آج دوسری عالمی جنگ میں لڑی گئی سٹالین گراڈ کی لڑائی میں فسطائی افواج پر سوویت یونین کے دستوں کی فتح کی 75 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔

0
476

آج دوسری عالمی جنگ میں لڑی گئی سٹالین گراڈ کی لڑائی میں فسطائی افواج پر سوویت یونین کے دستوں کی فتح کی 75 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔

سوویت شہر سٹالین گراڈ کے علاقے میں لڑائی سترہ جولائی سن 1942 سے دو فروری سن 1942 تک جاری رہی۔

سٹالین گراڈ کی لڑائی دوسری عالمی جنگ کے دوران لڑی جانے والی سب سے بڑی لڑائیوں میں سے ایک تھی- بے حد زیادہ فوجیوں نے اس میں حصہ لیا تھا اور بہت زیادہ فوجی سازوسامان استعمال کیا گیا تھا- یوں کہا جا سکتا ہے کہ 2 فروری 1943 کو دریائے والگا کے کناروں پر ساری دنیا کے مستقبل کا فیصلہ کیا گیا تھا- 200 دن تک جاری رہنے والی سٹالین گراڈ کی لڑائی میں سوویت افواج نے جرمنی کی دو آرمیوں، رومانیہ کی دو آرمیوں اور اٹلی کی ایک آرمی پر مشتمل فسطائی دستوں کو شکست دی تھی- جرمنی کی چھٹی آرمی کے کمانڈر فیلڈ مارشل Paulus کو فوجی قیدی بنا دیا گیا تھا-

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ وہ بھیانک لڑائی جہنم جیسی تھی- اس میں کل بیس لاکھ سے زیادہ افراد حصہ لے رہے تھے، چار ہزاز ٹینک اور طیارے، 26 ہزار توپیں زیر استعمال تھیں- فسطائیوں نے 17 جولائی 1942 کو سوویت شہر سٹالین گراڈ پر حملہ کیا تھا اور تب یہ کہنا مشکل تھا کہ فتح کس کی ہوگی- فسطائی افواج انتہائی مضبوط تھیں اور لڑائی کے پہلے مہینوں میں ان کی تعداد روسی فوجیوں کی تعداد سے کہیں زیادہ تھی- تاہم شہر کے محافظین وطن کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار تھے-

دشمنوں نے سٹالین گراڈ پر زبردست بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو گیا- سڑکوں پر لڑائیاں شروع ہوئی تھیں جو بہت شدید ثابت ہوئیں- سوویت فوجی اور شہر کے باشندے ہر مکان کی حفاظت کر رہے تھے- فضا میں بھی لڑائی ہو رہی تھی، بزرگ فوجی، سوویت یونین کے ہیرو Pyotr Bazanov نے بتایا- اس وقت ان کی عمر 19 سال تھی اور وہ پائلٹ کے طور پر سٹالین گراڈ کی لڑائی میں حصہ لے رہے تھے- انہیں اپنی پہلی پرواز اب تک یاد ہے-

پیوتر بازانوو نے بتایا: میں نے دشمن کا پہلا طیارہ 5 دسمبر کو مار گرایا تھا- یہ ایک مال بردار طیارہ تھا- میں نے پرواز شروع کرتے ہی اس طیارے کو دیکھا تھا اور اسے نشانہ بنایا- ایک ہی لمحہ بعد میں نے دیکھا کہ ایک جلتا ہوا طیارہ زمین پر گر رہا ہے- یہ سب یاد کرتے ہوئے مجھے خوف آ رہا ہے- جرمن فوج دریائے والگا تک پہنچنے کے لیے کوشاں تھی، تین سو سے چار سو تک طیارے بیک وقت فضا میں موجود تھے لیکن ہم نے فضا میں ان کا مقابلہ کیا تھا اور انہیں آگے بڑھنے نہیں دیا تھا- بہت زیادہ فوجی ہلاک ہوئے تھے- چند دستے دو تین دن تک لڑنے کے بعد مکمل طور پر ختم ہو جاتے تھے- لیکن ہمیں پورا یقین تھا کہ جیت ہماری ہوگی-

دریائے والگا فسطائیوں کے راستے میں ایک قدرتی باڑ بن گیا تھا لیکن موسم سرما میں اس کے باعث سوویت فوجیوں کو بھی بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا- سٹالین گراڈ کے زخمی ہونے والے محافظین کو دریا کے اس پار واقع اسپتال میں منتقل کیا جانا انتہائی مشکل تھا- دریا کا پانی پوری طرح نہیں جم گیا تھا اور جمی ہوئی برف اس قدر نازک تھی کہ نرسوں کے سوا جو سب نوجوان لڑکیاں تھیں، کوئی دریا کو پار نہیں کر سکتا تھا- سٹالین گراڈ کی لڑائی کی شریک Maria Koval نے کہا: میری سمجھ میں یہ بات اب تک نہیں آتی کہ ہم زخمیوں کو کیسے کھینچ پاتی تھیں جو ہمارے مقابلے میں دوگنا وزنی تھے-

ماریا کووال نے مزید بتایا: مجھے اتنا ڈر لگ رہا تھا کہ اس کا اظہار کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں- یہ سب بہت ہی مشکل تھا، ہم کمان، اپنے آپ کو اور دنیا کو ڈانٹ رہی تھیں اور بہت رو رہی تھیں- مجھے ایک زخمی کو ٹینک سے نکالنا پڑا تھا- وہ زور سے چلا رہا تھا، میں اس کی طرف رینگ کر آئی اور اسے باہر نکال لیا- مجھ میں اتنی طاقت کہاں سے آئی، پتہ نہیں- وہ گالیاں دے رہا تھا- وہ سب گالیاں دے رہے تھے اور میں انہیں تسلی دینے کے لیے وعدہ کر رہی تھی کہ میں ان کے لیے آسمان کا چاند لاکر پکاؤں گی اور انہیں کھلاؤں گی- پتہ نہیں مجھے چاند کے بارے میں یہ خیال کیوں آیا تھا- لیکن عملا ً تمام زخمی اس سوچ میں پڑ جاتے تھے کہ میں چاند کیسے لاؤں اور چیخنا بند کر دیتے تھے-

سٹالین گراڈ کی لڑائی نے دنیا کو ثابت کر دیا کہ فسطائیوں کو شکست دیا جانا ممکن ہے- اس کے بعد سوویت یونین کے اتحادی ممالک نے دوسرا محاذ کھولنے کا فیصلہ کر لیا-

جنگ کے خاتمے کے بعد پیرس کے ایک چوک کو سٹالین گراڈ کا نام دیا گیا اور بادشاہ برطانیہ نے حکم دیا کہ شہر کے محافظین کی دلیری کو داد دینے کے لیے ایک تلوار بنا کر انہیں تحفے کے طور پر پیش کیا جائے-

آج کل شہر سٹالین گراڈ کو والگا گراد کہتے ہیں- اس کے مرکز میں واقع مامائیو ٹیلہ پر سب سے خون ریز لڑائیاں ہوئی تھیں اور بعد میں وہاں دنیا کی سب سے بڑی مشترکہ قبر بنائی گئی- آج مامائیو ٹیلہ پر ایک بڑا میموریل ہے جس کا نام “مادر وطن کی پکار” ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here