وہ کیا چیز ؟؟؟

وہ پہلی بار 2009ء میں تب ٹی ٹی پی کے خلاف سوشل میڈیا پر ایکٹیو ہوا

جب ٹی ٹی پی نے پنڈی کی مسجد میں نماز پڑھنے والے چالیس فوجیوں بشمول ایک جنرل کو شہید کیا۔ اسی مسجد میں ٹی ٹی پی نے نو اور گیارہ سال کے دو بچوں کو زمین پر لٹا کر ان کے سروں میں گولیاں اتاریں۔

۔ 2011ء کے اوائل میں شاید خان بلاگر نے باقاعدہ لکھنا شروع کیا۔ گو کہ شاہد خان بلاگر زیادہ پڑھا لکھا نہ ہونے کے باوجوف ایک بہترین بلاگر ہے اسپیشلی دلیل دینا، جواز پیش کرنا اور سوال کرنا اسے بخوبی آتا ہے۔

اس نے اس وقت کے پاپولر بیانیے کو نشانہ بنانا شروع کیا۔
پاک فوج کو کرائے کی فوج اور پاکستان کو امریکی پٹھو ریاست قرار دیا جاتا تھا۔

اس نے پاک فوج کو دور جدید کے حقیقی مجاہدین اور پاکستان کو اسلام کا قلعہ قرار دیتے ہوئے اس کے حق میں دلائل لکھنے شروع کیے۔

یہ اس وقت دعوی کیا کرتا تھا کہ پاک فوج امریکی اتحادی نہیں ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے، تو اس وقت شاہد خان بلاگر پر تنقید ہوتی تھی کہ شاہد خان بلاگر خوابوں کی دنیا میں رہتا ہو۔

ٹی ٹی پی اور لال مسجد والوں کو خوارج اور دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان کو افغان طالبان سے الگ قراردیا اور دعوی کیا کہ امریکہ کے نام پر پاکستان پر حملے کرنے والے یہ لوگ درحقیقت امریکی پیرول پر ہیں۔

شاید خان بلاگر کو زبردست دھمکیاں ملیں، شاہد خان کا سر توڑنے کی کوشش کی گئی جو نہ ٹوٹ سکا۔ ٹانکے ضرور لگے۔ 

🙂 مرتے مرتے بچا۔ فاٹا سے بھاگ کر سندھ اور پھر پنجاب چلہ گیا۔

لیکن کام جاری رکھا۔

شاہد خان کو سال 2011ء میں ہی کچھ بہت اچھے مخلص ساتھی مل گئے۔
ہر ایک اپنی مثال آپ اور ایک سے بڑھ کر ایک۔

تب شاہد نے کچھ مطالعہ کر کے مزید اس بیانیے کو رد کرنا شروع کیا جس کے بل پر پاکستان اور پاکستان کی سلامتی پر حملے کیے جاتے ہیں۔

شاہد نے جمہوریت کو نشانہ بنانا شروع کیا۔
جمہوریت کی علامت بھٹو کو نشانہ بنایا اور کھول کر اس کی حقیقت بیان کی۔

پاک فوج پر لگے مشہور الزمات بشمول سقوط ڈھاکہ، پاک فوج کا بجٹ اور افغان جہاد پر پہلی بار پاپولر بیانیے کے برعکس لکھا۔

جنرل ضیاء کے خلاف کیے جانے والے پراپگینڈے کا شائد پہلی بار جواب اس نے دیا اور اس کی افغان جہاد، خانہ کعبہ کی صفائی، اردن میں فلسطینیوں کی مدد اور کرکٹ ڈپلومیسی پر لکھا۔ وہ مضامین آج تک کسی نہ کسی شکل میں گردش میں رہتے ہیں۔

مشرف اور ایوب خان کے حق میں لکھا۔

افتخار چودھری کو نوسر باز اور ریاست کا دشمن قرار دے کر لکھا جو اس وقت شہرت کی بلندیوں پر تھا۔
اس پر بہت سے ساتھیوں کی تنقید سہی۔ لیکن شاہد کی رائے درست ثابت ہوئی۔

