آپ بتائیے فحاشی اور بے حیائی کے اس طوفان کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟

0
506

فحاشی کے خلاف سفارشات ۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے خیال میں تین پہلوؤں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

الف ۔۔۔۔۔ اسباب کا خاتمہ

۔ 1۔ چونکہ پیمرا کی آنکھوں پر پیمپر بندھے ہوئے ہیں اس لیے میڈیا پر فحاشی کے خلاف چاروں مسالک کے علماء پر مشتمل ایک الگ کمیٹی بنائی جائے جو میڈیا پر پیش کیے جانے والے کسی بھی پروگرام کے خلاف ” فحش ” یا ” معیوب ” ہونے کی شکایات سنے اور موقعے پر ہی ویڈیو دیکھ کر فیصلہ جاری کرے کہ پروگرام کو چلنا چاہئے یا بند کیا جانا چاہئے۔ ان کے فیصلے کے خلاف کہیں بھی اپیل کی گنجائش نہ ہو

۔ 2۔ صرف پورن ویب سائیٹس ہی بلاک نہ کی جائیں بلکہ پراکسی ایپس اور ویب سائٹس پر بھی بین لگایا جائے اور ایسا لنک فراہم کرنے والے کو مناسب معاوضہ دیا جائے جو بین ہونے سے رہ گیا ہو یا نیا مارکیٹ میں لانچ ہوا ہو

۔ 3۔ کال، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ کے ہر قسم کے پیکچز پر پابندی لگائے جائے بشمول مفت وٹس ایپ اور فیس بک کے۔ سوائے ان کے جو انٹرنیٹ کو کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کو بھی لائسنس کا محتاج بنایا جائے

۔ 4۔ پرائمری سے لے کر یونیورسٹی تک ہر قسم کی مخلوط تعلیم پر پابندی عائد کی جائے

۔ 5۔ نکاح کو آسان کیا جائے۔ اس کے لیے الگ سے کچھ اقدامات کرنے ہونگے جو لکھ کر مضمون لمبا نہیں کرنا چاہتا

۔ 6۔ عورتوں کے لیے ہر شہر میں الگ تھلگ پارک بنائے جائیں جہاں دس سال کے لڑکے کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہ ہو۔ ایسے ایک دو پارک پشاور میں موجود ہیں

۔ 7۔ غیر ملکی ڈراموں، فلموں اور اشتہارات پر بین لگایا جائے۔ سوائے معلوماتی پروگراموں کے

۔ 8۔ پسند کی شادی کے نام پر بھاگ کر کی جانے والی شادیوں پر پابندی عائد کی جائے۔

ب ۔۔۔۔۔۔۔ تربیت

۔ 1۔ علماء کو پابند کیا جائے کہ وہ جتنی ترغیب عورتوں کے پردے کی دیتے ہیں اتنی ہی مردوں کو نظریں نیچی رکھنے کی بھی دیں۔ شائد قرآن میں دونوں کا ذکر ہوا ہے تب صرف ایک پر ہی اصرار کیوں؟

۔ 2۔ تعلیمی اداروں میں جنسی تعلیم دینے کے بجائے حیاء، شرم اور غیرت جیسے موضوعات پر درس دیا جائے

۔ 3۔ نجی چینلز کو سرکاری اشتہارات بہترین، صاف ستھرے اور سبق آموز پروگرام پیش کرنے پر بطور انعام دئیے جائیں۔

ج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سزا

۔ 1۔ جو شخص کسی عورت پر کھل کر یا ڈھکے چھپے الفاظ میں بہتان لگائے اور چار گواہ پیش نہ کرسکے اس بندے کو 80 کوڑے مارے جائیں

۔ 2۔ غیر شادی شدہ مرد یا عورت کا زنا چار گواہوں کے ساتھ ثابت ہو تو 30 کوڑے اگر شادی شدہ ہوں تو سزائے موت

۔ 3۔ کوئی خاتوں کسی مرد کے بارے میں گواہی دے کہ اس نے تنگ کیا ہے یا گھورا ہے تو اس عورت کی گواہی کو فوری طور پر قبول کرتے ہوئے مزکورہ مرد کو قید یا کوڑوں کی سزا دی جائے

۔ 4۔ پولیس کے پاس اختیار ہو کہ کسی جوڑے سے ان کے رشتے کے بارے میں ثبوت طلب کر سکے۔ اگر وہ ثبوت نہ دے سکیں یا ملاقات کا کوئی مناسب جواز پیش نہ کر سکیں تو مرد کو سزا دی جائے

۔ 5۔ فیشن کے نام پر بے حیائی کی طرف جاری سفر کو روکا جائے۔ اس کے لیے میری تجویز یہ ہے کہ ہر مسجد کے امام کو ایک علاقہ سونپا جائے جہاں وہ کپڑوں کی دکانوں اور درزیوں کے خواتین کے لیے سلے ہوئے لباس دیکھ سکے۔ اگر اس کو کوئی لباس قابل اعتراض نظر آئے تو دکاندار کو روکے اگر وہ نہ رکے تو پولیس کو اطلاع کرے جو اس دکان کو بند یا جرمانہ کرے۔
اس کام کے عوض امام کو حکومت ماہانہ معاؤضہ دے۔

میری ذاتی رائے میں عورت میں اللہ نے حیاء کی صفت رکھی ہے چاہے وہ جتنی بھی ماڈرن ہوجائے۔ عورت کے چھوٹے لباس خود نمائی سے زیادہ دوسری عورت سے مقابلے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اور عورت کے چھوٹے لباس کا اصل ذمہ دار بھی مرد ہی ہے۔

یہ تو ہوگئی میری راکٹ سائنس ۔۔۔۔۔۔۔ 🙂

اب آپ بتائیے فحاشی اور بے حیائی کے اس طوفان کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here