آزاد کشمیر میں موجود سرخوں کے نام

0
122

فاٹا اور پنجاب کی طرح آزاد کشمیر میں بھی کمیونسٹ سرخے اپنے پنجے گاڑنے کی کوششوں میں ہے اور عین اس وقت جب پوری دنیا کے کشمیری انڈیا کے مظالم کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں یہ احسان فراموش اور محسن کش سرخے پاکستان کے خلاف کشمیریوں کو ورغلانے میں مصروف ہیں۔

یہ خود تو لاعلاج مخلوق ہیں تاہم ان کے پراپگینڈا سے متاثر ہونے والوں کی خدمت میں کچھ حقائق پیش کرتا ہوں۔

محسن کش سرخے پاکستان کے خلاف کشمیریوں کو ورغلانے میں مصروف

تقسیم کے فوراً بعد کشمیر میں مسلم کش فسادات پھوٹ پڑے تھے۔
ہندو، سکھ اور ہری سنگھ کی فوج نے کم و بیش دو لاکھ کشمیریوں کو قتل عام کیا تھا
۔

اس قتل عام کو روکنے کے لیے پوری دنیا میں صرف پاکستان نامی نوازائیدہ ملک آگے بڑھا اور جنگ کر کے آدھے سے زیادہ کشمیر کو آزاد کرایا۔
یہاں پر پاک فوج کی کمانڈ ابھی انگریز نے پاکستان کو منتقل نہیں کی تھی اور انگریز جنرل گریسی نے قائداعظم کا کشمیری مسلمانوں کی مدد کرنے کا حکم نہیں مانا تو برگیڈئر اکبر خان نے قائداعظم کی اجازت سے چھٹی لی،
اور مری میں کیمپ لگایا،
تین ہزار پاک فوج کے جوانوں کو چھٹی دلائی گئی جو سادہ لباسوں میں مری پہنچے،
اور کشمیر میں پہلے سے جاری مزاحمت کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا گیا،
ساتھ ہی وزیراعلی کے پی کے کے ساتھ ملکر فاٹا سے قبائیلیوں کا لشکر تیار کر کے انہیں بھی کشمیر بھیجا گیا۔
ان سب نے ملکر وہ علاقے آزاد کرائے جو آج بھی آزاد ہیں۔
پھر انڈیا کی باقاعدہ فورسز آئیں تو قبائیلیوں اور مقامی مزاحمت کاروں کو پیچھے ہٹنا پڑا اور فتح کیے گیے علاقے ایک ایک کر کے ان کے ہاتھ سے نکلنے لگے۔
تب تک پاک فوج کی کمانڈ انگریز سے لی جاچکی تھی۔
پاک فوج پہنچی اور انڈین فورسز کی پیش قدمی روک دی۔
وہی پاک فوج جس کے خلاف سرخے آج آزاد کشمیر میں نعرے لگوا رہے ہیں
۔

پاکستان نے دوسری کوشش آپریشن جبرالٹر کی صورت میں کی اور جس کے نتیجے میں انڈیا نے پاکستان پر حملہ کر دیا اور پاکستان پینسٹھ کی جنگ لڑنی پڑی۔

کشمیر میں مداخلت یا کشمیر کو آزاد کرانے کی کوشش کا بدلہ انڈیا نے پاکستان سے بنگلہ دیش کی صورت میں لیا۔ اکتہر میں سازش کر کے پاکستان سے بنگلہ دیش کو الگ کر دیا۔

اس کے بعد بھی پاکستان کارگل اور سیاچن سمیت کئی چھوٹی بڑی جنگیں لڑیں۔

پاکستان کے کشمیر پر موقف کی وجہ سے انڈیا نے افغانستان کے ساتھ ملکر پاکستان کے اندر پراکسی جنگوں کا جال پھیلا دیا۔
ان انڈین سپانسرڈ پراکسی جنگوں یا دہشت گردی کی نتیجے میں اب تک پچاس ہزار پاکستانی اپنی جانیں دے چکے ہیں،
چالیس لاکھ کے قریب پاکستانی آئی ڈی پیز بنے،
اور پاکستان ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا نقصان کرچکا ہے
۔

آج بھی پاکستان میں پندرہ لاکھ سے زائد کشمیری پاکستان کے مختلف علاقوں میں پناہ گزین ہیں جو اس وقت ہندو کے مظالم سے بھاگے تھے۔ یاد رکھیں آزاد کشمیر کی کل آبادی چالیس لاکھ ہے۔

آزاد کشمیر پورے پاکستان سے زیادہ پرسکون اور پرامن علاقہ ہے۔
آج تک وہاں کسی فوجی کے ہاتھوں نہ کسی کا قتل ہوا ہے نہ کسی عورت کی عزت لٹی ہے
۔

آزاد کشمیر کے لوگ پورے پاکستان سے زیادہ آسودہ زندگیاں گزارتے ہیں۔

پاکستان کی کوئی مسجد ایسی نہیں ہوگی جس میں کشمیر کی آزادی کی دعا نہ مانگی جاتی ہو، کوئی ایسا قومی دن نہیں ہوتا جس میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی نہ کیا جاتا ہو۔ پاکستان کا سربراہ کوئی ایسا دورہ نہیں کرتا جس میں کشمیریوں کی بات نہ کرے۔

پاکستان نے کشمیریوں کے لیے خود سے پانچ گنا بڑے انڈیا سے چار جنگیں لڑی ہیں اور آج بھی لڑ رہا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں دس لاکھ کے قریب بھارتی سیکیورٹی فورسز آزاد کشمیر میں ایک انچ داخل نہیں ہوسکتیں تو اس کی وجہ ایل او سی پر موجود پاک فوج ہے
۔

آج آزاد کشمیر میں موجود کمیونسٹ سرخے اور اسی فوج کو نکلوانا چاہتے ہیں اور اس پاکستان کے خلاف نعرے لگوا رہے ہیں جو ستر سال کشمیریوں کے لیے لڑ رہا ہے اور پوری دنیا میں کشمریوں کا اکلوتا سہارا ہے۔

نوٹ ۔۔ سارے کمیونسٹ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کے تحت کام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو سہارا بھی دیتے ہیں۔
پی ٹی ایم پاک فوج کو فاٹا سے نکلوانا چاہتی ہے تاکہ افغانستان میں موجود داعش دوبارہ اس خطے پر یلغار کر سکے۔
جب کہ آزاد کشمیر کے سرخے آزاد کشمیر سے پاک فوج کا انخلاء چاہتے ہیں تاکہ انڈین فورسز پیش قدمی کر کے اس خطے کو بھی جہنم بنا سکیں۔
آپ نوٹ کیجیے پی ٹی ایم کے تمام بڑے اکاؤنٹس آزاد کشمیر میں سرخوں کے پاکستان کے خلاف ریلیوں کی تصاویر تو شیر کر رہے ہیں لیکن مقبوضہ کشمیر میں انڈین مظالم کے خلاف آپ کو کوئی ایک پوسٹ نہیں ملے گی
۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here