۔ 2012ء میں الحاد کے خلاف کام شروع کیا۔ نہ صرف یہ بلکہ بھاگ دوڑ کر کے ملحدین کو ٹریس کرنے کی بھی کوششیں کیں۔

راؤلا کوٹ کا رفعت عزیز نامی گستاخ ہمارے ساتھیوں کے ہاتھ لگا۔

زوہیب زیبی سمیت اس میں بہت اچھے لوگوں سے دوستی ہوئی۔ ایک گروپ تشکیل دیا گیا۔ اس کا پہلا نام بھول گیا ہے۔ بعد میں اس گروپ کا نام آپریشن ارتقائے فہم و دانش رکھا گیا۔ پھر دوبارہ تبدیل کر کے کچھ اور رکھ لیا گیا

ماشاءاللہ شاہد کو اس بات پر فخر ہے اور اللہ کا شکر گزار ہے کہ شاہد کے ہاتھ پر الحاد کے اس ریلے میں مرتد ہونے والوں تین لوگوں نے دوبارہ اسلام قبول کیا جس میں ایک لڑکی بھی شامل تھی۔

۔ 2013 میں عافیہ پر لکھا اور اسکی ڈارمے بازیوں اور حرکتوں کی تفصیل اور یہ بھی کہ اس کو امریکہ کے حوالے کرنے والے درحقیقت کون تھے اس پر بھی شدید اختلافات کا سامنا کیا۔

اس سارے عرصے میں جم کر ن لیگ اور پی پی پی کے خلاف لکھتا رہا۔

خاص طور پر ن لیگ جو ابھی اقتدار میں نہیں آئی تھی۔ اس پر بھی زبردست تنقید کا سامنا رہا۔

پی پی پی پر اس نے دلایل کے ساتھ لکھا کہ دہشت گردی کی حقیقی خالق پی پی پی ہے۔

شاہد نے دعوی کیا تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں دراصل ایک بہت بڑی مافیا ہیں اور اندر سے ایک ہیں۔ نعرے اس لیے الگ الگ لگاتے ہیں کہ عوام کے ہر طبقے سے ووٹ لے سکیں۔ سوائے عمران خان کے۔

آپریشن ضرب عضب اور راحیل شریف کے حق میں خوب ڈٹ کر لکھا۔

شاہد نے لکھا تھا کہ راحیل شریف نے اپنے خاندان کے دونوں شہداء راجا عزیز بھٹی اور میجر شبیر شریف شہید سے زیادہ بڑا احسان کیا ہے اس قوم پر۔
۔ 2014ء سے 2016ء تک زیادہ تر سیاسی دور رہا۔ دہشت گردوں کا زور ٹوٹ گیا۔

اسی دوران شاہد نے اس پر زور دیا کہ عدالت ریاست کے خلاف جنگ کرتی نظر آرہی ہے۔

اس پر بھی زور دیا کہ ملالہ اور ملحد ایک پیج پر ہیں۔
ملالہ کو پوری دنیا نے ہیرو کہا شاہد نے اس کی اصلیت بیان کی اور دعوی کہ ملالہ اور دہشت گردوں کی کمانڈ کرنے والے ایک ہی تھے اور یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ملالہ کو دیکھ کر غداروں کی نئی کھیپ جنم لے گی۔

آپریشن ضرب عضب کے دوران شاہد نے مضمون لکھا تھا کہ وزیرستان کے لوگ اس وقت اگر کیمپوں میں ہیں تو یہ ریاست کے ہاتھوں میں ہیں۔ ان کے نماز پڑھانے والے مولوی، ان کے کمیمپوں میں لگائے گئے ٹی وی اور ان کے بچوں کو سبق پڑھانے والے اتالیق حکومت چاہے تو ان کی ذہن سازی کر سکتی ہے تاکہ یہ دوبارہ دہشت گردی کی طرف نہ جائیں۔
نیز اس آپریشن کے دوران ان کو تمام سہولیات فراہم کر کے ان کے دل جیت سکتی ہے۔

