آج پاک فوج نے اسد درانی کو کتاب کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے جی ایچ کیو طلب کیا۔

تاہم اسد درانی فوج کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے جس کے بعد ان کے خلاف ایک حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل کی سربراہی میں ’فارمل کورٹ آف انکوائری‘ کا حکم دے دیا گیا ہے۔ فارمل کورٹ آف انکوائری میں تحقیقات کے بعد اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ آیا اس فرد کا کورٹ مارشل کیا جائے یا نہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ پاک فوج نے اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی درخواست کی ہے۔ ادھر وازتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

ریٹائرڈ جنرل اسد درانی کے کتاب کے حوالے سے حامد میر کا ایک دلچسپ تبصرہ پڑھنے کو ملا سوچا آپ سے بھی شیر کردوں ۔۔۔۔۔۔۔۔

” میری ناقص رائے میں اسد درانی نے ادتیا سنہا کی کتاب میں کوئی راز افشا کیا نہ کوئی انکشاف کیا۔ اُنہوں نے کچھ معاملات پر سنی سنائی باتوں کو انکشاف کے رنگ میں پیش کر دیا۔” ۔۔۔ حامد میر

” ۔ 2015ء میں اسی قسم کا دعویٰ امریکی صحافی سیمور ہرش نے بھی کیا تھا تو امریکی حکومت نے وضاحت کی تھی کہ پاکستان کے کسی ادارے کو اُسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کا پیشگی علم نہ تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے بھی 2015ء میں سیمور ہرش کے دعوے کی نفی کر دی تھی۔ آج اسد درانی بھارتی میڈیا میں پاکستان کے خلاف ایک گواہ بنے ہوئے ہیں اور اُن کے مقابلے پر حسین حقانی بڑے معصوم نظر آتے ہیں۔” ۔۔ حامد میر

“جنرل اسد درانی نے سنی سنائی باتیں اپنی کتاب میں لکھی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے خفیہ اداروں کے سربراہوں کا آپس میں ملنا جلنا اور مشترکہ کتاب لکھنا قابلِ اعتراض نہیں ہے۔ اعتراض کی بات یہ ہے کہ سستی شہرت کے لئے جنرل اسد درانی صاحب نے ایسے واقعات پر سنی سنائی باتوں کو انکشاف کا رنگ دیدیا جو اُن کی فوجی ملازمت کے بعد رونما ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں حریت کانفرنس پاکستان نے بنوائی۔ درانی صاحب 1991ء میں آئی ایس آئی سے فارغ ہو گئے تھے جب کہ حریت کانفرنس 1993ء میں بنی تھی۔تاہم ان تمام باتوں کے بعد اب جنرل اسد درانی کو جی ایچ کیو میں طلب کر لیا گیا ہے۔ اسد درانی صرف آئی ایس آئی نہیں بلکہ ملٹری ایجنسی کے بھی سربراہ رہے ہیں۔جنرل اسد درانی کی طرف سے جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنا انتہائی قابل مذمت ہے۔” ۔۔ حامد میر

حامد میر فوج مخالف صحافیوں میں سے ایک ہیں۔ لیکن وہ بھی اس معاملے میں اسد درانی کو جھوٹا کہہ رہے ہیں۔

اگر اسد درانی نے کتاب میں موجود مواد کی تردید نہیں کی تو پاک فوج نہ اس کی جرنیلی کا لحاظ کرے گی نہ بڑھاپے کا ۔۔۔۔۔ !

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here