ سمندر کے کسی بھی حصے میں باآسانی شناخت کیا جا سکتا ہے۔

آبدوزیں تین اہم کام سرانجام دیتی ہیں۔

جاسوسی کرنا

کمانڈوز اور دیگر اہم ایسٹس کو دشمن کی سمندری حدود میں پہنچانا

اور میزائل حملہ کرنا۔

یہ آبدوز ممکنہ طور پر میرائلز سے لیس آبدوز تھی اور اس
کے ذریعے غالباً کراچی میں کسی ٹارگٹ کو نشانہ بنانا مقصود تھا۔

یا پھر اس کا دوسرا ٹاسک یہ ہوتا کہ پاکستان کی سمندری حدود میں چھپ کر پاکستانی جہازوں اور بحریہ کی نقل و حرکت کو نوٹ کرتی اور جنگی پلان تیار کرنے کے لیے انڈیا کو مطلوبہ معلومات فراہم کرتی۔

ہماری نیوی کی اس کامیابی کے بعد کم از کم یہ
آبدوز پاکستان کے خلاف ہمیشہ کے لیے ناکارہ ہوچکی ہے ۔

انڈیا کے پاس کل پانچ سٹرائیک ابدوزیں ہیں۔

ہر ایک کی قیمت 500 ملین ڈالر سے اوپر ہوتی ہے۔

یہ ان میں سے ایک تھی۔

پاکستان چاہتا تو اس انڈین آبدوز کو پاکستان کی سمندری حدود میں داخل ہونے دیتا اور پاکستان کے پاس موجود اے ایس ڈبلیو ائر کرافٹ اس کو ایک منٹ میں ختم کر دیتا۔

یا انڈیا کو مزید بے عزت کرنا ہوتا تو اس کو سطح سمندر پر آنے پر مجبور کر دیتا۔

امن کے خواہاں پاکستان نے تاہم اس کو صرف واپس گہرے پانیوں کی جانب بھاگنے پر مجبور کردیا تاکہ جنگ مزید نہ بڑھے۔

انڈین نیوی نے اناڑی پن کا شاندار مظاہرہ کیا۔ یہ انڈیا کا
وہ نقصان ہوا ہے جو وہ کسی کو بتا بھی نہیں سکتا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here