لیکن اس وقت نواز شریف حکومت نے اکیسویں آئینی ترمیم کے بعد دہشت گردی کے حوالے طے کیے گئے سترہ اقدامات میں سے کوئی ایک بھی نہیں کیا۔ حتی کہ آئی ڈی پیز کے لیے منظور کیے گئے فنڈز بھی روک لیے۔

شاہد نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس کے نتائج شائد بھگتنے پڑ جائیں۔

آپریشن ضرب عضب کے بعد پشتون قوم پرستی کا شوشا چھوڑا گیا۔

افغانیوں نے بھرپور کام کیا۔ عمر داؤود خٹک اورخوست سے آپریٹ ہونے والے کچھ جعلی اکاؤنٹس نے آزاد قبائل کے نام سے پہلی بار پشتونوں کے اکسانے کی کوشش کی۔
وہ ناکام رہے تو نقیب اللہ کے قتل کے بعد پی ٹی ایم لانچ کی گئی۔

چند ساتھیوں کے اصرار پر اس کے خلاف ہلکا پھلکا لکھا تو شاید کو پنجابی ایجنٹ کا خطاب ملا۔

تب اس نے جم کر پی ٹی ایم اور افغان نیکسز پر لکھنا شروع کیا۔

منظور کے الزمات نما مطالبات کا جواب لکھنا شروع کیا۔
شاہد نے پہلی بار وبسٹر تھارپلے کی ویڈیو وائرل کی جس نے 2009ء میں پی ٹی ایم کے قیام کی پیشن گوئی کی تھی۔

شاہد نے لکھا تھا کہ اگر ان کو نہ روکا گیا تو یہ ایک دن فوجیوں کے گریبانوں میں ہاتھ ڈالیں گےاور فوج نے جوابی کاروائی کی تو اپنی مظلومیت کا ڈھونڈورا پوری دنیا میں پٹیں گے۔

تمام تر تنقید کے باؤجود شاہد پی ٹی ایم کے حوالے سے اندیشے درست ثابت ہونے لگے۔

شاہد کو پھر نئے ساتھی مل گئے۔ اس بار سارے پشتون۔

شاہد نے افغانیوں اور افغانستان کے دعوؤں، نعروں اور خوش فہمیوں کا جواب لکھا۔ وہ سارا کچھ جو مطالعہ پاکستان کا حصہ ہونا چاہئے تھا اور جو ہمیں پڑھایا جانا چاہئے تھا۔

اللہ کا شکر ہے کہ پی ٹی ایم صرف افغانیوں اور چند مفاد پرستوں تک محدود ہوکر رہ گئی۔

آج یہ حالت ہے کہ ان کا مقبول ترین لیڈر منظور پکڑا گیا اور پورے پاکستان میں کھینچ تان کر چھ سات شہروں میں یہ صرف کل دو تین سو بندے ہی نکال سکے۔

چند دن پہلے شاید نے لکھا کہ شہیر سیالوی ٹی ایل پی کو ہائی جیک کر رہا ہے اور بریلوی مسلک کو افواج پاکستان اور ریاست کے خلاف کر رہا ہے۔

اور یہ کہ ٹی ایل پی کا سوشل میڈیا ونگ بیک وقت گستاخان رسول، سرخوں اور خوارج کا بیانیہ بریلوی مسلک میں پروموٹ کر رہا ہے۔ ہمیشہ کی طرح اس پر بھی فتوے، تند و تیز تنقید اور گالیوں کا نشانہ بنا۔

یہ شاہد خان ہے۔
پٹھان خون ہے۔

تھکنا اور ہارنا نہیں جانتا۔
تم سب کے دماغ درست نہ کیے تو کہنا۔

یہ شاہد خان بلاگر کا چیلنج ہے تم سب کو۔ 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here